جولائی 5 : نظریاتی پسپائی کا سبق

تحریر :    کامریڈ اے اے خان

کامریڈ  ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ ’’ گاڑی چلانے کا سب سے محفوظ طریقہ یہ ہے کہ سامنے دیکھنے کے ساتھ ساتھ بیک مرر یعنی پیچھے دیکھنے والے شیشے پر نظر مرکوز رہے ‘‘ محض سامنے دیکھنے سے ڈرائیور سامنے سے آنے والے کسی حادثے سے تو گاڑی کو بچا سکتا ہے لیکن گاڑی کوحادثہ کسی پیچھے سے آنے والے کی وجہ سے بھی پیش آ سکتا ہے۔کامریڈ ٹراٹسکی کی اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے آج ہم پاکستانی سیاسی تاریخ کے سیاہ ترین واقع 5 جولائی 1977ء کے مارشل لاء کو زیر بحث لانے اور اس کا درست تجزیہ کرنے کے لیے اس سانحے سے پہلے کے حالات کاجائزہ لینا از حد ضرور ی ہے۔

60کی دہائی میں ایوبی آمریت کے دس سالہ دور میں سرمایہ دارانہ نظام میں ایک عارضی ابھار کے نتیجے میں پاکستان میں بھی صنعتی و معاشی خوشحالی کا ایک بلبلہ آیا تھا ۔تاہم اس ترقی اور خوشحالی نے عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے بجائے طبقاتی تفاوت کو مزید بڑھاوا دیا ،اس غیر مساوی اور ناہموار ترقی نے اس وقت سماج کے صنعتی اور معاشی حصے پر قابض سرمایہ داروں اور ان کے گماشتہ ٹولے کے معیار زندگی میں ضرور بہتری لائی تھی ۔جس کا نتیجہ محنت کش طبقے کی بھوک ،ننگ ،افلاس اور محرومی میں اضافے کی صورت میں نکل رہا تھا اور اس تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی طبقاتی تفاوت اور تضاد کو ایک الاؤ کی صورت میں بالاآخر پھٹنا تھا۔جو 1968,69کی تحریک کی شکل میں پھٹا۔

1968,69میں اس معاشی ترقی کے باوجود معاشی استحصال اور جبر کا شکار عوام بالآخر ایوبی آمریت کے خلاف کراچی سے چٹاگانگ تک پھٹ پڑے ۔یہ تحریک بظاہر تو ایوبی آمریت کے خلاف اور اس کے خاتمے کے لیے تھی لیکن اس کا موڈ ،مزاج ،مطالبات اور روح در اصل سرمایہ داری کیخلاف طبقاتی جد وجہد کی آئینہ دار تھی ،مزدوروں کے کارخانوں پر قبضے ،طلباء کے کرائے کی ادائیگی سے انکار جیسے واقعات اس بات کا مظہر تھے کہ ایوبی آمریت کے خلاف محکوم و محروم محنت کش ایک ایسے نظام کے آرزو مند تھے جس میں معیشت اور پیداواری زرائع محنت کشوں کی ملکیت میں ہوں۔

30نومبر 1967ء کو قائم ہونے والی پیپلز پارٹی کے چئیرمین ذوالفقار علی بھٹو نے اس تحریک کو ایک مقبول عام نعرے ’’ مانگ رہا ہے ہر انسان روٹی ،کپڑا اور مکان ‘‘ کی ایک طبقاتی مانگ میں بدل دیا جس نے محض دو سال قبل قائم ہونے والی پاکستان پیپلز پارٹی کو محنت کشوں اور محروم طبقات کی سب سے بڑی پارٹی بنا دیا۔1970ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے انتخابی منشور میں اعلان کیا گیا کہ فوج،معیشت ،صنعت اور مجموعی طور پر ریاست اور سماج کومحنت کشوں کے کنٹرول میں دے کر پاکستان میں طبقات سے پاک سوشلسٹ سماج کا قیام عمل میں لایا جائیگا۔محنت کشوں کی حقیقی مانگوں کے حصول کے لیے طبقاتی بنیادوں پر جد وجہد کرنے والی پیپلزپارٹی کو اپنے سوشلسٹ پروگرام کی بنیاد پر انتخابات میں فقیدالمثال کامیابی حاصل ہوئی ۔لیکن انتخابات کے نتائج کے بعد ملک ایک سیاسی بحران کا شکار ہوا جس بحران کی بنیاد دراصل جناح کے عہد میں رکھ دی گئی تھی جس کو ایوب اور یحیٰی کی آمریتوں نے مزید گہرا کر دیا تھا۔اس کا نتیجہ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں نکلا۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بننے والی فوج کو عوامی غیض وغضب سے بچانے کے لیے اقتدار مغربی پاکستان میں کامیابی حاصل کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کو سونپا گیاریاست کے پاس اقتدار کی اس منتقلی کے سوا کوئی اور راستہ بچا ہی نہیں تھا۔

اقتدار کے حصول کے ساتھ ہی پاکستان پیپلزپارٹی میں نظریاتی پسپائی کا آغاز بھی ہو جاتا ہے ۔ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالتے ہی سات جنرلوں کا فارغ کر کے فوجی شکست کی تحقیقات کا فریضہ جسٹس حمود الرحمان کی سربرائی میں ایک کمیشن قائم کرکے اس کو سونپ دیا۔پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب اقتدار کی عوامی حکومت کو منتقلی کو شکست خوردہ فوج نے مجبوراً قبول کیا تھا۔اس شکست خوردگی کے باوجود فوج اس موقع کے متلاشی تھی کے کب اس کی طاقت بحال ہو اور وہ ایک مرتبہ پھر ایوان اقتدار میں براجمان ہو۔ایک طرف بھٹو نے حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر نہ لا کر فوج کو ذلت سے بچایالیکن دوسری طرف اس عوامی حکومت کو انقلابی حکومت میں بدلنے کے لیے پارٹی میں مضبوط کیڈر اور عمل کی بجائے لفاظی کی حد تک انقلابی نعرے بازی نے مختصر عرصہ میں ہی اس پارٹی کو شکست خوردہ حکمران طبقے کا ہدف بنا دیا ۔جس کی بنیادی وجہ ایک غیر مستحکم تنظیمی ڈھانچے کی حامل پارٹی کا ان ہی ریاستی اداروں پر انحصار تھا جن کو برطانوی گماشتہ حکمران طبقے نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے قائم کیا تھا۔پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے کمزور ریاستی ڈھانچے کے ساتھ کمزور اصلاحات جن میں پہلے مرحلے میں کارخانوں ،بنکوں اور دیگر اداروں کو قومی تحویل میں لینے اور زرعی اصلاحات کی شکل میں سرمایہ دارانہ نظام پر حملہ تو کیا لیکن ریاستی ڈھانچہ تبدیل کیے بغیر اس حملے کے مقاصد ہر گز حاصل نہیں ہو سکتے تھے اور نہ ہی حاصل ہوئے بلکہ اس کمزرو حملے نے دشمن طبقات کوہو شیار کر دیا اور انھوں نے اپنی طاقت کو از سر نو منظم کرنا شروع کر دیا جو ایک عرصے سے 68,69 ء کی سوشلسٹ تحریک سے اپنی بد ترین شکست کا بدلہ لینے کے لیے بیتاب تھے۔

جیسے جیسے پاکستان پیپلز پارٹی اپنے انقلابی سوشلسٹ پروگرام سے انحراف کر تی گئی ویسے ویسے ہی جاگیرداروں ،سرمایہ داروں اور بیوروکریٹس نے پارٹی کے سیاسی اور تنظیمی ڈھانچے میں غلبہ حاصل کر نا شروع کر دیا جن لوگوں نے ماضی پاکستان پیپلز پارٹی کے انقلابی کارکنوں کو ان کی انقلابی جد وجہد کی پاداش میں گھر تک جلا دئیے تھے اب پارٹی کا حصہ بن کر محنت کشوں کے متعلق فیصلہ سازی کا حصہ بن گئے اور دوسری طرف پارٹی میں موجود بایاں بازو بھی وقتی مشکلات اور پر یشانیوں سے گھبرا کر پارٹی سے دور ہو تا چلا گیا جو پہلے ہی 1970ء کے انتخابات میں بائیں بازو کے لیے پیش کی گئی 32اسمبلی نشستیں نہ لے کر ایک سنگین غلطی کا مرتکب ہو چکا تھا جس نے پارٹی کی پارلیمانی حیثیت میں اپنی نمائندگی بہت محدود کر دی تھی ۔بائیں بازو کی نظریاتی پسماندگی اور کمزوری نے پاکستان پیپلز پارٹی کو جاگیرداروں ،سرمایہ داروں کی ایماء پر انقلاب اور عوام دشمن قوتوں کے سمجھوتوں میں زیادہ آسانی پیدا کی جس کے نتیجے میں 1973ء کے آئین میں پاکستان کو عوامی جمہوریہ کے بجائے اسلامی جمہوریہ بنا دیا گیااور یہی وہ متفقہ آئین تھا جس میں پے درپے ترامیم نے ریاست ایک عوامی تشخص کو ایک مذہبی تشخص میں بدل دیا جس کی وجہ پارٹی میں موجود بائیں بازو کی پارٹی میں نئے شامل ہونے والے دائیں بازو کے لوگوں اور پالیسیوں کے خلاف مذاحمت کے بجائے پسپائی اختیار کرنا تھی جو دراصل نظریاتی پسپائی تھی ۔لیکن اس سب کے باوجود انقلابی سوشلسٹ طرز کی اصلاحات نے محنت کش طبقے کی زندگیوں میں واضح تبدیلی آئی تھی جس نے پاکستان پیپلز پارٹی کو محنت کش طبقے کی روایتی پارٹی بنا دیا اور اس کی مقبولیت کو بطور روایت برقرار کھا ۔یہی وہ مقبولیت جس نے بھٹو شہید کے گرد جمع ہونے والے ابن الوقت جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے اسے 1977ء میں قبل ازوقت انتخابات کروانے پر تیار کیا ۔

اس مقبولیت کے زعم میں مبتلاء پاکستان پیپلز پارٹی 1977ء میں جب دوبارہ عوام سے ووٹ مانگنے جاتی ہے تو تب تک ملاء ،ملٹری اسٹبلشمنٹ اور مجموعی طور پر دایا ں بازو اپنی طاقت مجتمع کر چکے ہوتے ہیں ۔اور اس طاقت کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لیے دائیں بازو،قوم پرست ،نام نہاد سیکو لر اور لیفٹ کی جماعتوں کا الائنس پاکستان قومی اتحاد پی این اے نظام مصطفی کے نعرے کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے مقابلے کے لیے تشکیل دیا جا چکا تھا ۔انقلابی نظریات سے پسپائی کے باوجود اصلاحات کے باعث پاکستاں پیپلز پارٹی اپنی روایتی مقبولیت کو برقرار رکھے ہوئے تھی لیکن اس مقبولیت کے باوجود پارٹی میں موجود غیر سیاسی گروہ نے ذوالفقار علی بھٹو کو بلا مقابلہ منتخب ہونے کا مشورہ دیا اور پھر دیگر پارٹی رہنما بھی اس ڈگر پر چل پڑے ۔اگرچہ انتخابی مہم میں پی این اے نے پیپلز پارٹی کے انقلابی سوشلسٹ پروگرام کو ہدف بنائے رکھا جبکہ پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت ان نظریات سے دور ہوتے چلے گئے تھے اس نظریاتی ابہام اور پسماندگی نے بلا مقابلہ انتخاب جیسے غیر جمہوری طریقہ کار اپنا کر عوامی حمایت کے نتیجے میں ہونے والی انتخابی کامیابی کو متنازعہ بنا دیا اور اور اپوزیشن اتحاد جس نے اپنی ساری انتخابی مہم امریکی ڈالروں اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کی بھر پور حمایت کے ساتھ چلائی تھی نے انتخابات میں بد ترین دھاندلی کا الزام لگا کر ملک گیر احتجاج شروع کر دیا۔ جس کی قیادت اس وقت ملٹری اسٹبلشمنٹ اور سامراجی طاقتوں کا نمائندہ اصغر خان کر رہا تھا ۔جلد ہی اس تحریک نے پر تشدد رنگ اختیار کر لیا اور ملک میں جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ شروع ہو گیا ،اگرچہ اس دوران حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات بھی شروع ہو گئے ۔مذاکرات میں ذوالفقار علی بھٹو اکتوبر میں دوبارہ انتخابات کرانے پر رضامند ہو گئے ۔حکومت اور اپوزیشن میں ایک معاہد ہ طے پا گیا تھا جس کا اعلان ایک پر یس کانفرنس میں کیا جا نا تھا لیکن اصغر خان نے اس معاہدے کو ماننے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اس کو پاکستانی فوج اورامریکہ نے یقین دلا یا ہوا تھا کہ وہ پاکستان کا اگلا وزیر اعظم ہے۔اس دوران ضیاء الحق جو بھٹو کا من پسند جنرل تھا عالمی سامراجی قوتوں کے ساتھ ساز باز کر کے بھٹو کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کر چکا تھا اور اس نے حکومت اور اپوزیشن میں معاہدہ طے پا جانے کے باوجود 5جولائی کی شب بھٹوحکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔یہاں سے ہی پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سیاہ ترین دور کا آغاز ہوتا ہے ۔

انقلابی تحریکیں اگر کامیاب ہوں تو سماج ترقی کی معراج تک پہنچتے ہیں اور اگر ناکام ہوں تو ان کی ناکامی سماجوں کو تاراج کرتے ہوئے پسماندگی اور رجعتیت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیتی ہے ۔ایسے ہی 68,69کی انقلابی تحریک کی ناکامی نے ضیائی آمریت کے گھاٹا ٹوپ اندھیروں میں دھکیل دیا اور ردا نقلابی قوتوں کو اتنا طاقتور کر دیا کہ انھوں نے اس انقلابی تحریک کی ایک ایک حاصلات کو نشانہ بنایا اور 6جو لائی کے دن سے ہی بھٹو کے گرد جمع ہونے والے جاگیرداروں سرمایہ داروں اور دائیں بازو کے کاسہ لیسوں نے ملک سے بھاگنے میں ہی عافیت جانی جنھوں نے محنت کشوں کی پارٹی پر قبضہ کر لیا تھا اور جن کے پارٹی میں اثر ورسوخ کے باعث پارٹی میں موجود بایاں بازو اپنی نظریاتی کمزوری کے باعث پارٹی سے لاتعلق ہو کر دور ہو گیا تھا نے بھی عملی طور پر ملک سے بھاگنا شروع کر دیا ۔

اگرچہ ضیاالحق نے 90دن میں الیکشن کرو ا کر اقتدار منتخب عوامی نمائندوں کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ وعدہ ہی کیا جوا یفا ہوجائے یہ نوے دن طویل ہو کر گیارہ سالہ سیاہ رات میں تبدیل ہو گئے ۔ضیا نے ہر گزرتے دن کے ساتھ نظام مصطفی کے حامیوں کو اپنے اقتدار میں حصہ دار بناتے ہوئے سوشلسٹ پروگرام کی حامل پیپلز پارٹی کے اسلامی آئین کو بنیاد بنا کر ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے نام پر سیاسی کارکنوں پر ایک قہر نازل کر دیا تھا پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں،دانشوروں ،شعرا کے لیے کوڑے ،پھانسیاں اور جیلیں تھے یہ وہ نتائج تھے جو اس نظریاتی غداری ،انقلاب اور عوام دشمنوں کے ساتھ کمپرومائز سے حاصل ہوئے تھے ۔یہ وہ ہی فوج تھی جس کی عزت اور وقار کی بحالی کو بھٹو نے محنت کشوں کے حقوق سے زیادہ اہم جا نا تھا نے 5جولائی کی شب سے لے کر 4اپریل 1979ء کی صبح تک پاکستان سے ہر سیاسی نقش کہن کو مٹانے کے سلسلے کو دراز کیا جو گیارہ سالہ وحشت اور بر بریت کی شکل میں اس سماج پر مسلط رہا ۔

محنت کشوں نے کوڑے کھائے ،جلیں بھگتیں اپنے خاندان کے خاندان اجاڑ دئیے لیکن پارٹی کے انقلابی پروگرام کے حصول کے لیے ضیائی آمریت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے ۔1983ء میں ایک مرتبہ پھر پارٹی نے محنت کشوں کو دوبارہ پکارا لیکن محض سرمایہ دارانہ جمہوریت کی بحالی کے لیے اس پر بھی ا نھوں نے اپنی پارٹی کی کال پر جمہوریت کی بحالی کے لیے بے مثال قربانیاں دیتے ہوئے جد وجہد جاری رکھی لیکن وہ سیاسی قیادت ہی کیا جو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھے ۔بینظیر بھٹو کے گرد محنت کشوں کو منظم ہوتے دیکھ کر ضیاء الحق نے ایک مرتبہ پھر انتخابات سے فرار چاہا لیکن اس کے لیے اس کے حامیوں اور سامراجی قوتوں نے ایک نیا راستہ غیر جماعتی انتخابات کا نکالا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے محنت کشوں کو ان غیر سیاسی ہتھکنڈوں کے خلاف منظم کرنے کے بجائے ان انتخابات کے بائیکاٹ کے شکل میں سیاسی خود کشی کا فیصلہ کیا ۔عوامی پارٹی کے بائیکاٹ کے باعث غیر سیاسی اشرافیہ کی ایک کھیپ کامیاب ہو کر سیاست اور حکومت میں آ گئی جو آج تک اس ملک کی سیاست پر غلبہ حاصل کیے ہوئے ہے۔

1986ء میں ایک بار پھر محنت کشوں نے بینظیر بھٹو کی جلاوطنی سے واپسی پر لاہور کی سڑکوں کو لاکھوں انسانوں سے بھر کر پاکستان پیپلز پارٹی سے اپنی وفاداری کو ثابت کر دیا۔ شہید بی بی کا استقبال پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی اجتماع تھا جس میں محنت کش بینظیر بھٹو کو پارٹی کا نظریہ ان نعروں کی صورت میں یاد دلا رہے تھے ’’ بینظیر آئی ہے انقلاب لائی ہے ،امریکہ کا جو یار ہے غدار غدار ہے ‘‘۔اس روز اگر بینظیر بھٹو اس عوامی طاقت کو اسلا م آباد کی طرف موڑ دیتی تو نہ صرف ضیائی آمریت کا خاتمہ ہو جاتا بلکہ اس سماج کو بھی ایک نئے سماج کے ساتھ بدل دیا جا تا ۔لیکن اس وقت بھی قیادت عالمی سامراجی قوتوں کے ساتھ کمپر ومائز کر چکی تھی ۔ضیائی آمریت جس کا آغاز 5جو لائی 1977ء کو ہوا تھا کا خاتمہ اگست 1988ء میں ایک فضائی حادثے میں ضیاء الحق کی ہلاکت کے نتیجے میں ہوا ۔

1988ء میں ملک میں عام انتخابات کروائے گئے جن پاکستان پیپلز پارٹی کے مقابلے میں ایک اتحاد آئی جے آئی بنوایا گیا اس اتحاد کو انتخابی مہم اور انتخابات میں کامیابی کے حصول کے لیے عوام دشمن ملٹری اسٹبلشمنٹ نے آئی ایس آئی کے ذریعے پیسے تقسیم کیے گئے لیکن اس سب کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی ملک سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی بن کر سامنے آئی لیکن اب کی بار پارٹی نے سوشل ڈیموکریٹ بن کر واضح سامراجی عزائم کی تکمیل کے لیے نجکاری جیسے محنت کش دشمن منصوبے شروع کر کے نظریاتی انحراف کی انتہاؤں کو چھو لیا ۔لیکن ان تمام تر نظریاتی انحرافات کے باوجود عوام دشمن قوتوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنے اعتماد کے قابل نہیں سمجھا جس اعتماد کے حصول کے لیے قیادت ہر گزرتے دن نظریات کو پس پشت ڈالتی آ رہی تھی ۔ان عوام دشمن قوتوں نے محض ڈیڑھ سال بعد پیپلز پارٹی کی حکومت کو کر پشن اور اقرباپروری اور بد امنی جیسے الزامات لگا کر برطرف کر دیااسی طرح پارٹی کی دوسری حکومت بھی انہی الزامات کے تحت برطرف کی گئی۔ ان حکومتوں کے دوران ضیائی باقیات جو پارٹی میں گھس گئے تھے لیکن کرپشن کے ذریعے پارٹی کے عوامی تاثر کو بر ی طرح خراب کیا ۔جس کے باعث پارٹی کی دوسری حکومت کی برطرفی پہ عوام نے کوئی احتجاج نہ کیا اور 1997ء کے الیکشن میں محنت کشوں نے اپنی پارٹی اور قیادت کی نظریات مخالف پالیسیوں کے خلاف خاموش احتجاج الیکشن میں ووٹ نہ ڈال کر کیا۔ نتیجے کے طور پر پارٹی صرف 17پارلیمانی نشستیں حاصل کر پائی ۔اور نئی قائم ہونے والی حکومت نے احتساب کے نام پر پارٹی کارکنوں اور قیادت کے خلاف مقدمات کا لامتنائی سلسلہ شروع کر دیااور بی بی نے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی ۔اسی دوران 1999ء میں جنرل مشرف نے ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا ۔بعد ازاں جنرل مشرف اپنے پیش رو جنرل ضیاء کی طر ح ایک ریفرنڈم کے ذریعے صدر بن گیا ۔ اس نے اپنی ایک منظور نظر حکومت کے قیام کے لیے الیکشن کروانے کا فیصلہ کیا جس کے لیے اس نے سیاسی جماعتوں کے مقبول لیڈر شپ سے محروم کرنے کی خاطر نئے قوانین متعارف کروائے۔ جن کی بنیاد پر بینظیر بھٹو الیکشن میں حصہ نہ لے سکی اور تاریخ میں پہلی مرتبہ پارٹی کسی بھٹو کے بغیر الیکشن میں گئی ۔اس کے باوجود محنت کش عوام نے اس کو پارٹی کو دوسری بڑی پارٹی کا درجہ دیا اس امید کے ساتھ وہ ان کی محرومیوں کے خاتمے کے لیے کوئی کردار ادا کرے گی ۔اسی دوران مشرف اور ملٹری اسٹبلشمنٹ پارٹی پر ایک اور وار کیا پٹریاٹ کے نام سے ایک گروپ پارٹی سے علیحدہ ہو کر حکومت کاحصہ بن گیا۔بینظیر بھٹو کی جلاوطنی کے باوجود محنت کشوں نے انتہائی نامساعد حالات میں پارٹی کو زندہ رکھا۔اس دوران مشرف نے اپنی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن کو دیکھ کر امریکہ اور دیگر سامراجی ممالک کی مدد سے بینظیر بھٹو کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دیا جس کے پارٹی میں موجود اسٹبلشمنٹ کے نمائندوں نے بی بی کو پہلے سے تیار کر رکھا تھا ۔ پھر بی بی عوامی طاقت پر بھروسے کی بجائے ایک معاہدے کے تحت وطن واپسی کا فیصلہ کرتی ہے ۔تمام تر میڈیا اور دانشور گزشتہ ددس سالوں کی کرپشن کہانیوں اور بد نام کر دینے والی مہم کے نتیجے کے طور پر یہ سمجھ اور بیان کر رہے تھے کہ پیپلز پارٹی غیر مقبول ہو گئی ہے ۔اب کوئی 50سے 60ہزار لوگ بینظیر کا استقبال کرنے آئیں گے ۔لیکن وہ سب کے سب اس وقت ورطہ حیرت میں مبتلا ہو گئے جب کراچی کی سڑکیں پھٹے پرانے کپڑوں ،پرانے اوربوسیدہ سلیپر وں کے ساتھ محنت کشوں کے سمندر سے بھر گئیں ،جو بی بی کا استقبال کرنے نہیں اس کو یہ دیکھانے آئے تھے کہ وہ اس غربت ،افلاس ،بیماری ،جہالت اور پسماندگی کے نظام کے خاتمے کے لیے اپنی روایتی پارٹی کو اس کے بنیادی منشور کی یاد ان نعروں بینظیر آئی ہے روزگار لائی ہے کے ساتھ دلانے اور اس نظام جس میں روزگار نہیں ،تعلیم نہیں ،صحت نہیں کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کے لیے نکلے ہیں ۔یہی وہ عوامی طاقت کا اظہار تھا جس نے بی بی کو اس معاہدے کو توڑنے پر مجبور کر دیا تھا اور اس عوامی طاقت کے خوف نے عالمی سامراج او ر پاکستانی ملٹری اسٹبلشمنٹ نے محنت کشوں کو پیپلز پارٹی اور بی بی کے گرد اکٹھے ہو نے اور آگے بڑھ کر اس نظام کے خاتمے کے طرف جانے سے روکنے کے لیے بم دھماکوں کا سہار ا لیا ۔لیکن محنت کشوں نے اپنی قائد کو اب کی بار ہر مصلحت سے باہر آنے پر مجبور کر دیا تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی کا ہر جلسہ ایک طوفان تھا اور بی بی کی ہر تقریر پہلے سے کئی زیادہ اس نظام اور اس کی پروردہ ریاست کو للکار رہی تھی ۔اب یہ للکار ہر گزرتے دن کے ساتھ انقلابی رنگ اختیار کر تی جا رہی تھی ۔یہ سار ا انقلابی رنگ بی بی کو موت کی وادی میں لے گیا یہ وہ مقام تھا جہاں تاریخ نے ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی کو اس کو خواب کی تعبیر کو موقع مہیا کیا تھا ۔بی بی کی شہادت کے خلاف عوامی غم وغصے کو ایک انقلابی سر کشی میں بدلا جا سکتا تھا یہاں پھر ابن الوقت قیادت نے اس غم و غصے کوفاتحہ درود کی شکل میں ٹھنڈا کر کے محنت کشوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا تھا ۔اور ایک لولا لنگڑا اقتدار لے کر محنت کشوں کی زندگیا مزید اجیرن کیں جو یہ ثابت کرتا ہے کہ پی پی پی کی قیادت نے ماضی سے کچھ بھی نہیں سیکھاآج ایک اور 5جولائی آ رہا ہے لیکن یہ پہلوں سے بہت مختلف ہے ۔آج پاکستان پیپلز پارٹی اپنی تاریخ کے بد ترین بحران سے گزرنے کے بعد ایک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اس کو اپنی بقاء کا سوال آن کھڑا ہو ا ہے ۔ہاں غیر مقبول ہو رہی پیپلز پارٹی مگر کون سی حکمران طبقے کی لیکن محنت کشوں کی پیپلز پارٹی تو اب نئی انگڑائیاں لے رہی ہے ۔سوال آج پیپلز پارٹی میں موجود ان نظریاتی قوتوں کا ہے کہ وہ محنت کشوں کو اس بحران کے عہد میں کس طرح پارٹی کے بنیادی منشور اور نظریا ت پر منظم کرتی ہیں ۔ان کے پاس ماضی کے تلخ تجربات کا تلخ سبق بھی ہے اور حال کی ابن الوقتی بھی ،اب فیصلہ ان کے ہاتھوں میں ہے کہ وہ کیسے پارٹی کے نظریات کو لے کر عوام کے پاس زیادہ تیزی کے ساتھ جاتے اور ان کی فتح مندی کو یقینی بنانے میں اپنا تاریخی کردار اداء کرتے ہیں ۔ 5جولائی کا سبق خود ذولفقار علی بھٹو نے ان الفاظ میں دیا تھا’’ میں آج اس آزمائش میں اس لیے مبتلا ہوں کہ میں نے دو متضاد طبقات میں آبرو مندانہ مصالحت کروانے کی کوشش کی یہ فوجی بغاوت یہ ظاہر کرتی ہے کہ طبقاتی جد وجہد ناقابل مصالحت ہے ۔اور ان میں سے ایک کی فتح دوسر ے کی شکست ہے ‘‘۔شاید اس سے بہتر کوئی سبق نہیں ہو سکتا اس کو سامنے رکھتے ہوئے ہی پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی بقاء جو صرف نظریات کی طرف لوٹنے میں ہے دوسرا کوئی راستہ اب بچا نہیں ۔اب محنت کشوں کو اپنی پارٹی کو اپنے ہاتھوں میں لے کر فیصلہ کن لڑائی کے لیے منظم کرنا ہو گا ۔

سچے جذبوں کی قسم فتح ہماری ہوگی

2 thoughts on “جولائی 5 : نظریاتی پسپائی کا سبق

Leave a Reply