امریکی معیشت – بہت شاندار نہیں ہے۔

تحریر : مائیکل رابرٹس

ترجمہ: کامریڈ الطاف

سرمایہ دارانہ معیشتوں میں امریکہ کی معیشت انتہائی اہم اور بڑی معیشت ہے۔ 2009 میں عظیم کساد بازاری کے خاتمے کے بعد سےاس کا شمار عموماً دنیا کی سات بڑی اور بہترین معیشتوں میں سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والی معیشت کے طور پر کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا یہ درست ہے؟

اگر ہم 2009 سے اس کی اوسط جی ڈی پی کی نمو(بڑھوتری) کا جائزہ لیں تو، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ نمو کینیڈا کی نمو سے 2.2 فیصد نیچے ہے، جس کو ایک بہت چھوٹی معیشت کے طور پر قبول کیا جا چکاہے۔

gdp-growth

اسی طرح اگر ہم ہر شخص (فی کس) کے اوسظ جی ڈی پی نمو پر نظر ڈالیں تو، سالانہ امریکی نمو محض 1.4 فیصد ہے، جرمنی کی 1.9 فیصد نمو سے انتہائی کم- اگرچہ تمام تر جی سیون معیشتیں غیر تسلی بخش کارکردگی کا مظاہر کر رہی ہیں۔ بالخصوص اٹلی کی خوفناک صورتحال نوٹ کریں، اوسط جی ڈی پی اور جی ڈی پی فی کس دونوں میں ایک ترخیم ( بندش)۔

gdp-per-cap-growth

عظیم کساد بازاری کے بعد امریکی معاشی دیو کی کہانی، 1930 کے اقتصادی بحران کے بعد  اقتصادی ترقی میں سب سے کمزور بحالی نہ صرف جمہود کا شکار ہے بلکہ اس کی معاشی نمو غائب ہوتی جا رہی ہے۔

long-term-gdp-per-cap

اپنے تازہ ترین نقظہ نظر میں آئی ایم ایف کی پیشگوئی ترقی یافتہ معیشتوں کی جی ڈی پی کی سالانہ نمو کے لیے صرف 1.6 فیصد ہے۔ 2015 کے 2.1 فیصد کے مقابلے میں گراوٹ اور اس کی جولائی کی پیشگوئی 1.8 فیصد سے بھی کم۔ اور اس کمی کی پیشگوئی کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اب آئی ایم ایف اپنی سابق پیشگوئی 2.2 فیصد کے برعکس امریکی معیشت سے صرف 1.6 فیصد تک ہی پھیلنے کی توقع کر رہا ہے۔ اس ست روی کا عکس برطانیہ (2015 میں 2.2 فیصد کے مقابلے میں 1.7 فیصد کی پیشگوئی) اور یوروزون میں (2 فیصد کے مقابلے میں 1.7) نظر آتا ہے۔ جہاں تک جاپان کا تعلق ہے ، اس میں حقیقی معنی میں صرف 0.5 فیصد کی توقع ہے۔

آئی ایم ایف کے چیف معیشت دان مورس Obstfeld کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت کو 2008 کے عالمی مالیات بحران کی طرف سے پالے جانے والے اہم خطرات کا “تعامل کی میراث کے پھل کی ماند” سامنا ہے۔ یہ خطرات بشمول بھاری قرضوں کا سر پر لٹکا، بینکوں کے کھاتوں میں برا قرض اور تاسنن (قریب مرگ، جس پر موت چھائی ہو) سرمایہ کاری، یہ سب عالمی معیشت کی ممکنہ پیداوار کو دباؤ میں لے جا رہےہیں۔ ترقی، “بہت لمبے عرصے کے لیے بہت کم ہو رہی ہے، اور بہت سے ممالک میں اس کے صرف چند ایک فوائد ہی پہنچ رہے ہیں-سیاسی مضمرات کے ساتھ یہ عالمی ترقی کو مزید کمی کی طرف لے جائیں گے۔” مسڑ Obstfeld نے کہا۔

جی ہاں، عالمگیریت کا اختتام اور اس کے فوائد بڑی معیشتوں اور زیادہ طاقتور سرمایہ دار معیشتوں میں تجارت کی کمزر بڑھوتری اور مستقبل کے عالمی تجارتی معاہدوں کے خاتمے کو راستہ مہیا کر رہے ہیں اور اسی طرح سیاسی رہنماٹی پی پی اور ٹی ٹی آئی پی جیسے معاہدوں کے خاتمے کے ذریعے اس دباؤ کو جواب دے رہے ہیں۔ برطانیہ کی صورت میں، یورپی یونین کو چھوڑنے اور دو طرفہ معاشی معاہدے کرنے کی کوشش کر رہا ہیں۔

امید یہ تھی کہ امریکی معیشت 2016 کے دوسرے نصف میں پھر سے اٹھان کی طرف جائے گی اور اب رجائیت کا ایک اور دورہ اپنی قوت کھو رہا ہے۔ اٹلانٹا فیڈ ناؤ کی جی ڈی پی کے بارے میں پیشگوئی عموماً امریکی جی ڈی پی کے لیے بہت درست ہے۔ جولائی سے شروع ہونے اور ستمبر میں ختم ہونے والی سہ ماہی کے آغاز میں اس نے سالانہ شرح ترقی کی پیشگوئی 3.7 فیصد کی۔ اب اس کی پیشگوئی 2.2 فیصد ہے۔ ہمارے سرکاری اعداد و شمار حاصل کرنے سے پہلے اس میں مزید کمی کی توقع ہے۔ اسی طرح فیڈ نیویارک تیسری سہ ماہی میں 2.2 فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں صرف 1.2 فیصد ہے۔

atlanta-fed

طویل مدت کے لیے، امریکی فیڈرل ریزرو بینک کے ماہرین اقتصادیات اب عظیم کساد بازاری کے اختتام پر 2.6 فیصد کے مقابلے میں امریکی معیشت کے لیے صرف 1.8 فیصد سالانہ ترقی کی پیشگوئی کر رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی نیا معاشی بحران نہیں ہے۔ موجودہ ‘بحالی’ پہلے ہی 1945 سے لے کر سب سے طویل ہے، اس کو عالمی مرکزی بینکوں کی طرف سے زری ٹیکے(مانیٹری انجکشن) لگائے جا رہے ہیں۔ مگر یہ مانیٹری پمپنگ کام نہیں کر رہی۔

recovery-duration

جیسا کہ میں نے اپنی ایک گزشتہ پوسٹ میں یہ دلیل دی تھی کہ 2017 میں ایک نئے معاشی بحران کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔ لیکن پھر بھی اس کے بغیر، امریکی سرمایہ داری کی اقتصادی کارکردگی بری ہے اور وہ صرف دوسری بڑی معیشتوں سے حاصل ہونے والے قابل رحم نتائج کے ذریعے محفوظ کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply