پی 2 پی اور مارکسزم – پرانی نوع کی موت

تحریر:  جوناتھن کلائن ترجمہ : کامریڈ مبشر بشر کسی بھی سماجی تبدیلی کے عمل کا تقاضہ ہے کہ اس کو سمجھنے کے لیے ان نئے مظاہر کا ادراک کیا جائے جن سے اس تبدیلی کے وقوع پزیر ہونے کا ایک اشارہ بھی مل سکے۔ پیداواری عمل کا ایک نیا رجحان P 2 P کا ہے۔ جس میں رضا کارانہ تعاون کی بنیاد پر مصنوعات کی آزادانہ تقسیم عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس ویب سائٹ پر گزشتہ بحث کی بنیاد ایک دوسری بحث میں شرکت کا موجب بنی۔  P 2 P تحریک پر یوٹوپیائی تحریک کا الزام لگایا گیا۔ یہ سچ ہے کہ تحریک میں کچھ دور کے اور سہانے خیالات کا عنصر پایا جاتا ہے (جیسا کہ کسی بھی تحریک میں ہوتا ہے) مگر اس تحریک پر یوٹوپیا کا الزام لگانا مضحکہ خیز ہے۔ جو گزشتہ دس سے پندرہ سالوں سے دن دگنی اور رات چگنی ترقی کر رہی … Read more

لینن کی وفات

Trotsky

تحریر: کامریڈ ٹراٹسکی کامریڈ لیون ٹراٹسکی کے 76 ویں یوم شہادت پر کامریڈ کی سوانح عمری “میری زندگی” (My Life) سے ایک اقتباس جو تاریخی حقائق پر مبنی ہے۔ اپنے پڑھنے والے ساتھیوں کے نام امید ہے وہ اپنی جدوجہد کی ان انقلابیوں کی طرح مرتے دم تک جاری رکھیں گے۔  انتخاب:  کامریڈ متین آصف  مجھ سے پوچھا جاتا اور اب بھی پوچھا جاتا ہے۔ ’’تم اقتدار سے کیسے محروم ہوئے؟‘‘بہت سی صورتوں میں یہ سوال بڑا سادہ اور معصوم لگتا ہے۔ جیسے کوئی سیال یا مادی چیز ہاتھ سے پھسل گئی ہو۔ پانی یا کوئی کتاب ہاتھ سے نکل گئے ہوں۔ بات یہ ہے کہ طاقت ایک آنی جانی چیز ہے۔ اسے کسی مرحلے پر کھونا بھی ہوتا ہے۔ پرامن طریقے سے یادوسری طرح۔ یعنی انقلابی حلقے میں نظریات کے انحطاط کی وجہ سے، یا پھر عوام کا انقلابی مزاج بدل جانے سے۔ یہ دونوں چیزیں بیک وقت بھی … Read more

آزادی کے زخم

partition cartoon copy

تحریر: کامریڈ الطاف بشارت 14اگست 1947کو رات 12:02 منٹ پر پاکستان کا جاگیر دار – سرمایہ دار(جو چوری اور ڈاکہ زنی سے جاگیردار اور سرمایہ دار بنا یا اپنے سامراجی آقاؤں کی دلالی کے انعام کی صورت میں) ، وحشی ملاں، جاہل پنڈت ، قومی و نسلی عصبیت کے جن ، ہندوستان کے بنیاد پرست ہندوبنیے ، وڈیرے، پروہیت ، ساہوکاراور تاجر تو آزاد ہو گئے تھے۔ مگر دونوں اطراف کا عام آدمی، مزدور، کسان ، دیہاڑی دار،ریڑھی بان ، طالب علم، بحیثیت مجموعہ محنت کش طبقہ ، غربت ، نفرت ، جہالت، تعصب ، بربریت، حوانیت و سفاکیت کی بھینٹ چڑھ گیا۔درحقیقت زمین کے گرد باڑ لگانے سے سماج کے طاقتورطبقات تو آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر وہ شعوری بدمعاشی کے ذریعے جھوٹ ، فریب دھونس ، ظلم و جبر کا سہارہ لے کر اپنے غلاموں کو آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی غلامی کے تصور کو ذہن سے … Read more

اس آزادی کے کیا معنی ؟

اس آزادی کے کیا معنی؟ کیسے حقائق سے نظر چرائیں ہم کس آزادی کا جشن منائیں ہم؟ جہاں ہر طرف بے بس، بد حال چہرے ہیں جہاں ہر طرف بھوک و افلاس کے ڈیرے ہیں جہاں سینکڑوں نے کروڑوں کے مقدر گھیرے ہیں جہاں روشنی کا امکان نہیں بس اندھیرے ہی اندھیرے ہیں اس آزادی کے کیا معنی؟ کیسے حقائق سے نظر چرائیں ہم کس آزادی کا جشن منائیں ہم جہاں ہر طرف دہشت اور خوف کے سائے ہیں جہاں ہر طرف غم والم کے بادل چھائے ہیں جہاں کلیاں بھی مسلی ہیں جہاں پھول بھی مرجائے ہیں جہاں موت کی دہائی دیں جو زندگی کے ستائے ہیں اس آزادی کے کیا معنی؟ کیسے حقائق سے نظر چرائیں ہم کس آزادی کا جشن منائیں ہم جہاں مٹی کے پاسباں ہی مٹی کے غدار ہیں جہاں بے ایماں ہیں وہی، جو ایماں کے علمبردار ہیں جہاں سیاستداں ہیں وہ، جو جہاں … Read more

آزادی مگر کس کی؟

14-august-independence

تحریر: کامریڈ اے اے خان آزادی کی تحریکیں دراصل معاشی محرومی سے نجات پانے کی تحریکیں ھوتی ھیں۔ معاشی محرومی دراصل اس طبقاتی تفریق کا آئینہ دار ھوتی ہیں جس کا آغاز کرہ ارض پہ پہلے انسان کی تخلیق سے ھو گیا تھا۔ جس نے آگے چل کر انسانی تاریخ کو طبقاتی تاریخ بنا دیا یعنی دنیا کی تاریخ دوطبقات کی باھمی تفاوت کی تاریخ ھے۔ جو کبھی آقا و غلام کبھی جاگیر دار اور مزارع کبھی سرمایہ دار اور مزدور کبھی حاکم اور محکوم کبھی ظالم اورمظلوم کں شکل اختیار کرتی ھے۔ برصغیر پر تاج برطانیہ کں عملداری کا آغاز ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد سے ھو گیا تھا۔ اس وقت سے ھی برصغیر کے عام محنت کشوں کے برطانوی حکمرانوں اور ھندوستانی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی جانب سے کیے جانے والے استحصال کا بھی آغاز ھوتا ہے۔ اس استحصال کے خلاف جدوجہد بھی ساتھ ساتھ چلتی ھے … Read more

آزاد کشمیرانتخابات

kashmir elections

تحریر : کامریڈ متین آصف 21جولائی کو کشمیر میں ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حکمران جماعت نواز لیگ کی بڑے پیمانے پر کامیابی نہ صرف اکثریتی محنت کش طبقے کی زندگی میں مزید مشکلات اور تنگی کا باعث بلکہ کئی دہائیوں سے چلے آنے والے مسئلہ کشمیر پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔ کشمیری عوام کو ایک غیر سیاسی حقیقی ’جمہوری آمریت‘ میں دھکیل دیا گیا ہے۔ لازمی طور پر ان انتخابات میں دھاندلی کی کمزور سی بازگشت بھی سنائی دی، قبل از انتخاب اور بعد از پولنگ نتائج مرتب کرتے ہوئے کی جانے والی دھاندلی سے کسی طور پر بھی انکار ممکن نہیں۔ کشمیر کے انتخابات پر تحقیق کرنے والے سیاسیات کے طالبعلوں کے ایک گروپ کے مطابق: ’’اس امر سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ ہر اک حلقہ انتخاب میں 5000سے 7000غیر قانونی ووٹ کاسٹ کئے گئے ہیں۔ یہ ممکن … Read more

ترکی: گزشتہ ہفتے کی ڈریس ریہرسل کے بعد اب ہم حقیقی بغاوت دیکھ رہےہیں

تحریر:   تائیفن ہیتپگلو ترجمہ :   کامریڈ الطاف بشارت فوجی باغی یونٹس کی طرف سے قیاس کی گئی مضحکہ خیز بغاوت کے بعد ہر گزرنے والے دن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اردگان حکومت نے ایک حقیقی بغاوت کو آپریشن میں ڈال دیا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا شعبہ بھاری مسھل (تطہیر)  کے عمل سے گزر رہا ہے۔ پہلے ہی 60،000 سے زائد ریاستی ملازمین کو گرفتار یا نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ اور کئی زیادہ لوگوں سے ان کے ساتھیوں کی طرف سے فرضی دئیے جانے والوں ناموں کی بنیاد پر تفتیش کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔ آمروں کی طرف سے بنائی جانے والی اس طرح کی تکینک  تاریخ میں ہم پہلے دیکھ چکے ہیں۔ ہٹلر نے ٹاگ (Reichstag) ،جرمنی کی پارلیمنٹ، کو جلایا اور پھر ایمرجنسی حالات کو متعارف کرانے کے لیے کیمونسٹوں پر الزام لگاتے ہوئے تمام تر ایگزیکیٹو طاقت کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ … Read more

جولائی 5 : نظریاتی پسپائی کا سبق

5 julay ka sabqa

تحریر :    کامریڈ اے اے خان کامریڈ  ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ ’’ گاڑی چلانے کا سب سے محفوظ طریقہ یہ ہے کہ سامنے دیکھنے کے ساتھ ساتھ بیک مرر یعنی پیچھے دیکھنے والے شیشے پر نظر مرکوز رہے ‘‘ محض سامنے دیکھنے سے ڈرائیور سامنے سے آنے والے کسی حادثے سے تو گاڑی کو بچا سکتا ہے لیکن گاڑی کوحادثہ کسی پیچھے سے آنے والے کی وجہ سے بھی پیش آ سکتا ہے۔کامریڈ ٹراٹسکی کی اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے آج ہم پاکستانی سیاسی تاریخ کے سیاہ ترین واقع 5 جولائی 1977ء کے مارشل لاء کو زیر بحث لانے اور اس کا درست تجزیہ کرنے کے لیے اس سانحے سے پہلے کے حالات کاجائزہ لینا از حد ضرور ی ہے۔ 60کی دہائی میں ایوبی آمریت کے دس سالہ دور میں سرمایہ دارانہ نظام میں ایک عارضی ابھار کے نتیجے میں پاکستان میں بھی صنعتی و معاشی … Read more

یورپی یونین سے علیحدگی کی کچھ وجوہات اور نتائج

تحریر :  پٹ بائرن  ترجمہ : کامریڈ الطاف  یورپی یونین کو چھوڑنے کے لیے 48 کے مقابلے میں 52 فیصد غیر متوقع ووٹ نے دنیا بھر کی اشرافیہ (حکمران طبقے ) کو لرزا دیا ہے ۔وہ صرف اس لیے پریشان نہیں ہیں کہ برطانیہ یورپی یونین کو چھوڑنے کے بعد کساد بازاری میں جائے گا بلکہ باقی عالمی معیشت کو بھی سست کر دے گا۔ وہ اس بات سے بھی پریشان ہیں کہ طویل مدت میں خود یورپی یونین کی تحلیل کا آغاز ہو سکتا ہے ۔ مزیدبرآں ، ان کی پریشانی کا ایک سبب یہ بھی ہے  کہ برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلا کا  یہ ووٹ عالمی سرمایہ داروں کو مسترد کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا عکاس اور ان کے مقابلے میں ٹرانس اٹلانٹک اورسرمایہ کاری کی شراکت کی بنیاد پر کارپوریٹ نواز تجارتی معاہدوں کا عذاب ان کا منتظر ہے جس کو بہتر طور پر ٹی … Read more

مارکس ازم یا لینن ازم ؟

مارکس ازم یا لینن ازم ؟

تحریر :   روزا لکسمبرگ  ترجمہ:    اکرم گل حصہ دوم ابھی تک ہم نے سوشل ڈیموکریسی کے عام اصولوں اور کسی حد تک روس کے مخصوص حالات کی روشنی میں مرکزیت کے مسئلے کا جائزہ لیا ہے۔ تاہم لینن اور اس کے دوست جس ملٹری الٹرا سنٹرلزم کا شور مچا رہے ہیں وہ حادثاتی اختلافِ رائے کا نتیجہ نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ موقع پرستی کے خلاف مہم ہے جسے لینن نے معمولی تنظیمی جزیات تک گھسیٹا ہے۔ صفحہ نمبر 52 پر لینن کہتا ہے کہ ’’اہمیت اس بات کی ہے کہ موقع پرستی کے خلاف ایک کم وبیش موثر ہتھیار بنانے کی ضرورت ہے۔‘‘ اسے یقین ہے کہ موقع پرستی خاص طورپر دانشوروں کی غیر مرکزیت پسندی، بدنظمی اور بیوروکریسی کے سخت ڈسپلن، جو پارٹی چلانے کے لئے ضروری ہے، سے پہلو تہی کے رجحان سے جنم لیتی ہے۔ لینن کہتا ہے کہ دانشور سوشلسٹ تحریک … Read more