تم نے آنکھیں تو نوچ ڈالیں مگر۔۔۔۔۔ ایک خواب تھا جو زندہ رہا

 

تحریر: کبیر خان

دوسری عالمی جنگ سے پیدا ہونے والی بربادی کے ڈھیروں پر قائم ہونے والی عالمی معاشی بحالی کے اثرات کے باعث ایوبی آمریت کے دور میں پاکستان میں بھی بڑے پیمانے کی صنعت کاری اور اقتصادی ترقی میں بڑھوتری ہوئی جس سے جہاں محنت کش طبقے کے حجم میں تیزی سے اضافہ ہوا وہیں طبقاتی تفاوت اور استحصال میں بھی خوفناک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جہاں22خاندان اس ملک کے وسائل اور دولت کے وسیع حصے پر قابض تھے وہیں وسیع تر محنت کش عوام مسائل کی چکی میں خوفناک انداز میں پس رہی تھی ۔ ایوب خان اپنی آمریت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو جبر کے ذریعے کچل دیتا تھا ۔ بائیں بازو کی سیاست تو درکنار اس کا نام لینا بھی بڑا جرم تھااگر کوئی یہ جرم سرزد کرنے کی جرات کر بھی لیتا تو اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا۔ بائیں بازو کے بے شمار نوجوانوں کو عقوبت خانوں میں ڈال کر انہیں تشدد کے ذریعے شہید کر دیا گیا جس میں حسن ناصر کا نام قابل ذکر ہے۔

ایک جانب طبقاتی جبر کی یہ صورتحال تھی دوسری طرف قومی جبر بھی کسی طرح سے کم نہیں تھا۔ مشرقی پاکستان آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ تھا جسے جبر اً ون یونٹ قرار دیا گیا اور اس کی زائد آبادی کے باوجود اسمبلی میں نشستوں کی تعداد برابر کر لی گئی ۔ اس طرح سماج ہر طرف سے ناقابل حل تضادات کا شکار ہو چکا تھا ۔ جب حکمران ناقابل حل تضادات میں پھنس جاتے ہیں تو جنگ ہی وہ ذریعہ رہ جاتا ہے جس کے ذریعے وہ ان تضادات سے نکلنے اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن جنگوں کا یہ المیہ ہے کہ وہ انقلابات کا ریلا بھی اپنے ساتھ کھینچ کر لاتی ہیں ۔ ایسا ہی عمل 1965 میں انڈیا کے ساتھ جنگ میں برآمد ہوا۔ جس کے ذریعے ایوبی آمریت مزید کمزور ہوتی گئی ۔ ذوالفقار علی بھٹو ایوبی آمریت سے مستعفی ہو گئے اور انہوں نے ایوبی آمریت کو اپنی پاپولر نعرہ بازی سے چیلنج کرنا شروع کیا جس کے باعث وہ عوام خاص طور پر نوجوانوں میں خاصے مقبول ہونا شروع ہو گئے۔

پاکستان میں محنت کشوں کو اپنے سیاسی اظہار کے لیے ایک سیاسی پلیٹ فارم درکار تھا اور ایک نئی پارٹی کے لیے خلا موجود تھی اور سماجی و طبقاتی حالات کے باعث فضاء تیار تھی ایسے میں ذوالفقار علی بھٹو نے 20 اکتوبر 1967کو ایک نئی پارٹی بنانے کا اعلان کر دیا ۔ معروضی حالات کو پرکھے بناء دائیں اور بائیں بازو کے لوگ ذوالفقار علی بھٹو کا ان کے اس اعلان پر تمسخر اڑا رہے تھے ۔ 30نومبر اور یکم دسمبر 1967 کو لاہور میں اس نئی پارٹی کا تاسیسی اجلاس طلب کیا گیا ، جس میں باقاعدہ ایک نئی پارٹی’’پاکستان پیپلز پارٹی ‘‘ کے قیام کا اعلان کیا گیا جس کا پہلا چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو جبکہ سیکرٹیری جنرل جے اے رحیم کو منتخب کیا گیا۔
بنیادی دستاویز میں مندرجہ ذیل بنیادی اصول بیان کئے گئے۔

بنیادی اصول:
۱: پارٹی کا مقصد پاکستانی سماج کوعوام کی خواہشات کے عین مطابق ایک سوشلسٹ معاشرے میں ڈالنا ہے۔
۲: راہنماء اصول: پارٹی اپنی پالیسیوں اور سرگرمیوں کے لیے مندرجہ ذیل اصول اختیار کرتی ہے۔
الف: مساواتی جمہوریت یعنی غیر طبقاری معاشرہ۔
ب: اقتصادی و سماجی انصاف کے حصول کی خاطر سوشلسٹ نظریات کا استعمال ۔

65کی جنگ میں ایوبی آمریت مزید کمزور ہونے کے باوجود مزید جابر ہو گئی تھی۔ نوجوانوں، محنت کشوں ، کسانوں اور سماج کی دیگر پرتوں میں بے چینی شدت اختیار کرتی جار ہی تھی اور جنگ بھی تضادات کو حل کرنے کے بجائے ان میں مزید شدت پیدا کر چکی تھی۔ عالمی طور پر بھی50اور 60کی دہائیاں ایک انقلابی ابھار کی دہائیاں تھیں جن میں عوامی ابھار مختلف شکلوں میں اپنا اظہار کرتے ہوئے پاپولر لیڈر شپ کو جنم دیتے ہیں جنہیں پے در پے معزول کروایا جاتا رہا لیکن عوامی ابھار کا تسلسل جاری و ساری رہا ہے۔1962میں غرب الہند کی جمہوریہ میں رافیل آمریت کے 31سالہ تاریک عہد کے خاتمے کے بعد پہلے صدارتی انتخابات میں مزدور رہنماٹروان بوش کامیاب ہوئے جنہیں گو کہ صرف سات ماہ بعد ہی امریکہ کی ایماء پر فوج کے ذریعے تختہ الٹ دیا گیا، بولیویا میں طویل معاشی و سیاسی بے چینی کے بعد وہنے والے انتخابات میں قومی تحریک کے صدر وکٹر پاز سورو کامیاب ہوئے جن کی حکومت کا تختہ فوج کے ذریعے 1964میں الٹا گیا۔ اسی طرح انڈونیشیا تحریک آزادی کے ہیرو احمد سوئیکارنو صدر منتخب ہوئے جن کی حکومت کا تختہ 1965میں جنرل سویارتو کی آمریت کی صورت میں الٹ دیا گیا۔ 1973میں چلی کے بائیں بازو کے منتخب صدر سالوادورالاندے کا تختہ الٹ کر جنرل آگستو ینوسٹے کی آمریت مسلط کی گئی۔1983میں گرینیڈا کی عوامی جماعت نیوجول مومنٹ کے منتخب وزیر اعظم مارس پسشت کی حکومت کا فوجی مداخلت کے ذریعے خاتمہ کر کے انھیں قتل کروا دیا گیا ۔ اسی طرح سے دیگر خطوں میں بھی پاپولر لیڈر شپ کے ابھار کا ایک تسلسل ایک خطے سے دوسرے اور تیسرے خطے میں چل رہا تھا۔پاکستان نوجوانوں میں پہلے ہی سے ایک ہلچل موجودتھی۔ معراج محمد خان جیسے بائیں بازو کے طالب علم لیڈر پہلے ہی این ایس ایف کی قیاد ت کرتے ہوئے چھوٹی چھوٹی ہڑتالوں اور مظاہروں کی قیادت کر رہے تھے۔ ایسے میں 1968میں راولپنڈی پولی ٹیکنک کالج کے ایک طالبعلم عبدالحمید کی حادثاتی موت طلباء میں تحریک کا سبب بن گئی اور ایوبی آمریت کے چینی کی قیمتوں میں چار آنے اضافے کے اعلان نے محنت کشوں اور سماج کی دیگر پرتوں کو تیزی سے اس تحریک میں ایسے دھکیل دیا کہ چٹا گانگ سے کراچی تک ایک ہی نعرے’’ سوشلزم آوے ہی آوے ، جیڑا واوے اوہی کھاوے‘‘کی گونج تھی۔ اس تحریک کی قوت اور زور سے نہ صرف ریاست بلکہ اس کا سب سے بڑا جابرانہ شعبہ فوج بھی اس قدر مفلوج ہو کر رہ گیا تھا کہ اس وقت کے لائل پور سے فوج گزارنے کے لیے فوج کو وہاں کے لیڈر مختار رانا کی پیپلز اکیڈمی سے ایک چٹ لینا پڑتی تھی جس کے بعد مزدور فوجیوں کو لائل پور سے راستہ دیتے تھے ۔ اسی طرح کراچی میں ایک میجر مزدوروں کے جلوس کے سامنے بار بار لیکریں لگا کر وارننگ دیتا رہا لیکن مزدور ہر بار لکیر عبور کر دیتے اور اسے مجبور ہو کر مزدوروں کے جلوس کو راستہ دینا پڑا ۔ بغاوت کی ایسی ہی دیگر سینکڑوں مثالیں ہیں ۔

ہم سب بخوبی آشنا ہیں کہ ایوبی آمریت کا خاتمہ ہوا لیکن پھر بھی تحریک کی شدت کے دباؤ کو محسوس کرتے ہوئے حکمران طبقات نے قومی بنیادوں پر اس ملک کو دولخت کر دیا جس میں ہزاروں لاکھوں جانیں ضائع کی گئیں اوربنگال میں ہزاروں لاکھوں خواتیں کی عصمت دری کی گئی اور تحریک کو تقسیم کر کے کمزور کیا گیا لیکن اس کے باوجود تحریک کا دباؤ پیپلز پارٹی کو اقتدار میں لے آیا۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک ایسے عہد کی پیداوار تھا جو عہد انقلابی ابھار کا عہد تھا۔ ایسی پاپولر لیڈر شپ جو بذات خود پختہ انقلابی آدرش نہ رکھنے کے باوجود ایک عہد کے پاپولر نظریات کا سہارا لیکر اقتدار تک پہنچتی ہے وہ عہدوں کے کردار اور بدلتے رنگوں کے ساتھ اپنا رنگ اور سیاسی بیان بازیاں بھی تبدیل کرتی رہتی ہیں ۔اس لیے ہم بلا شک و شبہ یہ سمجھنے اور کہنے میں حق بجانب ہیں کہ پاپولر پارٹیوں پر براجماں پاپولر لیڈر شپ اپنے اپنے عہدوں کی محض پرتوہوتی ہیں۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں ہوتیں اور نہ ہی ہو سکتی ہیں ۔ عہدوں کے بدلتے رنگ کی واضع جھلک اور فرق ہم ایک ہی شخص ذوالفقار علی بھٹو کے ابتدائی ، درمیانی اور آخری عرصے میں خود اس کی ذات کے اندر ہی دیکھ سکتے ہیں ، آنے والی قیادتوں کی تو خیر بات ہی الگ ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی ضیاء آمریت کے ہاتھوں شہادت کے بعد پارٹی کی قیادت بینظر بھٹو کے ہاتھوں میں آئی ، بینظر بھٹو دراصل ایک ایسے زوال پزیر عہد کی پیداوار تھی جب یہاں ذوالفقار علی بھٹو کا قتل کر دیا گیا تھا ، باقی خطوں میں بھی اکثر پاپولر لیڈر شپ کی حکومتوں کا خاتمہ کر دیا گیا تھا اور بے شمار کو قتل کر دیا گیا تھا ، ماگریٹ تھیچرنے برطانیہ نیو لبرل معیشت کا از سر نو تسلط قائم کر دیا تھااور سب سے بڑھ کر سویت یونین تیزی سے زوال پزیری سے دوچار ہو کر فیصلہ کن انداز سے انہدام کا شکار ہونے جا رہا تھا اس لیے بینظیر بھٹو میں حتی کے اس انقلابی لفاظی کا شائبہ تک بھی موجود نہیں تھا جو ذوالفقار علی بھٹو میں پایا جاتا تھا۔ اسی طرح سے سویت یونین کے انہدام کے بعد کا عہد تو سوشلزم کے خلاف ایسے عالمگیر غلیظ پروپیگنڈ ہ کا عہد تھا کہ جس میں کیمونسٹ پارٹیوں کی کیڈر لیڈر شپ کی ایک بڑی تعداد بھی سوشلزم سے منخرف ہو کر خود سرمایہ داری میں پناہ تلاش کرتے دکھائی دی ۔ ایسے حالات میں ہمارا پاپولر مظاہر پر براجماں پاپولر لیڈر شپ پر بھلا کیا شکوہ اور اگر ہم ایسا کوئی شکوہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم خود ان کرداروں کے متعلق کسی ابہام کا شکار ہیں جس سے اس پاپولر لیڈر شپ کا تو کچھ نہیں بگڑنے والا لیکن ہم محنت کش طبقے کی جدوجہد کو منظم کرنے میں ایک فیصلہ کن کوتاہی کا شکار ضرور ہو سکتے ہیں ۔

اس طرح سے اگر عہدوں کے کردار اور ان میں گنجائش کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ذوالفقار علی بھٹو سرمایہ داری میں اصلاحات کی ایک وسیع گنجائش کے عہد میں اقتدار میں آئے تھے، جب بڑے بڑے اداروں ، صنعتوں ، ہسپتالوں اسکولوں، کالجوں ، یونیورسٹیوں ، بینکوں اور باقی شعبوں کو قومیانے اور کسی حد تک جاگیروں کی مزارعوں میں تقسیموں کو ممکن بنانے کے لیے سرمایہ داری میں ایک گنجائش موجود تھی اور تحریک کے دباؤ کے باعث ذوالفقار علی بھٹو نے یہ عمل کسی حد تک آگے بھی بڑھایا لیکن بینظیر بھٹواور ان کے بعد کی قیادتیں جس عہد کی پیداوار ہیں وہ عہد اور اس کا کرداراور اس کی گنجائش اپنی ضد میں بدل چکی تھیں ۔ اور مزید اداروں کو قومیانے کے بجائے اب پہلے سے قومیائے گئے اداروں کی نجکاری کا عالمگیر مظہر شدت سے ابھر کر سامنے آ چکا تھا۔ لبرل اقتصادیات کے نام نہاد ماہرین سویت یونین کے انہدام کے چند عرصہ بعد تک لبرل اکانومی کے ذریعے حاصل کردہ معاشی ترقی کے نشے میں پھولے نہیں سما رہے تھے اور اس خمار ، گھمنڈ اور رعونت میں وہ لبرل اقتصادی ایجنڈے کی شدت سے عالمی سطح پر پھیلاؤ کی وکالت کرتے نہیں تھکتے تھے۔ ایسے عہد میں اگر کوئی پاپور لیڈر شپ سابقہ اصلاحات کے عہد کی انقلابی لفاظی تو درکنار، محض غریب عوام کے مسائل کے گرد چھوٹے پیمانے کی مزاحمت ہی منظم کرنے کی مرتکب ہو جائے تو اس کا انجام وہی ہوتا ہے۔ جس کی پہلی کاوش 8اکتوبر 2007کراچی میں سانحہ کار سازکی شکل میں کی گئی اور اگلی فیصلہ کن کوشش 27دسمبر 2007لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک منصوبہ بند دہشت گرد حملے میں بینظر بھٹو کے قیل کی صورت میں کی گئی۔

بینظر بھٹو کی شہادت کے بعد تقریباً تین سے چار روز تک یہ ریاست اس ملک کی غریب عوام کی خود رو بغاوت کے ہاتھوں عملاً تحلیل ہو چکی تھی اور اصل طاقت گلی ، محلوں ، سڑکوں، کھیتوں ، کھلیانوں ، شہروں اور دیہاتوں میں موجود محنت کشوں ، نوجوانوں، کسانوں اور غریب عوام کے ہاتھوں میں تھی جس طاقت کو منظم ، مرتکز اور مجتمع کرنے کے لیے نظریات سے مسلح منظم انقلابی قوتوں کی ناگزیر ضرورت تھی، جن کے فقدان یا کمزور ہونے یا ان کی شعوری طور پراس میں مداخلت نہ کرنے کے باعث وہ تحریک زائل ہو گئی اور ریاست پھر سے سنبھلنے اور اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب رہی ۔ بینظیر بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی کی نئی قیادت نے بھی اس تحریک کو کوئی واضع سمت دینے کی کوشش نہ کر کے کم از کم اس حد تک اپنا نقصان ضرور کیا کہ اگر اس تحریک کے ذریعے عام انتخابات کی تاریخ ملتوی کرنے سے ریاست کو روک دیا جاتا تو پیپلز پارٹی کو زیادہ نشستیں ضرور مل سکتی تھیں اور ریاست انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے سے قاصر رہتی ۔ اور پیپلز پارٹی کو مخلوط حکومت کی شکل میں حزیمت کا کم سامنا کرنا پڑتااور پارٹی کی قیمت پر اقتدار کی مدت پوری کرنے کی نوبت قدرے کم ہوتی ۔ لیکن پیپلز پارٹی کو پھر بھی کم و بیش ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ۔ کیونکہ پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت عہدوں کے کردار اور رنگ بدلنے کے ساتھ اپنا رنگ تبدیل کرنے کے کردار کے ساتھ ایک رداصلاحاتی عہد میں اقتدار پر براجماں تھی۔ چند بائیں بازو کے گروہوں کی گالی گلوچ ، لعن طعن اور رٹی رٹائی سیاہ سفید کی تنقید کے برعکس پیپلز پارٹی کے گزشتہ پانچ سالہ مخلوط دور اقتدار میں کسی ادارے کی عملاً نجکاری نہیں کی گئی ، کوئی نیا مزدور دشمن قانون نہیں بنایا گیا ۔بلکہ اس کے برعکس نواز اور مشرف ادوار کے بنائے گئے مزدور دشمن سیاہ قوانیں کا خاتمہ کیا گیا ۔جس میں ریموول فرام سروسز آرڈیننس کا خاتمہ قابل ذکر ہے۔ اور اس قانون کے خاتمے کی قدر کوئی خود جا کر محنت کشوں سے پوچھ لے ۔

اس کے علاوہ لاکھوں ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ اور اڈہاک ملازمین کو مستقل کیا گیا۔ نواز دور میں ملازمتوں سے نکالے جانے والے ملازمین کو گزشتہ تمام مراعات کے ہمراہ ملازمتوں پر بحال کیا گیا ۔ اپنے پانچ سالہ اقتدار کے دوران پیپلز پارٹی نے ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 150فیصد کا اضافہ کیا ۔ ان تمام عوامل کو اجاگر کرنے سے مراد پیپلز پارٹی مداح سرائی ہر گز مقصود نہیں بلکہ بطور نظریاتی کارکن ہمیں چیزوں کو ویسا دیکھنا اور بیان کرنا چاہیے جیسا کہ وہ ہیں اور سرمایہ دارنہ نظام کے اپنے دہرے معیار ات کو ترک کرنا پڑے گا کہ وینزویلا میں اگر ہوگوشاوئز ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 30فیصد اضافہ کرے تو ہم اس کے اس اقدام کو بڑا انقلابی اقدام بنا کرپیش کرتے ہوئے اس عمل اپنے پرچوں کہ شہ سرخیاں بنا ڈالیں لیکن اگر پیپلز پارٹی تنخواہوں میں 50فیصد اضافہ بھی کرے تو اس پر تنقید کے تیر ہی برسائے جاتے رہیں۔ کیونکہ اگر ہم چیزوں کے متعلق مثبت یا منفی انداز کے مفروضے قائم کر کے ان مفروضوں کی بنیاد پر تحریر کرنے کی کوشش کریں گے تو ناگزیر طور پر غلط نتائج ہمارے سامنے ہوں گے اور ہم حالات و واقعات کا غلط ادراک ہی حاصل کریں گے ۔

اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بدعنوانی کا بازار گرم نہیں رہا ، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج نواز لیگ کی حکومت میں کرپشن اور بدعنوانی کی شدت میں ہوش ربا اضافہ نہیں ہوا ہے ۔ پاناما لیکس اور دوسرے واقعات شریف برادران کی کرپشن کا عملی مظاہرہ پیش کر رہے ہیں ۔پھر بھی کارپوریٹ میڈیا کا ویسا شور و غوغہ کہیں نظر نہیں آتا جس کا عملی مظاہرہ ہمیں پیپلز پارٹی کے خلاف نظر آتا تھا۔ پیپلز پارٹی پر براجماں قیادت کا کردار اپنی جگہ لیکن پیپلز پارٹی کے خلاف کارپوریٹ میڈیا کے سیٹھوں کا شعوری پروپیگنڈہ بھی اپنی جگہ موجود ہے جو اس کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے سماج کو شعوری طور پر پیپلز پارٹی سے متنفر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دائیں بازو کے سرمایہ دار حکمران دھڑوں کے لیے فضاء ساز گار بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس وقت تو ہر ایک اینکر اور ہر ایک ٹی وی چینل حکمران طبقے اور ریاست کے کسی نہ کسی دھڑے کی نمائندگی کرتے دکھائی دیتا ہے ۔لیکن ماسوائے کچھ کے باقی یہ سب کے سب پیپلز پارٹی کی مخالفت میں پوری متفق دکھائی دیتے تھے ۔ پیپلز پارٹی کے خلاف منفی تصور اجاگر کرنے میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ اس کا بھی اہم کردار ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور اہم نقطہ سرمایہ دارانہ معاشی پالیسی کا ہے۔ عالمی اداروں کے شدید دباؤ کے باوجود جب سرکاری املاک کی نجکاری نہ کی جائے، تنخواہوں اور پنشن میں کمی کے بجائے اضافہ کیا جائے ، زرعی شعبے کو بھاری سبسڈیز جاری رکھی جائیں ، عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت تقریبا 140ڈالر فی بیرل ہونے کے باعث عوام کو پٹرول پر سبسڈی بھی دینا پڑے ، اخراجات میں آمدن سے زائد اضافہ ہو اور توانائی پر گردشی قرضوں میں بے تہاشہ اضافہ ہو رہا ہو جس کے باعث بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی بلیک میلنگ ہو اور شارٹ فال وبال جان بن جائے تو ایسی صورتحال میں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے لبرل اقتصادیات کے عہد میں اگر کینشئین معاشی طریقہ کار کو رائج کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کا نتیجہ بھی بڑی پر تضاد کیفیت کو جنم نہیں دے گا کیا؟

بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ میں ن لیگ کی حکومت میں کوئی خاطرہ خواہ کمی نہیں ہوئی بلکہ اس کے برعکس اس میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ زرعی شعبہ نواز حکومت میں عملاً بیٹھ گیاہے۔ کسان کسم پرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں لیکن کیا کبھی میڈیا کو ان تمام مسائل پر بات کرتے سنا جاتا ہے؟ پیپلز پارٹی کے دور میں شہباز شریف خود روڈ پر بیٹھ کر ہاتھوں کے پنکھے جھول جھول کر لوڈ شیڈنگ کا ڈھنڈورا پیٹتا تھااور میڈیا حکومت مخالف پروپیگنڈہ کو شدت سے ہوا دیتا تھا۔ کیا لوڈ شیڈنگ آج ختم ہو گئی ہے؟ کیا میڈیا کا وہی وویلا ہے جو پیپلز پارٹی کے دور میں تھا؟

اس ملک کے بے شمار نام نہاد معاشی ماہرین پیپلز پارٹی کے دور میں اداروں کی نجکاری نہ کرنے پر چیخ چیخ کر میڈیا پر لکھتے اور بولتے رہے کہ یہ ادارے جو سفید ہاتھی کی طرح معیشت پر بوجھ ہیں ان کو پیپلز پارٹی حکومت نہ جانے کیوں نہیں بیچ رہی! اس طرح اداروں کی نجکاری نہ کرنے پر بھی منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہو،باوجود اس کے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اداروں کو قومیائے جانے کے موجودہ انداز میں بھی بہتر طور پر نہیں چلایا جا سکتا لیکن کیا ہم بھی اپنے آپ کو تنقید کی اس سطح پر کھڑا کر دیں جہاں دائیں بازو کے سرمایہ دار معیشت دان و دانشور کھڑے ہیں جن کا مطمع نظر ہی اداروں کی نجکاری ہے، محنت کشوں کی مستقل ملازمتوں اور پنشن کے حقوق کا خاتمہ ہے ، اجرتوں میں کٹوتیاں اور مزدور دشمن سیاہ قوانین کا تسلط قائم کرنا ہے؟ہم ایک شاندار (اگر ایسی ہے بھی تو) نجکاری کے مقابلے میں ایک بدترین نیشنلائزیشن کی بھی حمایت کرتے ہیں اور ہمیں یہ کہنے میں کسی طرح کی کوئی آر نہیں ہے کیونکہ ہم اس نیشنلائزیشن سے بھی بڑھ کر اداروں کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دئیے جانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

نواز حکومت نے اپنے چار سالہ دور میں محنت کشوں کی تنخواہوں میں صرف اتنا اضافہ کیا ہے جتنا پیپلز پارٹی حکومت نے اپنے پہلے ہی بجٹ میں کر دیا تھا۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ پیپلز پارٹی کی محنت کشوں کے اندر سے حمایت مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے؟ پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں کسانوں کو زرعی اجناس پر سبسڈی دی گئی جسکا کا بخوبی ادراک انہیں آج نواز حکومت کے زراعت پر حملوں کی صورت میں ہو رہا ہے ۔ جسکا عملی مظاہرہ کسانوں کے حالیہ احتجاج سے بھی ہوا ہے تو ہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کریں کے پیپلز پارٹی کی بنیادیں کسانوں کے اندر سے مخدوش ہو چکی ہیں؟

ایک طرف یہ وہ چند اقدامات ہیں جنہیں بیان کرنا اس لیے ناگزیر تھا کہ ہم ان بنیادوں پر حالات کا صیح ادارک کر سکیں لیکن دوسری طرف جب ہم سرمایہ داری کی حدود میں رہ کر ایسے اقدامات کو آج کی لبرل اقتصادیات کے عہد میں پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ کو کسی حد تک کم رکھنے کے لیے سبسڈیز دی جا رہی ہوں اور ان سبسڈیز کے باجود ٹرانسپورٹ مافیا کرائے میں بے تہاشہ اضافہ کر رہی ہو ، کم ریاستی آمدن کے باوجود اخراجات دیو ہیکل انداز میں تجاوز کر رہے ہوں ، بجٹ خسارے کو پورا کرنے ، عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کو واپس کرنے اور بے شمار قومی اداروں جیسے اسٹیل ملز ، ریلوے ، پی آئی اے، پوسٹ آفس اور دیگر کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے بیل آؤٹ پیکجز دئیے جا رہے ہوں ، دفاعی بجٹ میں کٹوتی کرنے کی جرات نہ کر سکنے اور اس میں اضافے ہی کرتے چلے جانے سے ملکی معیشت پر دباؤ مزید بڑھے جسے مسائل کو حل کرنے کے لیے کڑی شرائط پر اندرونی اور بیرونی قرضہ حاصل کیا جائے اور نوٹ چھاپنے جیسے اقدامات اٹھائے جا رہے ہوں تو نتیجے میں مہنگائی کا ایک ہوشربہ طوفان امڈ آتا ہے ۔ جس کے خوفنا ک اثرات میں سے ایسے اصلاحاتی اقدامات ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے دہکتے ہوئے لوہے پر پڑنے والا پانی کا قطرہ غائب ہو جاتا ہے۔ اس میں کرپشن اور لوٹ گھسوٹ کے عمل کو بھی قطعی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ باوجود اس کے کہ پیپلز پارٹی نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں عالمی بحران اور دگرگوں ملکی معیشت کے نامسائد حالات کا سامنا کرنے کے باوجود جو اقدامات اٹھائے ہیں اتنے خود بینظر بھٹو نے اپنی کسی بھی دور میں نہیں اٹھائے ۔

ایسی ہی کیفیت کے باعث ہم اپنے آپ کو یہ کہنے میں حق بجانب سمجھتے ہیں کہ آج سرمایہ داری کے اندر سے اصلاحات کی گنجائش ناپید ہو چکی ہے۔دوسری جانب ہم بخوبی آشنا ہیں کہ سوشل ڈیموکریسی کی نظریاتی اساس ہی سرمایہ داری کے اندر رہ کر اصلاحات کی بنیاد پر قائم ہے جس کے لیے سرمایہ داری کے اندر سے گنجائش تیزی سے ختم ہو چکی ہے ۔ اسی بنا ء پر ہمیں بہت سے ممالک میں خود سوشل ڈیموکریسی اپنے نظریاتی اساس اصلاحات سے انخراف کرتی دکھائی دیتی ہے اگر کسی جگہ پر وہ اپنی اس اساس پر قائم رہنے کی کوشش بھی کرتی ہے تو اس کے سماج پر مثبت اثرات کے بجائے منفی اثرات مرتب ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ منفی یا مثبت میں سے فیصلہ کن اثرات کا انحصار دونوں کی شدت کے توازن پر ہوتاہے ۔ وینزویلا ایک بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک تھا، جب تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند رہیں اس وقت تک محنت کشوں کے حق میں کی جانے والی اصلاحات کے شاندار اثرات رہے لیکن عالمی منڈی میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں نے اب الٹ اثرات مرتب کرنا شروع کر دئیے ہیں ۔

اس طرح سے پیپلز پارٹی کے اصلاحاتی اقدامات کے مقابلے میں مہنگائی ، توانائی کے بحران ، سماجی امن و امان کی بدترین صورتحال ، میڈیا کے پروپیگنڈے اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کی بدعنوانی اور سب سے بڑے دائیں بازو کے تمام حکمران دھڑوں سے پیپلز پارٹی کی مصالحت پسندانہ پالیسی کے اثرات کی شدت کئی گنا زیادہ تھی۔ جس نے پیپلز پارٹی کے خلاف حالات کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا۔ گو کہ نواز حکومت کو عالمی منڈی میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں سے معیشت کو اور خاص کر مہنگائی کے طوفان کو کسی نہ کسی حد تک سنبھالنے میں سہارا ضرور ملا ہے لیکن اس کے باوجود جس شدت سے ن لیگ کا حکمران طبقہ محنت کشوں پر حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہا ہے جس میں حکمران دھڑوں کے اپنے جھگڑے رخنہ اندازی کا سبب بن جاتے ہیں اس سے یہ تمام صورتحال تبدیل ہونے کی جانب بڑھے گئی لیکن اس صورتحال کو تبدیل ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے اس کا انحصار پھر موجودہ حکمرانوں کے محنت کشوں پر حملہ آور ہونے کی شدت پر ہو گا۔ حملو ں کی شدت میں جتنا اضافہ ہوتا جائے گا صورتحال کی تبدیلی کی رفتار اتنی ہی بڑھے گی ۔ لیکن اس میں پھر فیصلہ کن کردار پیپلز پارٹی کی نظریاتی پوزیشنوں کا ہو گا۔

اس میں کوئی شک نہیں پیپلز پارٹی کی قیادت کے سیاسی بیانیے کو نیچے اس وقت وہ پزیرائی اور مقبولیت نہیں مل رہی جو ہوا کرتی تھی اس میں جہاں قیادت کا مصالحت پسندی کی پالیسی کا زہر اپنا گھناونا کردار ادا کر رہا ہے وہیں اس کے سیاسی بیانیے میں پیپلز پارٹی کے بنیادی نظریاتی اساس کا فقدان اور اس کی جگہ ریاستی افسر شاہی کی پوزیشن پر مبنی بیانیے کو اپنانے کا بھی جرم شامل ہے۔ اس وقت پیپلز پارٹی جہاں اپوزیشن میں ہے وہیں سندھ میں حکومت کر رہی ہے ۔ اسی بنا پر وہ نہ تو ٹھیک طرح سے اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتی ہے اور نہ ہی اس کی سندھ میں حکومتی کارکردگی سندھ میں کسی طرح متاثر کن ہے۔اس کے برعکس سندھ میں پائی جانے والی بدعنوانی اور بدترین طرز حکومت پیپلز پارٹی کے چہرے پر ایک کالک بن کر رہ گئی ہے۔ حالیہ عرصہ میں وزیر اعلی کی تبدیلی کے ذریعے اس منفی تاثر کو ختم کرنے کی کوشش ضرور کی گئی ہے لیکن کراچی ، حیدر آباد اور سندھ میں مسائل کا انبھار اس کا منہ چڑھاتا دکھائی دیتا ہے۔

بحیثیت مجموعی یہ تمام تر صورتحال ملک کے اندر ایک سماجی تعفن کی سی کیفت کو جنم دے چکی ہے۔ پیپلز پارٹی اپنی تنزلی کی گہرائی کی جس انتہا تک گر سکتی تھی گر چکی ہے ، اس سے مزید نیچے گرنے کی اب مزید گنجائش موجود نہیں ۔ پاکستان کے سیاسی افق کے دائیں جانب تو مختلف دائیں بازو کی پارٹیاں موجود ہیں لیکن بائیں بازو کا ایک خلا موجود ہے۔پیپلز پارٹی کی اس سماجی گراوٹ کو دیکھتے ہوئے اس کا الیکشن لڑنے والا اکثریتی حصہ دوسری جماعتوں کی جانب بھاگ کھڑا ہوا ہے اور گراوٹ کا یہ دورانیہ اگر مزید طوالت اختیار کرتا ہے تو باقی بے شمار حصہ بھی بھاگنے میں دیر نہیں لگائے گا ۔

جیسا پہلے وضاحت کی جا چکی ہے کہ مختلف بیان کردہ وجوہات کی بنا پر پیپلز پارٹی کے سیاسی بیانیے کو نیچے اس وقت وہ مقبولیت اور پزیرائی حاصل نہیں ہے لہذا بائیں بازو کے نظریات کے لیے سیاسی خلا زیادہ بڑھ رہا ہے ۔ اگرپیپلز پارٹی کا بیانیہ جس سے وہ عہدوں کے رنگوں سے بدلتی رہی نیچے محنت کش عوام میں اگر مقبولیت رکھتا ہو تو حقیقی نظریاتی بیانیے کی شنوائی کے امکانات قدرے کم ہوتے ہیں ۔ لیکن قیادت کے بیانیے کی مقبولیت میں اس وقت کی گراوٹ بائیں بازو کے نظریاتی بیانیے کی ترویج کے لیے پوری طرح سے حالات مہیا کر رہی ہے اس وقت جرات سے آگے بڑھ کر ان مواقعوں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی ناگزیر ضرورت ہے تاکہ اس ملک کے محنت کشوں، نوجوانوں ،کسانوں اور تمام محروم پرتوں کو نظریاتی بنیادوں پر منظم کرنے کے لیے ان پوزیشنوں کا استعمال کیا جائے ۔ پیپلز پارٹی گو کہ اقتدار تک پہنچنے کے لیے ہی سہی مگر بائیں بازو کے کم و بیش تعارف کے حامل افراد کو پارٹی میں خاطر خواہ پوزیشن پر جگہ دینے پر آمادہ ضرور دکھائی دیتی ہے۔کیونکہ محنت کش عوام کی طبقاتی لڑائی کو منظم کرنا کوئی رومانوی عمل نہیں ہے بلکہ یہ ہم سے ہر اس پوزیشن ،ہر اس جگہ کھڑے رہنے کا ناگزیر تقاضا کرتا ہے جہاں سے نظریاتی آواز کو وسیع تر پرتوں تک پہنچایا جا سکے ۔ یہی وہ وقت ہے جس میں ہمیں جرات سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی کو بطور روایت ماننے کا عمل اگر محض الفاظ کی حد تک محدود ہو اور عملاً آپ روایت سے باہر ہوں تو اس تذبذب کی کیفیت میں روایت کے اندر محنت کشوں اور نوجوانوں کو نظریاتی بنیادوں پر منظم کرنے کے انقلابی کام کے بجائے روایت کے کردار کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنانا قدرے آسان کام ہوتا ہے ۔ اور روایت کے بدلتے کردار کے ساتھ اپنی جڑیت اور لاتعلقی واضع کرنا بھی بہت آسان کام ہے ۔ لچکدارانہ طریقہ کار کی مخالفت اور مفاد پرستی کا لیبل چپکانہ تو سب سے آسان کام ہے ۔ اگر مشکل ہے تو یہ کہ کس طرح سے ضبر آزما طریقے سے روایت کے اندر کھڑا رہا جائے اور محنت کشوں کو منظم کیا جائے۔ کیونکہ اگر کوئی یہ دعوی کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی بطور ایک روایت ختم ہو چکی ہے اور ہم ایک آزادانہ پارٹی بنا کر یہاں انقلاب برپا کریں گے ، ایک طرف ان کی طرف سے معروض کے بدلنے کی باتیں کی جا رہی ہیں اور یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ انقلابی حالات نیچے پک کر تیار ہو چکے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حالات بھی پک کر تیار ہو چکے ہیں سماج بھی تحریک کو راستہ نہ ملنے کے باعث اندر ہی اندر تعفن زدہ ہو تا جا رہا ہے تو پھر یہ درجنوں بائیں بازو کی آزاد پارٹیاں تحریک کے سامنے بندھے اس بند کو توڑنے میں آج تک کامیاب کیوں نہیں ہوپائیں؟

ایسے لوگوں کے لیے ٹیڈ گرانٹ نے لکھا تھا کہ :’’یہ محنت کش طبقے کی تحریک کے تاریخی ارتقاء کو خاطر میں ہی نہیں لاتے جو مارکسزم کے بنیادی اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے کام کے طریقہ کار (Tactics)کو بہتر بناتے ہیں ۔ لچکدار طریقہ کار اپنائے بغیر یہ ناممکن ہے کہ آپ ان قوتوں کو جیت سکیں اور ان کو تیار کر سکیں جو کہ انقلابی پارٹی کی تعمیر سے قبل ان کو جیتنا از حد ضروری ہے ۔ بدقسمتی سے محنت کش طبقے کی تحریک سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی ورنہ پھر یہی رہ جاتا ہے کہ جگہ جگہ بیٹھ کر صرف یہ کہا جائے کہ ایک انقلابی پارٹی کی تعمیر بہت ضروری ہے جیسا کہ برطانیہ کی سوشلسٹ پارٹی گزشتہ 50برسوں سے یہ دعوی کر رہی ہے کہ سوشلزم سرمایہ داری سے بہت بہتر ہے لیکن کوئی نتیجہ حاصل کئے بغیر۔‘‘ (ٹیڈ گرانٹ داخلیت کے مسائل ؛ صفحہ نمبر 1: پہرہ نمبر 3-4)برطانیہ میں جیرمی کوربن کے ابھار کے بعد لیبر پارٹی کی بدلتی کیفیت کو دیکھ کر پیٹر ٹیف دوبارہ لیبر پارٹی میں شامل ہونے کی درخواست کرتا ہے۔ یہ عمل ٹیڈ کے نظریہ اور طریقہ کار کی سچائی کو ایک بار پھر درست ثابت کر رہا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی ہی تحریک کے سامنے بندھ باندھے کھڑی ہے کیونکہ عام محنت کش عوام کے لیے سچے انقلابیوں کی پہلی بات تو بات ہی نہیں سنتی اور اگر کہیں سننے کا موقع میسر آ بھی جائے تو انہیں سراہاتے ہوئے اتنا ضرور کہتے ہیں کہ آپ اچھی باتیں کہہ رہے ہیں لیکن جب اختیارات اور طاقت دینے کا وقت آتا ہے تو وہ ان سچے بے اختیار انقلابیوں کے بجائے روایتوں پر براجماں روایتی لیڈران کو اختیارات اور طاقت سونپ دیتے ہیں ۔ یونان میں PASOK کے ٹوٹنے اور سائیریزہ کے بننے کے مظہر کو بیان کر کے روایتوں کے خاتمے اور نئی روایتوں کے جنم کے دلائل بھی پیش کئے جا رہے ہیں لیکن اس میں بھی PASOKمیں بائیں بازو کا خاصا بڑا دھڑا ، جس کا پہلے سے ایک عوامی تعارف موجود تھا، ٹوٹ کر دیگر بائیں بازو کے گروپوں کے ساتھ ملکر سائریزہ کی تشکیل میں کامیاب ہوا جسے عوامی حمایت حاصل ہوئی ۔

امریکی صدارتی انتخابات کی مہم میں پارٹی انتخابات میں برنی سینڈر اگر ڈیموکریٹک پارٹی(لبرل کیپٹلسٹ جماعت ہے) کے پلیٹ فارم کے بجائے آزاد حیثیت میں صدارتی امید وار کے طور پر لڑتا تو اس کی آواز کون سنتا ؟ جس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم سے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا پراپنے اثرات مرتب کئے ایسے میں اگر دنیا بھر میں ریڈیکلائزیشن بڑھتی ہے برطانیہ یا دیگر کسی اور ترقی یافتہ ملک میں بائیں بازو کی لیڈر شپ ایشوز کے گرد سیاست کا آگے بڑھاتی ہے تو کیا اس کے اثرات خود پاکستان پیپلز پارٹی پر مرتب نہیں ہوں گے ؟ لیکن اگر ریڈیکلائزیشن عالمی پیمانے پر بڑھتی ہے ، جس کے کچھ اثرات نمایاں ہونا شروع ہو چکے ہیں ، تو ہمارے سامنے سب سے اہم سوال یہ ہو گا اور جو آج بھی ہے کہ آیا سماج کے اندر نچلی سطح پر اپنے نظریاتی کام کو کس حد تک منظم اور تعمیر کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے ؟کیونکہ محض اوپر کے بیانیے پر ہی اپنی نظریں مرکوز رکھنے سے تو طبقاتی لڑائی کو منظم نہیں کیا جا سکتا ۔ اگر صرف اوپر کا بیانیہ تبدیل ہوتا ہے اور نیچے کے ہجوم سے اس کا امتزاج ہوتا ہے تو اس سے صرف ایک سماجی ابھار ہی سامنے آسکتا ہے ۔ جس کا انجام محض اصلاحات کے دائرہ کار تک ہی محدود رہنے کے قوی امکانات ہوں گے ۔

جہاں تک پیپلز پارٹی کے بیانیے کا تعلق ہے تو پیپلز پارٹی پاپولر نعرہ بازی کا پھر سے سہارا لے سکتی ہے کیونکہ یہ اس کی بقاء اور بحالی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بنتی ہے ۔لیکن پیپلز پارٹی کی بحالی کا عمل صرف پیپلز پارٹی کے مرہون منت ہی نہیں ہے کہ اسے آج بھی جس چیز کا سب سے بڑا فائدہ حاصل ہے وہ عوامی حمایت کی حامل کسی بائیں بازو کی بڑی منظم قوت کا فقدان ہے اور چھوٹے چھوٹے بائیں بازو کے گروپوں کو عوام اتنا سنجیدہ نہ لینے کا عمل ہے جس کی وجہ سے جب بھی محنت کش عوام پر دائیں بازو کے حکمران طبقے کا جبر بڑھتا ہے اور محنت کشوں کے حقوق پر تابڑ توڑ حملے شدت سے بڑھتے ہیں تو انکا رجحان واپس پیپلز پارٹی کی طرف ہی بننا ناگزیر ہوجاتا ہے۔

اس لیے ہمیں سماجی تناظر پیش کرنے کی کاوش کے دوران صرف یہ نہیں دیکھنا ہوتا کہ ہم کیسے دیکھتے ہیں بلکہ س میں یہ دیکھنا ناگزیر ہوتا ہے کہ عام محنت کش عوام کس انداز سے سوچتے ہیں ۔ عمومی طور پر عوامی شعور کبھی بھی انقلابی نہیں ہوتا بلکہ حکمران دھڑوں کا نسبتی جائزہ اپنی عملی زندگی سے لیتا رہتا ہے اور ہر عہد میں یہ دیکھتا رہتا ہے کہ کون سا حکمران دھڑہ اس کی زندگی قدرے بہتر حالات مہیا کرتا ہے یا کر سکتا ہے۔ محنت کش عام طور پر انقلابی اقدامات کا نہیں اصلاحاتی اقدامات کا ہی تقاضا پیش کرتے ہیں۔ تاکہ ان کی زندگیوں کی مشکلات کسی حد تک تو کم ہو سکیں اس لیے یہ کہنا کہ پیپلز پارٹی اگر کوئی انقلابی اقدامات کا عملی مظاہرہ نہیں کرتی توکی بحالی محال ہو گی ۔ جیسے بیانیے کو ہمیں نسبتی تعلق سے دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آیا پیپلزپارٹی کے علاوہ محنت کشوں کے سامنے کوئی اور Option موجود ہے اور اگر اس کیفیت میں پیپلز پارٹی تحریک کے سامنے لمبا عرصہ ایک بندھ باندھے رکھتی ہے اور محنت کشوں کو اپنے اظہار کا ایک طویل عرصے تک کوئی راستہ نہیں ملتا، بائیں بازو کی جانب کوئی منظم عوامی حمایت کی حامل قوت بھی موجود نہیں ہے ایسی صورت میں ایک خود رو تحریک پھٹ پڑتی ہے تو ایسی تحریک کا کردار ترقی پسندانہ کے بجائے Re-actionry، پر تشدد ، پر انتشار اور انارکسسٹ ہونے کے زیادہ بھاری امکانات ہیں جس کا فائدہ بائیں بازو کی قوتوں کے بجائے دائیں بازو کی انتہا پسند قوتوں کو پہنچنے کے زیادہ امکانات ہوں گے۔اس لیے محض تحریک تحریک کا ورد ہی کافی نہیں ہے بلکہ تحریک کے تناظر کے ساتھ ساتھ اس کے کردار کی مختلف صورتوں میں پیش بینی کرنا بھی ہمارے لیے ایک ناگزیر عمل ہے تاکہ ہم اپنی مداخلت کی درست جگہ وقت اور اپنے کردار کا تعین کرنے کے طریقہ کار کو بھی اپنے لیے واضع کرسکیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی آنے والے عرصے میں محنت کش عوام ، نوجوانوں ، کسانوں اور دیگر محروم سماجی پرتوں سے اپنا تعلق دوبارہ استوار کرنے کی کوشش کر سکتی ہے کیونکہ اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور چارہ بھی نہیں ہے اور اگر وہ ایسا کرتی ہے تو اسے پہلے پہل تو اسے مسائل سے بوجھل محنت کشوں کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور لوگ کسی اور سنجیدہ آپشن کے موجود نہ ہونے کے باعث پیپلز پارٹی کو اپنے مسائل سے بھرپور مزاحمت اور مشروط حمایت کا ردعمل دیں گے۔ جس کے باعث پیپلز پارٹی کو بھلے دکھاوے کی حد تک ہی سہی، لیکن ان کے ساتھ مسائل کے گرد کھڑا ہونے کا اپنا تاثر دینا پڑے گا۔ اس پورے عمل میں دونوں اطراف سے جدلیاتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی جہاں محنت کش عوام کو اس گہرے مایوسی میں واپس اٹھنے کا حوصلہ دے گی وہیں محنت کش طبقے کی اٹھان پیپلز پارٹی پر واپس اپنے اثرات مرتب کرے گی اور اس میں عالمی حالات میں جنم لینے والی ریڈئیکلائزیشن اور بائیں بازو کے رجحانات کا ابھار اس تما صورتحال میں فیصلہ کن اثرات مرتب کر کے ایک بڑے پیمانے کی ریڈئیکلائزیشن کو جنم دے سکتا ہے۔ لیکن پھر اس میں فیصلہ کن کردار پیپلز پارٹی میں موجود بائیں بازو کی قوتوں کا بنے گا اس لیے وقت باہر بیٹھ کر تماش بینوں کی طرح تنقید اور تبصرے کرنے کے بجائے سنجیدگی سے اس دھارے میں شامل ہو کر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اور جو نظریاتی اور سیاسی خلا جنم لے رہا اسے شعوری بنیادوں پر سائنسی نظریاتی رجحانات سے بھرنے اور محنت کش طبقے کو جدوجہد کے لیے منظم کرنے کے تاریخی فریضے کو سنجیدگی سے عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے اور یہی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کا واحد قابل عمل طریق کار ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply