آزادی کے زخم

تحریر: کامریڈ الطاف بشارت

14اگست 1947کو رات 12:02 منٹ پر پاکستان کا جاگیر دار – سرمایہ دار(جو چوری اور ڈاکہ زنی سے جاگیردار اور سرمایہ دار بنا یا اپنے سامراجی آقاؤں کی دلالی کے انعام کی صورت میں) ، وحشی ملاں، جاہل پنڈت ، قومی و نسلی عصبیت کے جن ، ہندوستان کے بنیاد پرست ہندوبنیے ، وڈیرے، پروہیت ، ساہوکاراور تاجر تو آزاد ہو گئے تھے۔ مگر دونوں اطراف کا عام آدمی، مزدور، کسان ، دیہاڑی دار،ریڑھی بان ، طالب علم، بحیثیت مجموعہ محنت کش طبقہ ، غربت ، نفرت ، جہالت، تعصب ، بربریت، حوانیت و سفاکیت کی بھینٹ چڑھ گیاpartition-of-india۔درحقیقت زمین کے گرد باڑ لگانے سے سماج کے طاقتورطبقات تو آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر وہ شعوری بدمعاشی کے ذریعے جھوٹ ، فریب دھونس ، ظلم و جبر کا سہارہ لے کر اپنے غلاموں کو آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی غلامی کے تصور کو ذہن سے نکال کر ان کی آزادی اور اپنی بربادی کا جشن منائیں۔

ایسا ہی جشن 14اور 15اگست کو، پاکستان اور ہندوستان میں ایک خونی بٹوارے، محنت کشوں کی تحریک کے قتل عام اور انسانی خون کی ندیوں کا ، منایا جاتا ہے۔اس روز کا جشن جس روز ماؤں کی ممتا کا تقدس مجروح ہوا، خونی رشتے تقسیم ہوئے ، خواب ، امیدیں اور آسیں منقسم اور انسانیت کی تذلیل ہوئی۔ شائد اسی پہرائے میں لینن نے کہا تھا کہ : ’’ جہاں پر ریاست ہوتی ہے وہاں پر آزادی نہیں ہو سکتی اور جہاں آزادی ہوتی وہاں ریاست نہیں ہوتی۔‘‘ ایسا ہی برصغیر کی تقسیم کے وقت دیکھنے میں آیا تھا۔ اور آج اگر ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو اس بات میں صداقت ضرور نظرآئے گی ۔ سرمایہ دارانہ سماج میں چھوٹی چھوٹی نئی ریاستوں کی بنیاد یا تو طاقتورپرتوں کو کچھ سہولیات مہیا کرتی ہے یا پھر ریاست پر قابض ہو جانے والے بالادست طبقات ان تقسیموں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ محکوم و مجبور عوام ریاستوں کی تخلیق سے پہلے ممکنہ طور پر کچھ بہترہجرت حالات میں زندگی بسر کرتی ہے مگر تقسیموں کے نتیجے میں ایک نئی قید میں جانے کے بعد ان کے حالات زندگی انتہائی دگرگوں کیفیت میں چلے جاتے ہیں ۔ایسا ہی عمل 1946میں ہونے والی جہازیوں کی بغاوت کے بعد برصغیر کی تقسیم کی سازش کے بعد ہندوستان اور پاکستان میں بھی ہوا۔ تاریخ کی بدترین ہجرت اور آگ و خون کے دریا کو عبور کرنے کے بعد چند ناہنجاروں کو نوازنے اور اپنا اقتدر برقرار رکھنے کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی (برطانیہ ) نے برصغیر کو ایک خونی لکیر کے ذریعہ چیر دیا نہ صرف اتنا بلکہ اس کو مزید خونی تقسیموں کی بنیاد بناکر چھوڑ دیا۔ ایک ایسا ناسور جس سے آج تک تازہ لہو کے چھینٹے رس رہے ہیں۔

مزید برآں ،ہمارے نصاب میں درج تاریخ کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہے۔ نہ صرف تاریخی حقائق کو مسخ کیا گیا ہوا ہے ۔ بلکہ تعصب و نفرت کی وہ فضاء قائم کی گئی ہے جس میں پیدا ہونے والے بچو ں کو شروع دن سے ہی یہ سبق دیا جاتا ہے کہ ہمارا سب سے بدترین دشمن انڈیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کافر ہیں اور ہمارے مذہب کے خلاف ہیں ۔ مذہب پر سب سے پہلا حملہ بھی سرمایہ داری نے اپنے آغاز میں کیا تھا، اور پھر اپنے مفادات کے دفاع کے لیے سب سے بڑے ہتھیار کے طور پر بھی مذہب ہی کو استعمال کیا گیا ۔ مگر جس بے رحمی اور کثرت سے مذہب کا استعمال پاکستان میں ہوا اور اب تک ہو رہا ہے تاریخ میں اسکی مثال کہیں نہیں ملتی۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری عالمی جنگ کو جواز بخشنے اور لمبے عرصہ تک جاری رکھنے کے لیے تخلیق کئے جانے والے ’حب الوطنی‘ کے فرسودہ فلسفے کا استعمال بھی اسی شدت سے کیا جا رہا ہے جس طرح مذہب کا۔ اپنے مدمقابلوں پر غدار اور ایجنٹ ہونے کا فتوی صادر کرتے ہوئے حقائق کو مسخ کرتے ہوئے لوگوں کے اذہان میں ایک عجیب سا خبط انڈیلا جا رہا ہے۔

تقسیم کے محرکات
تاریخ کے اس مقام پر جب تقسیم کے زخم ہر اک روح کو گائل اور ہر جسم کر مردہ کر چکے ہیں یہ بحث لا حاصل ہے کہ ’آیا اس تقسیم کو روکا جا سکتا تھا یا نہیں !‘ آج اہم سوال یہ ہے کہ اس تقسیم سے پھوٹنے والی بربادیوں سے نجات حاصل کرنے کا راستہ کیا ہے؟ جب بھی کسی سوال کا جواب تلاش کیا جانا ہوتا ہے تو لازمی طور پر اس کی بنیادی محرکات سے رجوع کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ انتہائی بودی دلیل ہے کہ برصغیر کی تقسیم دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہوئی تھی ۔

برصغیرکی تقسیم اور پاکستان کی تخلیق کا سبب بننے والی تحریک کی بنیادیں شمالی ہندوستان کے ان مسلمان اشرافیہ کے انیسویں صدی کے بحران میں ملتی ہیں جن کے آبا و اجداد وسطی ایشاء، عرب اور ایران سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ اس بحران کی ایک اہم وجہ نوآبادیاتی سرکار کا وہ فیصلہ تھا جس کے تحت فارسی کا سرکاری زبان کی حیثیت سے خاتمہ تھا۔ جو کہ اشرافیہ کی زبان تھی۔ یہ دلیل اسی فیصلے کی بنیاد پر حقائق مسخ کرتے ہوئے دی جاتی ہے کہ مسلمانوں پر روزگار کے دروازے بند کر دئیے گئے تھے ، اور ہندوں کو نوازا جا رہا تھا ۔ یہ دلیل بھی تعصب و نفرت پر مبنی ہے جس کا مقصد آنے والی نسلوں کے ذہنوں میں نفرتوں کے بت تراشتے ہوئے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان فارسی پڑھنا لکھنا بہتر جانتے تھے جبکہ کے انگریزی سے نابلد تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب برصغیر میں انگلش کو دفتری زبان کا درجہ دیا گیا تو صرف چند ایک مسلمان تھے جو انگریزی جاننے کی بنیاد پر روزگار میں گئے جبکہ اکثریتی لوگ اس بنیاد پر دفتری امور سرانجام دینے کے اہل نہ رہے کیونکہ وہ نئی دفتری زبان انگریزی سے ناآشنا تھے۔ جب کہ ہندو اکثریتی لوگ انگریزوں کے ساتھ کام کرنے کی بنیاد پر انگریزی زبان کا شعور رکھتے تھے۔

’ ’اس صورتحال نے مسلمان تنخواہ دار طبقے ، نئے پیشہ وارنہ اور دیگر طبقات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر دی تھی۔ جس سے ہندو مسلم مقابلے کے ایک رجحان نے جنم لیا۔ دشمنی کا یہ رویہ تمام مسلمانوں اور ہندوں میں نہیں تھا بلکہ مسلمان اور ہندو تنخواہ دار طبقے، مسلمان اشرافیہ بالمقابل ہندو خدمتگار ذاتوں مثلاً کتھریوں، کائستھ ، شمالی ہندوستان میں کشمیری برہمن اور بنگال کے برہمن اور بدھیاس (Vaidhya) کے درمیان تھا۔اس صورتحال کی وجہ سے مسلمان اشرافیہ نے اپنے مفادات کے تحفظات کے لیے مسلمانوں کے لیے الگ کوٹہ مختص کئے جانے کا مطالبہ شروع کر دیا ۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے معاشرے کے بڑے گروہ متحرک کر کے ان کی حمایت حاصل کر لی اور بالخصوص زمین داروں اور خوشحال کسانوں سے اپنے نامیاتی تعلق کی وجہ سے اس سارے جھگڑے میں مذہبی نظریہ بندی کا کوئی کردار نہ تھا۔ اور معاشرے کے مسلمان اور غیر مسلم گروہوں ، معاشرے کے باقی ماندہ افراد کا تنخواہ دار طبقے کی اس سیاست سے معاشرے کے دیگر افراد کا کوئی مفاد وابستہ نہ تھا۔‘‘

مسلمان اشرافیہ کا دوسر ا گروہ ان علماء اور مذہبی اسکالرز پر مشتمل تھا جو عربی اور فارسی زبان کے ساتھ ساتھ شریعتی قوانین پر بھی مہارت رکھتے تھے ۔ ان کا پس منظر بھی کم و بیش اوپر بیان کئے گئے طبقات سے بڑی حد تک مماثلت رکھتا تھا۔ لیکن ان گروہوں کے مفادات میں ، بالخصوص انگریزی زبان اور سائنسی ثقافت کی طرف پائے جانے والے رجحانات کے باعث ، بہت بڑے تضادات تھے۔ نوآبادیاتی سرکار کے نئے قوانین متعارف کروائے جانے سے قبل تنخواہ دار اوربالا طبقے کے لوگ ان کے پاس عربی اور فارسی سیکھنے کے لیے آتے تھے لیکن نئے قوانین کے باعث ان سے ان کا یہ کردار بھی چھن گیا۔ ان وجوہات کی بنیاد پر علماء کا شدت کے ساتھ کھل کر انگریزوں کے سامنے آنا حیرت کا باعث نہیں تھا۔ انہوں نے نہ صرف انگریزی زبان اور نئے قوانین کی مخالفت کی بلکہ کلی طور پر انگریز حکومت کے خلاف ہو گئے۔ مولوی حضرات شروع میں انتہائی شدت پسند تھے لیکن 1857کی قومی بغاوت میں ناکامی کے بعد انہیں مدرسوں تک محدود ہونا پڑا۔ بہت مدت بعد گاندھی کی زیر قیادت ہونے والی خلافت تحریک کے نتیجے میں مذہبی انتہاپسندوں کو انڈیا کی مسلمان سیاست میں دوبارہ اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ہاتھ لگ گیا۔

ان کے ساتھ ساتھ تیسرا گروہ زمین داروں اور جاگیر داروں پر مشتمل تھا جو ان قوانین سے تو برائے راست متاثر نہ ہوا تھا مگر ان طبقات کے پروپیگنڈہ کے باعث نئے آنے والے تنخواہ دار طبقے کی وجہ سے اس گروہ کے بھی تحفظات تھے۔ تاہم یہ تمام گروہ غریب کسانوں، جولاہوں، دستکاروں (بحیثیت مجموعی محنت کش طبقے ) کو انتہائی نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اور اس پوری تحریک میں عام آدمی کا کوئی بھی کردار نہ تھا۔٭

ان تمام سے بڑھ کر اہم بالشویک انقلاب کے اثرت تھے جنہوں نے پورے خطے کے نوجوانوں کو انقلابی نظریات کی طرف راغب کیا تھا۔ غدر تحریک کے نتیجہ میں برطانوی سامراج ایک بوکھلاہٹ کا شکار تھا۔ جس کو کم کرنے اور ان نظریات کا راستہ روکنے کے لیے گاندھی اور مسلم لیگ کا گھٹیا کردار کام آیا اور بجائے برصغیر سے برطانوی انخلا ء کے ہندو اور مسلمان اشرافیہ کو ساتھ ملاتے ہوئے سامراج نے تقسیم کی سازش پر کام شروع کر دیا۔ رفتہ رفتہ وقتی طور پر دبائی جانے والی یہ چنگاری 1946میں جہازیوں کی بغاوتجہازیوں کی بغاوت کی صورت میں شعلہ بنی ، جس میں نہ تو کوئی ہندو تھا اور نہ ہی مسلمان بلکہ سماج کی تمام پرتیں بلا تقسیم رنگ ، نسل ، علاقہ و مذہب اس بغاوت میں شامل ہوئیں ۔ اس بغاوت کی شدت کو دیکھتے ہوئے برطانوی سامراج کوا پنے انخلاء کا اعلان کرنا پڑھا۔ اور جناح نے تقسیم کی حمایت کی وکالت کرتے ہوئے برطانوی لارڈ کو کہا تھا کہ : ’’اگر ہم اس سرخ آندھی کا راستہ روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں برصغیر کی تقسیم کو ہر حالت میں یقینی بنانا ہوگا۔‘‘

مزیدبرآں ، تقسیم کے اس خونی کھیل میں بالشویک انقلاب پر کُو کرنے والے آمر اسٹالن اور اس کے حواریوں نے بھی انتہائی گھٹیا کردار اداء کیا۔ روس سے جاری کئے جانے والے خط کے متن کے مطابق کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا کو ہدایات جاری کی گئیں کہ: ’’یہ وقت ہے کہ ہم قومی خود مختاری کی حمایت کا اعلان کریں۔ لہٰذا مسلمان کامریڈ مسلم لیگ اور ہندو کامریڈکانگریس کے ساتھ مل کر اس تقسیم کے لیے جدوجہد کریں۔ ‘‘ اور پھر کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا نے بھی نظریاتی غداری کرتے ہوئے اس خونی کھیل میں اپنا حصہ ادا کرتے ہوئے بالشویک انقلاب کے قتل کی طرح برصغیر کے محنت کشوں کی تحریک کو قتل کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے قومی جمہوری انقلاب کے بانجھ پن کو ظاہر کیا ۔ اور یوں ایک خطے کے محنت کشوں کے مستقبل کو سامراجی چکی میں پسنے کے لیے چھوڑ دیا گیا اور ایک خونی تقسیم کی حمایت کی گئی جس نے لاکھوں انسانوں کے خون سے چشموں اور دریاؤں کے پانیوں کو سرخ کر دیا۔ ایک انقلاب کو قتل کرنے میں انقلاب کے دعوی داروں نے بھی بنیاد پرستوں کے ساتھ اپنارجعتی کردار اد ا کیا یوں ، ہندو اور مسلمان اشرافیہ اور سامراجی مفادات کی بنیاد پر اس خطے کو تقسیم کر کے انسانیت کی اکثریت کو بھوک، بے روزگاری، نفرت ، عصبیت، جہالت ، خونریزی ، غلامی ، بربریت کی ایک تاریک کھائی میں دھکیل دیا گیا۔جون اولیا کا یہ کہنا حرف بہ حرف صادق آتا ہے کہ : ’’پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش تھی۔‘‘

یوں برصغیر کی ایک سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام اور برطانوی سامراج کے خلاف چلنے والی ایک بہت بڑی تحریک کو انتہائی شاطرانہ سازش کے ذریعے ، نسلی و مذہبی تعصب کی بنیاد دیتے ہوئے برصغیر کو دولخت کر دیا گیا ۔

ریاستوں کا قیام اور عوام کی زبوں حالی
اینگلز نے کہا تھا کہ: ’’ریاست حقیقت میں کچھ نہیں ہوتی لیکن ایک طبقے کے ہاتھوں دوسرے طبقے کے استحصال کے آلہ کے سوا۔‘‘ فلاسفروں کی تخیلاتی ریاستوں کے تصور کے برعکس قومی ریاستوں کی تخلیق سرمایہ دارنہ نظام کے آغاز سے شروع کی گئی۔ اپنی اجناس کی کھپت اور نئی تجارتی منڈیوں کے قیام کے لیے ضروری تھا کہ مخصوص حدود اور مخصوص علاقوں پر محیط ایسے ادارے قائم کئے جائیں جو تجارتی مفادات کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ اس کے لیے نئے راستے کھولیں ۔ یہی وجہ تھی کہ آج کی ریاستوں کی بنیاد رکھی گئی۔ ذرائع پیدوار کی ترقی کے ساتھ ہی رہن سہن کے نئے ڈھانچوں کے لیے ریاستوں کی بنیاد رکھی گئی۔ ریاستیں بنیادی طور پر اکثریتی طبقے (محنت کش طبقے) کومحکوم و مظلوم رکھنے اور بالادست طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں جبر کاآلہ ہوتی ہیں۔ ریاستوں کی تخلیق نہ صرف محنت کشوں کی زندگیوں میں مزید مصائب کا باعث ہوتی ہیں بلکہ حکمران طبقے کے نفع اور مفادات کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔ ریاستوں کی تخلیق سے نجی ملکیت اور نجی ملکیت سے استحصال کی بنیاد رکھی گئی ۔

تاہم ابتدائی قومی ریاستوں نے کچھ ترقی پسندانہ کردار ادا کیا ۔ مگر زرائع پیداوار کی ترقی کے ساتھ ہی ساتھ قومی ریاست کی حدود اس قابل نہ رہیں کہ وہ ان کو قید میں رکھ سکیں اسی وجہ سے سامراج نے تقریباً ڈیڑھ صدی قبل ریاستوں کی تخلیق کے عمل کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے بعد تخلیق ہونے والی کوئی بھی ریاست نہ تو ترقی کر سکی اور نہ ہی عام عوام کی زندگیوں میں دکھ ، تکلیف و بربریت کے سوا کوئی بہتری لا سکی۔ جس کی واضع مثال پاکستان ، ہندوستان اور اسرائیل ہیں۔

hqdefaultتقسیم برصغیر پر سعادت حسن منٹو نے درست کہا تھا۔’’ ہندوستان آزاد ہو گیا تھا۔ پاکستان عالم وجود میں آتے ہی آزاد ہو گیا تھا۔ لیکن انسان دونوں مملکتوں میں غلام تھا۔ تعصب کا غلام۔۔۔۔۔ مذہبی جنون کا غلام ۔۔۔۔۔۔ حوانیت و بربریت کا غلام ۔۔۔۔‘‘

آزادی کے زخم!
اور آج خونی تقسیم کے 70سال بعد، کشمیری عوام حق خود اختیاری کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے کرتے تھک چکی ہے۔ پاکستان برطانیہ کی تسلط سے نکلنے کے بعد فوج اور مقامی لٹیروں کے ہاتھ یرغمال ہو کر امریکی سامراج کے ایک دلال کا کردار ادا کرنے پر مجبور ہے۔دوسری طرف ہندوستان بھی سامراجی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے ایک گلی کے غنڈے کا کردار ادا کرنے پر مجبور ہے۔ دونوں اطراف میں۔بربریت ننگا ناچ ناچ رہی ہے۔ بھوک ہر آنگن میں آسیب کی طرح ڈیرے ڈالے بیٹھی ہے۔ زندگی موت کو صدائیں دے رہی ہے۔ ظلم ہر روز لاکھوں کی تعداد میں بچے جن رہا ہے۔ بے روزگاری کا ناسورایک لعنت کی طرح سماج کے لیے سرطان بن چکی ہے۔ بلوچستان سے ہر روز مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں۔ پختون غداری کا طوق گلے میں لٹکائے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ غیرت کے نام پر عورتوں کا قتل عام ایک پسندیدہ رسم بن چکی ہے۔ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنگال میں دو لاکھ ناجائز بچے پیدا کئے گئے۔ دہشت گردی سب سے بڑی فصل بن چکی ہے ۔ ملائیت و وحشت کا راج عروج پر ہے۔ بھوک مٹانے کے لیے جسم بیچنا سب سے بڑا کاروبار ہے۔ گھر آباد رکھنے کے لیے بچوں اور اپنے جسمانی اعضاء بیچنا سب سے بڑی صنعت ہے۔ جھوٹ اور فریب حکمرانوں کا پسندیدہ کھیل ہے۔آزادی کے زخم تعلیم کے نام پر جہالت اور تاریخ کے نام پر جھوٹ ذہنوں میں بھرناحکمران طبقات کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔ تعصب اور نفرت کی فصل ہر موسم میں پکتی ہے ہر موسم میں بوئی جاتی ہے ہر موسم میں کاشت کی جاتی ہے۔ علیحدگی کے نام پر قومی ، لسانی ، جنسی و گروہی تعصبات عام ہوتے جا رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ سماج میں انسانیت دم توڑتی جا رہی ہے۔ تاہم ملا مسجدوں میں بچوں کا جنسی استحصال کرنے کے لیے آزاد ہوئے ہیں۔ جاگیر دار ، کسانوں اور غریبوں کی جوان اولادوں کو رکھیل بنانے کے لیے آزاد ہوئے ہیں۔ سرمایہ دار غریبوں کا خون چوسنے کے لیے آزاد ہوئے ہیں۔ اور جرنیل زمینوں پہ قبضے اور عوامی آراؤں اپنی آمریت کو دوام بخشنے کے لیے آزاد ہوئے ہیں۔یہاں کوئی غلام نہیں رہا! بس انسانیت غلام ہو گئی انسان کی۔ اگر یہی آزادی ہے -اگر یہی ریاست ہے-اگر یہی قومی نظریہ ہے۔ تو میں ایسی تمام تر غلاظتوں پر لعنت بھیجتا ہوں۔

مستقبل
سرمایہ دارنہ سماج کی کوکھ سے ان غلاظتوں کے علاہ کسی بھی چیز کے نکلنے کی امید رکھنا آج کے عہد میں احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ آج یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ان سماجی اور تاریخی غلاظتوں پر جھوٹا فخر کرنے کے بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کی فکر کرتے ہوئے ایک بہتر سماج کی تعمیر کے لیے آگے بڑھیں ۔ یہ بحث لاحاصل ہے کہ آیا اس وقت برصغیر ایک سوشلسٹ فیڈریشن بن سکتا تھا یا نہ۔ آج ضروری ہے کہ ان تمام تر غلاظتوں کے خاتمے کے لیے اور انسانیت کی بہتری کے لیے ایک اشتراکی ، منصفانہ سماج کے لیے آگے بڑھا جائے۔ جہاں بھوک ، افلاس ، ننگ ، غربت ، محرومی ایک گناہ ہو۔ جہاں جنسی ، لسانی ، علاقائی ، قبیلائی ، مذہبی ، گروہی اور تمام طرح کے غلیظ تعصبات کے لیے کوئی گنجائش موجود نہ ہو۔ جہاں وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو۔ جہاں انسان پر انسان حکمرانی نہ کرے۔ جہاں تمام انسان برابر ہوں ۔ اور تمام تر انسانیت کی حکمرانی فطرت پر قائم ہو۔ جہاں کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ جہاں حق بات کہنے پر گردنیں نہ کاٹی جائیں ۔ جہاں ظلم کرنے پر فخر نہ کیا جائے۔ جہاں ظلم سہنے کو صبر کا نام نہ دیا جائے۔ جہاں تعلیم کے نام پر تعصب کا کاروبار نہ ہو۔ جہاں عزت کا پیمانہ دولت نہ ہو۔ جہاں بھوک مٹانے کی خاطر جسم نہ بیچے جائیں ۔ جہاں جھوٹی انا کی تسکین کے لیے تاریخ نہ مسخ کی جائے۔ جہاں صرف انسانیت ہو، محبت ہو، امن ہو ، بھائی چارہ ہو ، احساس ہو، پیار ہو۔ ایسا صرف اور صرف ایک سوشلسٹ سماج ، ایک سوشلسٹ فیڈریشن کی صورت میں ممکن ہے۔

یہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ : جہاں اس پیمانے کی خونریزی ہوئی ہو، جہاں اتنی نفرتوں کے بیج بوئے گئے ہوں ، جہاں اس قدر تعصب کو پروان چڑھایا گیا ہو وہاں کیونکر ایسا ممکن ہو سکتا ہے؟

اس سب کے لیے سب سے پہلے تو اس فرسودہ نصاب تعلیم کو ختم کیا جائے جس کی بنیاد جھوٹ اور نفرت پر ہے۔ مسخ شدہ تاریخ کو پھر سے حقیقی بنیادوں پر یعنی تاریخی مادیت کی بنیاد پر مرتب کیا جائے۔ طبقاتی تفریق کا خاتمہ کیا جائے۔ شخصی تاریخ کے بجائے حقیقی تاریخ کو عام کیا جائے۔ ایک نئی نسل کی ذہن سازی کی جائے۔ اجناس کی پیدوار کے مقاصد کو تبدیل کر تے ہوئے نفع کے بجائے انسانی ضروریات کی تکمیل کی بنیاد پر مرتب کیا جائے۔ انسانیت کو تقسیم کرنے والی خونی لکیروں کو ختم کرنے کے لیے راستے ہموار کئے جائیں۔ لازمی طور پر انسانیت کی بقاء صرف اور صرف ایک سوشلسٹ سماج کے قیام میں ہی مضمر ہے۔ یقیناًمستقبل انسانیت کا ہے نہ کہ تعصبی اور مذہبی جنونیوں کا۔ جدوجہد ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے اس سماج کو اس دنیا کو حقیقی انسانی سماج میں بدلا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی راستہ موجود نہیں جس پر چل کر ماضی کے تما دکھوں، تمام غموں، تمام غلطیوں اور تمام زخموں کا مداوا ہو سکے۔ آگے بڑھیں مستقبل انسانیت کا ہے بقول ٹراٹسکی کہ: ’’ اگر ہماری نسل کرہ ارض پر سوشلزم تعمیر نہ کر پائی تو ہم یہ بے داغ پرچم اپنے بچوں کے حوالے کر دیں گے۔ یہ انسانیت کے مستقبل کی جدوجہد ہے۔ یہ جدوجہد سخت ہو گی طویل ہو گی۔ جو کوئی جسمانی استراحت اور روحانی سکون کا طلبگار ہے وہ پرے ہٹ جائے۔ لیکن وہ لوگ جن کے لیے سوشلزم کوئی کھوکھلا نعرہ نہیں بلکہ اخلاقی زندگی کی اساس ہے، آگے بڑھیں! دھمکیاں اور تشدد ہمارا راستہ نہیں روک سکتے! ہماری ہڈیوں پر ہی سہی، لیکن سچ فتح یاب ہو گا۔ میرے دوستو! خوشی کا بلند ترین معیار موقع پرستی کے ذریعے حال کا فائدہ اٹھانے میں نہیں بلکہ مستقبل کی تیاری میں پوشیدہ ہے۔‘‘

٭ اس حصہ کا اہم کنسپٹ معمولی مگر اہم تبدیلیوں کے ساتھ حمزہ علوی کی کتاب تخلیق پاکستان سے لیا گیا ہے۔

2 thoughts on “آزادی کے زخم

Leave a Reply