انسانی سماج کی تنظیم و ترقی

تحریر: انقلابی جدوجہد 

انسانی سماج کی تشکیل محض کسی حادثے کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ بنی نوع انسان نے ایک مسلسل عمل ، مشترکہ جدوجہد ، اجتماعی تجربات اور ٹھوس مادی و معاشی بنیادیں فراہم کرتے ہوئے ایک لمبے تاریخی سفر انسانی سماج کی تنظیمکے ذریعےیہاں لا کھڑا کیا ہے ۔

انسانی سماج نے جہاں ترقی کی بہت ساری منازل طے کی ہیں وہاں پر انسانی ارتقاء کے بہت سارے مدارج بھی طے کئے ہیں۔ انسان کا اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر اپنے ہاتھوں کو آزاد کر لینا ، انسانی ترقی کی اس معراج تک پہنچنے کے لیے انسانی ہاتھ کی ساخت اور محنت جس نے بعد میں انسانی ذہن کو جلا بخشی اور اس کی جسمانی کمزوری کا بہت بڑا عمل دخل ہے ۔ اگر ہم پتھر کے ابتدائی دور کے آلات دیکھیں اور پھر مختلف انسانی تہذیبوں کی ترقی کے ارتقاء کا جائزہ لیتے ہوئے یہاں تک پہنچیں جہاں انسان نے چاند اور مریخ پر قدم رکھا ، جہاں کمپیوٹر ، جہاز ، ٹیلی ویژن اور دوسری بے شمار ایجادات نے انسانی ترقی اور خود انسان کی کایا ہی پلٹ دی تو اس میں جہاں سائنس ٹیکنالوجی اور ہنر کی ترقی کا بہت بڑا عمل دخل ہے وہاں پر انسانی تجربات اور ان کی اگلی نسل کو منتقلی بھی اتنی ہی اہم ہے جس کے ذریعے انسان نے اپنے خوابوں کی تکمیل کی اور ابھی ان گنت خوابوں کی تعبیر ہونا باقی ہے ۔

اسی طرح انسانی سماج کی تعمیر و ترقی نے بھی مختلف مدارج طے کئے انسان نے غاروں سے نکل کر اور درختوں سے اتر کر مختلف تہذیبوں سے ہوتے ہوئے موجودہ جدید بستیاں بسائی اور ترقی یافتہ شہرآباد کئے ۔ اس ترقی میں بھی انسان نے ایک لمبا تہذیبی سفر طے کیا ان تہذیبوں کی ترقی میں جہاں ایک طرف انسانی محنت نے قابل قدر کردار ادا کیا وہاں پر آلات پیداوار کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ اگر ہم انسانی محنت کی ابتدائی شکل ایجادات کی شکل میں دیکھیں اور اس کے نتیجہ میں تخلیق ہونے والے آلات پیداوار کا جائزہ لیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کس طرح انسان نے ترقی کے پہلے زینے پر قدم رکھا تھا ۔

انسانی کی ابتدائی گزر و بسر چونکہ شکار پر تھی انسان مل جل کر شکار کرتے تھے اس لیے اس نے ابتدائی آلات جو یقینی طور پر پتھر کے تھے شکار کے لیے ہی بنائے تھے ، پھر ان آلات کو تراشنے کے لیے بھی یقینی طور پر پتھر کی ہی ضرورت پڑھی ہوگی ۔ اس سے ابتدائی پھالا اور پھر کلہاڑی بنائی جس کو کسی لکڑی کے آگے باندھ کر اس کا ایک ہتھیار بنا کر اس سے شکار کیا جاتا رہا ۔ پھر اس کے بعد لوہے کا دور آتا ہے اور پھر چلتے چلتے یہاں تک پہنچ جاتا ہے ۔

انسانی تہذیب کئی ہزاروں سالوں اور چند لاکھوں سال پرانی بھی ملی ہیں ۔ ان تہذیبوں کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان نے ہزاروں سال قبل جو ایجادات کی تھیں ایک طرف یقینی طور پر وہ ضرورتوں کے نتیجہ میں ہوئی ہیں اور پھر ان کے استعمال نے ایک طرف انسانی ذہن کو روز بروز بہت ترقی دی اور دوسری جانب موجودہ جدید ترین شہر اس بات کی غمازی ہیں کہ انسان کے یہ ترقی اجتماعی تجربات ، مشترکہ جدوجہد اورایک مسلسل عمل کے ذریعے علم وفن کی اگلی نسلوں تک منتقلی کا برائے راست نتیجہ ہے ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ ترقی جو بنی نوع انسان کی اجتماعی وراثت ہے چند ہاتھوں میں محدود ہو کر ایک طرف آلات پیداوار کی مزید ترقی کو روک رہی ہے اور دوسری طرف اس کے ثمرات کو بھی اجتماعی طور پر انسان کے پاس پہنچنے میں رکاوٹ بن گئی ہے ۔ جس سے نہ صرف تہذیبی ترقی رک گئی ہے بلکہ انسانی تہذیب ہی خطرات میں گھری ہوئی ہے ۔ اس کو آزاد کروانا اور اس کے لیے جدوجہد کرنا ہی اصل زندگی ہے اور انسان کا اجتماعی مستقبل ہے ۔

انسان کےسامنے ایک اور سوال بھی ہمیشہ ہی اہمیت کا حامل رہا ہے کہ انسانی سماج کی تنظیم کیسے کی جائے ۔ انسانی سماج کی تنظیم کو آپ اس دور کے آلات پیدوار ، ذرائع رسل و رسائل ، ذرائع ابلاغ اور دوسری تخلیقات سے کاٹ کر نہیں دیکھ سکتے ۔، انسانی سماج کی تشکیل و تنظیم کیا ہو اس کا جواب دینے کےلیے تاریخ میں ہر دور کے دانشوروں اور سماجی سائنس کے ماہرین نے بھی کبھی انسان کو شرمندہ نہیں ہونے دیا۔ ان کے دئے ہوئے نظریات نے انسانی سماج کی تنظیم میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ تاہم ، ان کے نظریات کی بھی ٹھوس مادی بنیادیں ہوتی ہیں ۔

انسانی سماج کے ابتدائی دور کا جائزہ لیں تو یہ قدیم اشتراکی نظام تھا جس میں انسان مل جل کر رہتا تھا اور اس کا گزر اوقات شکار پر تھا ۔ انسان کا ابتدائی طور پر مل جل کر رہنا ایک طرف ضرورت کی بنیاد پر تھا اور دوسری جانب خوف کی بنیاد پر تھا۔ چونکہ اس وقت انسان نے فطرت کے خلاف جنگ شروع کی تھی اور فطرت کو اپنے قابو میں لانے کے لیے وہ اجتماعی کاوشیں کرتا رہتا تھا ، اس دور کی بیک وقت خوبی اورخامی یہ تھی کہ اگر شکار مل جاتا تھا تو سب کھا لیتے تھے اگر نہیں ملتا تھا تو سب بھوکے ہوتے تھے مگر لمبی بھوک نے پھر انسان کے ہاتھوں انسان کا کھایا جانا دیکھا ہے ۔ یہ سماج لاکھوں سالوں پر محیط ہے ۔ اس میں شخصی حاکمیت کے آثار کم ملتے ہیں ۔ لیکن اس وقت بھی سماج کی کوئی نہ کوئی تنظیم ضرور موجود ہوئی ہو گی جو کہ ہمیں قدیم قبائل کے مطالعے سے ملتی ہے ۔

اس کے بعد زراعت کا آغاز اور غلامی کی ابتداء شروع ہوئی ۔ ابتدائی طور پر طاقتور لوگوں نے کمزوروں کو غلام بنا لیا اور ان سے کام لینا شروع کر دیا یہ نظام بھی ہزاروں سالوں تک چلتا رہا ۔ ابتدء میں تو یہ ایک ترقی یافتہ قدم تھا اس کے ذریعے بہت سی تخلیقات ہوئیں اور انسانی محنت نے فطرت کو اپنے تابع لانا شروع کر دیا ۔ بہت سی ایجادات ہوئیں ۔ اس غلام داری نظام میں سماج کی تنظیم بھی نئے سرے سے ہوئی ۔ اس کی معراج یہ تھی کہ اس میں بادشاہت آئی ، بڑی بڑی سلطنتیں بنیں  ،غلاموں کے حصول کے لیے بڑی بڑی جنگیں ہوئیں ،بالآخر یہ سماجی نظام ٹوٹنے لگا۔ زراعت نے مزید ترقی کی انسان کے ساتھ ساتھ جانوروں کو بھی سدھایا گیا ۔ ان سے نہ صرف آمدورفت ، مال برداری بلکہ زراعت میں بھی اہم کام لیا گیا ۔ جاگیروں اور زمینوں پر قبضے ہوئے چونکہ اب ایک فرد کتنے غلام اور جانور رکھتا تھا اس سے ہی اس کی طاقت اور صاحب اقتدار ہونے کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا ۔ اس نظام نے ذرائع پیداوار کو مزید وسعت دی ۔ اس کی بنیاد پر ایک اور سماج تخلیق کیا گیا ، سماج کی نئی تنظیم ہوئی ، سماجی رشتے تبدیل ہوئے ، آقا جاگیر دار بن گئے اور غلام مزارعین یا ہاری بن گئے۔ یہ نظام بھی ہزاروں سالوں پر محیط ہے ۔ اس نظام کے اندر بہت سارے ادارے بنے ، ان اداروں نے ایک طرف انسانی تخلیق اور دوسری طرف انسانی سماج کو بھی آگے بڑھانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ اس میں ہنر مندوں کا ایک جاندار طبقہ پیدا ہوا ۔ پھر ایک نئے انسانی سماج کی تنظیم کا آغاز ہوا ۔

ہنرمند ابتداء میں ہاتھ سے کام کرنے والے کاریگر ہوا کرتے تھے ، آہستہ آہستہ مشین کی ایجاد نے ان ہنر مندوں کو نئے ذرائع پیداوار سے روشناس کروایا ۔ ایک تاریخی موڑ آیا ، پیداوار میں بے پناہ ترقی ہوئی، نئے سماجی رشتے پیدا ہوئے ۔ مالک اور مزدور ، آجر اور اجیر کے رشتے نے جنم لیا ۔ جاگیر داری نظام کی جگہ سرمایہ داری نے لے لی ۔ مگر یہ عمل بھی کسی حادثے کی صورت میں رونماء نہیں ہوا تھا ۔ سرمایہ داری نے جاگیر داری کے خلاف ایک جنگ لڑی اور فتح حاصل کی۔ ایک طرف تو اس نے فتح حاصل کی مگر سماجی طور پر کوئی حتمی اور فیصلہ کن فتح حاصل نہ کی ۔ جہاں سماج میں ایک نئی تنظیم ہوئی وہاں جاگیر داری اور غلام داری ادوار کے ادارے بھی موجود ہیں ۔ زائد پیداورا کی فروخت اور خام مال کے حصول کے لیے منڈیوں پر قبضے نے نہ صرف مقامی جنگوں کے راستے کھولے بلکہ دو عالمی جنگیں بھی لڑی گئیں ۔ اس کے بعد بعض لوگوں کا خیال تھاکہ کوئی مہذب معاشرہ تشکیل پائے گا یا پھر سماج کی ایک نئی تنظیم نو ہوگی ، سماج کی نئی تنظیم تو ہوئی مگر اس میں تضادات ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئے ۔

اس وقت جہاں سرمایہ داری اجارہ داری میں تبدیل ہو گئی ہے اور سرمائے کے اجتماع نے ایک خوفناک شکل اختیار کر لی ہے وہاں انسانی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربی کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکا ہے ۔ ذرائع پیداوار میں ترقی اور وسعت کے بجائے نجی ملکیت کی وجہ سے ان کا دم گھٹنے لگا ہے جس سے سماج کے اندر خوفناک بے چینی جنم لے چکی ہے ۔ایک طرف سرمائے اور اس کے رشتوں نے سماج کی جو تنظیم کی ہے وہ اسی طرح مزید لمبے عرصہ تک نہیں چل سکتی اس میں بہت بڑے سماجی دھماکے ہوں گے جس سے پوری انسانی تہذیب کو ہی خطرات لاحق ہوچکے ہیں ۔ لہذا سماج کی تنظیم و تشکیل اس طرح قائم نہیں رہ سکے گے ۔ اس کو بدلنا ہے۔ اس میں تاریخی طور پر جہاں ایک تسلسل کے ساتھ تبدیلیاں آئیں وہاں سماجی دھماکوں یعنی انقلابات نے بھی انسانی سماج کی تنظیم و تشکیل میں کئی بار فیصلہ کن کردار ادا کیا اور صدیوں کے فاصلے لمحوں میں طے ہوئے مگر انقلابات انسانی سماج کی تاریخ میں خود کار طریقے سے نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیے انسانوں اور طبقوں کی جدوجہد نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے ۔ سرمایہ داری سے سوشلزم کا مرحلہ بھی ایک چھلانگ سے عبور ہو گا جسے ہم سوشلسٹ انقلاب کہتے ہیں ۔ سماجی تنظیم میں یہ انقلاب جدیدیت کے تمام اجزاء رکھتے ہوئے انسانی سماج کے قدیم اشتراکیت کو بہت ہی ترقی یافتہ شکل میں پیش کرتے ہوئے جدید نظام کی بنیاد رکھے گا جو کہ جبر کے تمام ادارے ختم کر دے گا اور استحصال کے سارے راستے بند کر دے گا ۔

Leave a Reply