وہ قرض جو چکا نا ہے

تحریر :۔ اسجد عظیم خان

یوم تا سیس منا ئے جانے کا حقیقی مقصد اپنے مقاصد اور نظر یا ت کوپیش نظر رکھتے ہو ئے اپنے گزرے سالوں کا محاسبہ کرتے ہو ئے آمدہ سالوں کی منصوبہ بندی کرنا اور ادھورے مقاصد کی تکمیل کرنا ہو تا ہے ۔یعنی اپنی کامیابیوں اور نا کا میابیوں پر غور کے بعد آئندہ نا کامیابیوں سے بچنا اور اپنی منزل تک پہنچنا ہو تا ہے ۔پا کستا ن پیپلز پا رٹی 30نومبر کواپنے پچا سویں سال میں داخل ہو رہی ہے ۔اگرچہ یوم تا سیس پر پچا س سال تاریخ کے محاسبے کی ضرورت ہے ۔اور وہی محاسبہ اس مضمون کا موضوع بحث ہے ۔انسانی تا ریخ کے کچھ عہد سماجوں کو یکسر بدل دینے والی تحریکوں کو ابھارنے والے ہوتے ہیں ۔اوران عہدوں کے یہ تحریکی اُبھار اگر انقلابی قیادتوں کے گرد منظم ہو جائیں، اور مار کسی نظریات اور سائنسی اصولوں پر مبنی انقلابی پارٹیاں سماج کاحصہ ہوں تو یہ ابھار انسانی سماج کو ایک ہی جست میں صدیوں آگے لے جاتے ہیں لیکن اگر ایسے ابھار انقلابی پارٹی کے نہ ہونے کے باعث ناکام ہوتے ہیں۔ تو پھر ایسے رجعتی ادوار آتے ہیں جو سماجوں کا تارج کردیتے ہیں ۔یہ بیانک رجعتی ادوار پھر پہلے پہل ان تحریکوں کا انتقام لیتے ہیں اور یہ انتقام پورے معاشرے کو ظلم بربریت اور لاقانونیت کا ایک شاہکار بنادیتے ہیں۔ ایسی ہی مثال اس ملک پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا جنم ایک ایسے ہی تاریخ ساز عہد میں ہوا تھا۔ جس میں پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ملکوں میں انقلابی تحریکیں اپنے عروج پر تھیں۔ اگر چہ ایک طرف 1950 ؁ء کے بعد پاکستان میں تیز ترین صنعتی ترقی ہوئی تھی ۔لیکن اس ترقی نے دوسری طرف غربت اور اما رت کی تفریق میں بے پنا ہ اضافہ کیا تھا ،اور اس صنعتی ترقی کا محنت کش طبقے کی زندگیوں پر کو ئی اثرنہیں پڑا تھا ۔اسی صنعتی ترقی کے عہد میں 1965 ؁کی پا ک بھا رت جنگ کے بعد جب پا کستان شدید بحران میں داخل ہو ا تو اس کا بھا ری بو جھ محنت کش طبقے پرڈالنے کی کو شش کی گئی تھی ۔جس نے 50اور60کی دہائی کے ابتد ا ئی سالوں کی صنعتی ترقی کے عوام کے معیا ر زندگی کو بہتر نہ بنانے کو زیادہ شدت کے ساتھ اُبھارا۔صنعتی اور اقتصادی ترقی اور محنت کشوں کی زندگیوں کے حالا ت کے اس تضاد کے با و جود ظاہر ی طور پر سماج پر سکوت طاری تھا ۔لیکن اندر ہی اندر ایک خوفناک لاوا پک رہا تھا۔جس نے کسی نہ کسی لمحے پھٹنا تھا ۔اس لا وے کے پھٹنے نے جب انقلابی ریلے کو جنم دیا اس کی طولانی موجو ں پر تیر تے ہو ئے پا کستا ن پیپلزپارٹی نے ایک عوامی روایت کا روپ دھارا۔

پاکستان پیپلز پا رٹی کے جنم کے سال کا آغاز پا کستان میں ریل بانوں کی ایک بے مثال ہڑتال سے ہو ا تھا ۔اس ہڑتا ل کا خاصایہ تھا کہ اسے روایتی ریلوے ٹریڈ یونینز کی مخالفت کے ساتھ ساتھ آمریت کے ریاستی جبر کامقابلہ بھی کر نا پڑا تھا ۔اس ہڑتا ل کو پا کستا ن کے سیاسی اُ فق پر مو جو جود اس وقت کی با ئیں بازو کی جما عت (NAP)کی ریلوے ٹر یڈ یو نین نے بھی سی ۔آئی ۔اے کی تحریک قرار دیا تھا ۔لیکن ان کے اس عمل نے بہادر ریلوے محنت کشوں کو اپنے لیڈروں کو خیر آباد کہنے پر مجبور کیا، اوروہ اُن کو چھوڑکر ہڑتال کا حصہ بنے۔ اس ہڑتال نے دودن کے اندر ملک کے مشرقی اور مغربی حصے کی تمام بڑی ریلوے لائنوں کا جام کر کے رکھ دیا تھا۔ ریلوے محنت کشوں کی اس جدوجہد میں تین مزدوروں نے اپنی جانوں کی قربانی دیا، جس کے بعد حکومت کو یہ احساس ہوگیا کہ سطح کے نیچے اس کے خلاف بغاوت کا خوفناک الاؤ جل رہا ہے۔ جو اس تحریک کی صورت میں اس کو جلد کر بھسم کردے گا۔ کیونکہ اس ہڑتال نے حکمرانوں کے کاسہ لیس رہنماؤں کو بھی بے نقاب کیا تھا اور تحریک اپنے لئے مزدور راہنماتراش لائی تھی اور یہی مزدور راہنما جو اپنی بائیں بازو کی قیادت سے دلبردشتہ اور مایوس تھے اور یہی آنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادی اساس بنے۔ اور یہ برصغیر کی واحد پارٹی تھی جس کو اتناشاندار ٹریڈ یونین بنیادیں ملی تھیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے تاسیس اجلاس سے تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل 16ستمبر1967 ؁ کو رسول بخش تالپور کے گھر حیدر آباد میں جے اے رحیم اور ذوالفقار علی بھٹو ایک نئی پارٹی کے قیام کا فیصلہ کرچکے تھے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ جے اے رحیم ایک سفارتکار تھے اور نظریاتی طور پر مارکسٹ تھے، نے اس پارٹی کے قیام پر زیادہ زور دیا تھا۔ اور انہوں نے پارٹی بنانے کا اعلان بھی کردیا تھا۔

پیپلز پارٹی کا تاسیس اجلاس ایوبی آمریت کے جبر کے سائے میں ہوا تھا اجلاس کیلئے حکومتی دباؤ کے پیش نظر کوئی گراؤنڈ کوئی حال دستیاب نہ ہوسکا تو اس کے مضافاتی علاقے گلبرگ میں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ کا انتخاب کیا گیا اور 30نومبر 1967 ؁ء کے اجلاس کیلئے لاہور ہائی کورٹ کے صدر اسلم حیات کو کنوینئر مقرر کیا گیا۔

پاکستان کے حکمرانوں کو اس وقت شاید اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ اجلاس اس ملک کی سیاسی تاریخ کو بدل کر رکھے گا۔ اور ان کے اسکو نمبر سنجیدہ نہ لینے کا اندازہ اسی وقت کے مشہور اخبارات کے ان تبصروں سے کیا جاسکتا ہے۔ ’’ یہ اجلاس بے نام بے چہرہ سیاسی مجنوؤں، بھگوڑے طلباء، ناکام ملکیوں، کھوکھلے نظریہ دانوں اور متذبذب کیمونسٹوں کا اکٹھ تھا‘‘ پاکستان ٹائمز۔
’’ اجلاس کسی سنجیدہ سیاسی اجتماع کی بجائے نوخیز نوجوانوں کا مجمع تھا‘‘ڈان اخبارات کے ان تجزیوں کے جواب میں ذوالفقارعلی بھٹو نے کچھ یوں تبصرہ کیا تھا ’’عظیم تحریکوں کے آغاز بڑے ہی عاجزانہ اور چھوٹے ہوئے ہیں۔ ‘‘

ان تبصروں کے باوجود 30نومبر 1967 ؁ء کا چارسیشنز پر مشتمل اجلاس ہوا اور اس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے پارٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس اجلاس میں پارٹی کی جو بنیادی دستاویزات منظور کی گئی وہ تمام کی تمام سوشلسٹ سماج کے قیام کی نشاندہی کرنی ہیں۔ ان دستاویزات کے مطابق بنیادی اصول

۱۔ مقصدپارٹی کا مقصد پاکستان کو عوام کی خواہشات کے مطابق سوشلسٹ سماج میں ڈھالنا ہے۔
۲۔ راہنما اصول ۔ پارٹی اپنی پالیسوں اور سرگرمیوں کے لیے مندرجہ ذیل رہنما اصول اختیار کرتی ہے۔
۳۔ غیر طبقاتی معاشرہ :۔ مسا و اتی جمہوریت ۔
۴۔ اقتصادی اور سما جی انصاف کی سو شلسٹ نظریا ت کا استعما ل

پارٹی کی اساسی تحریر کچھ اس طر ح ہے ۔
’’پا رٹی کے قیا م کا حتمی مقصد غیر طبقاتی معاشرے کا قیا م ہے جو آج کہ عہد میں صرف سوشلزم کے ذریعے ہی ممکن ہے‘‘ ۔یہ وہ سو شلسٹ اساسی پر و گرام اور نظریا ت تھے ۔جنہوںں نے پا کستان پیپلز پا رٹی کو اُ س وقت کی با ئیں بازو کی تما م پارٹیوں سے زیا دہ ریڈیکل بنا یا اور یہ اسکی عوامی طا قت ہے۔اس عوا می طا قت نے ایک انقلابی تحریک کا روپ دھا را۔ جس کا آغا ز 6نومبر 1968 ؁ء کو ر ا و لپنڈی پو لی ٹیکنکل کا لج اور گو رڈن کا لج کے طلباکے لنڈی کوتل کسٹمز حکام کے خلاف کئے گئے مظا ہرے سے ہو ا تھا ۔جس میں عبدالحمید نا می نوجو ان کی شہا دت سے ایک ایسا لاو ا پھٹ پڑا جس نے ملک کے طول و عرض کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اسی انقلابی تحریک کی بنیاد رکھ دی جس کی مثال ایشیاء کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

7نومبر 1968 ؁ء سے 25مارچ1968 ؁ء تک کے 138دن ایک ایسی بے مثال اور طویل ترین تحریک کے تھے جس نہ صرف ایشیاء بلکہ کرۂ ارض کے محنت کش طبقے کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا اور پشاور سے چٹانگ گانگ تک ایک ہی نعرہ سنائی دے رہا تھا۔’’ انقلاب انقلاب سوشلسٹ انقلاب‘‘۔ پاکستانی تاریخ کے یہ وہ ناقابل فراموش دن تھے۔ جب مشرق ومغربی پاکستان میں تمام تعصبات محنت کشوں، مزدوروں ، کسانوں ، نوجوانوں ، طلباء اور خواتین کی بے مثال طبقاتی یکجہتی کے پاؤے تلے روند دیئے گئے تھے۔ اور طاقت چند خاندانوں کے محلوں سے نکل کر کھیتوں ، کھلیانوں اور گلی کوچوں میں آگئی تھی۔ مزدوروں نے فیکٹریوں پر قبضے کر لئے تھے ،کرایہ دار کرایہ ادا کرنے سے انکاری ہوگئے تھے۔ نوجوانوں نے ٹرینوں اور بسوں کے کرائے دینے سے انکار کردیا تھا۔ دراصل یہ تحریک کی شعوری طور پر ایک حقیقی سوشلسٹ تحریک بن چکی تھی اور اس سوشلسٹ تحریک اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سوشلسٹ پروگرام کے سنگم نے پاکستان پیپلز پارٹی کو اس ملک کے محنت کشوں کی سیاسی معراج بناتے ہوئے اسے ایک عوامی روایت کے روپ میں ڈھال دیا تھا۔

اس تحریک کے دوران 250کے قریب محنت کشوں کی جانیں قربان ہوئیں جو مردانہ وار ریاست جبر واستبدا کا مقابلہ کرتے ہوئے درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔ 5دسمبر 1968تک تو یہ تحریک طلباء اور نوجوانوں کی تحریک تھی اگرچہ اس دوران حکومت نے یونیورسٹی اصلاحات کے ذریعے تحریک کو کنٹرول کرنے کی کوششیں بھی کی لیکن ناکام رہی ،بلکہ اس عمل کے بعد سماج کی دیگرپرتیں بھی اس کا حصہ بنتی گئیں جو اس بات کا واضح اظہار تھا کہ اس تحریک کا کردار اصلاح پسند نہیں بلکہ انقلابی ہے۔

6دسمبر کے بعد اساتذہ ، دانشور ، درمیان طبقے کے لوگوں ، انجنیئر ڈاکٹر ، سرکاری اداروں کے ملازمین اور ٹیکنیکل شعبوں کے افراد اس تحریک کا حصہ بن چکے تھے جن میں CMB(سینٹرل میڈیکل باڈی) (انجنیئر ایکشن کمیٹی ) اور WPLAویسٹ پاکستان لیکچرز ایسوسی ایشن وغیرہ شامل تھیں۔یہ تحریک اس وقت مزید طاقتور ہوئی جب فنی محنت کش اس کا حصے بنے ،اگرچہ اس دوران ریاست اپنے کاسہ لیس ٹریڈ یونینز لیڈران کے ذریعے اس تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کر چکی لیکن اس کی ہر چال ناکام ہو رہی تھی بلکہ عمومی حالات کو اس طرح کے بن چکے تھے کہ ان روایتی لیڈروں کو محنت کشوں کے غیض و غضب کے سامنے اپنی جانوں کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ اس سارے عرصے کے دوران مزدوروں کے بڑے بڑے جلسے پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام ہونا شروع ہوچکے تھے۔اور مزدور اپنے معاشی مطالبات کو مکمل طور پر سیاسی روپ دے کر پیپلز پارٹی کی مضبوط طاقت بن چکے تھے۔ یکم فروری 1969 ؁ء کو ایوب خان ایک مصالحتی بیان اور گول میز کانفرنس کے ذریعے تحریک کو زائل کی کوشش کی لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا یوں یہ کانفرنس مکمل طور پر ناکام ہوئی اس دوران ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو پارٹی کے انقلابی ہوتے ہوئے کردار کا اندازہ عبدالحمید شہید کی نماز جنازہ میں پنڈی گھیب میں شرکت کر اور پھر ہر گزرتا دن پیپلز پارٹی اور بھٹو کا مزید ریڈیکل کرتا گیا جو کہ اس کے 1970کے ایک عظیم تر انقلابی منشور کی صورت میں ظاہر ہوا۔

1969 ؁ء میں چیئرمین بھٹو کی مندرجہ ذیل تقریریں ملتی ہیں’’ پیپلز پارٹی ایک انقلابی پارٹی ہے آپ کا فرض ہے کہ آپ ایک بڑی جدوجہد کی تیاری کریں میں ایک سچا سوشلسٹ ہوں اور اپنے طبقے سے بغاوت کر کے آیا ہوں اور اس کے خلاف جدوجہد کیلئے تیار ہوں۔ ہماری منزل شاید دور ہے لیکن سوشلزم آکے رہے گا جب تمام ذرائع پیداوار ، تمام کارخانے کھیت اور کھلیان اور جاگیردار وں اور سرمایہ کاروں کے تمام اثاثے قومی تحویل میں لیئے جائیں گے ۔ بھٹو عوامی عدالت ’’صفحہ نمبر22‘‘

21فروری 1969 ؁ٗ کو تحریک کی شدت کا سامنے بے بس ہوتے ہوئے ایوب خان کے اعلان کیا کہ وہ 1970 ؁ء کے الیکشن میں حصہ نہیں لے گا۔ لیکن اس اعلان نے ان شعلوں کو مزید بڑھکا دیا اور محنت کشوں اور سرکاری ملازمین نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا۔ جس میں سرکاری ہسپتال، بنک ،کارخانے، دھاڑی دار مزدور، ٹیلی گراف، ٹیلی فون ، واپڈا ، پی ڈبلیوڈی اور دیگر تمام محنت کش تنظیموں نے شامل ہونے کا اعلان کیا اور اس دوران اس ملک کے سب بڑے ایوانوں ایوان صدر اور جی ایچ کیو کی بجلی بند کر کے اس ملک کے محنت کشوں کے اس ایک تاریخ رقم کی تھی یہ سب کچھ مریخ پر نہیں کہ زمین پاکستان پر ہورہا تھا اور اس سارے عمل میں دیہاتوں میں جلاؤ گھیراؤ اور کسان تحریک نے الاؤ کا کام کیا تھا۔ غرض کہ اس تحریک کا ہر پہلو سوشلسٹ رنگ اختیار کرچکا تھا۔ لیکن جوں جوں ایوب خان کی گرفت کمزور پڑتی جارہی تھی تو ں توں استحصالی قوتوں نے دائیں بازو، بالخصوص جماعت اسلامی اور نظام اسلام پارٹی کے رجعت پسند وں کے ذریعے تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش شروع کردیں ان پارٹیوں نے مطالبہ شروع کر دیا کہ ایوب خان کو فی الحال اقتدار کی پر امن منتقلی تک نہیں ہٹنا چاہیے۔ جماعت اسلامی کے میاں طفیل نے اعلان کیا تھا کہ ’’پارٹی اس موقع پر ایوب خان کی معزولی کی مخالفت کرتی ہے‘‘ ۔ مودودی نے حد کر دی تھی اس اعلان کے ساتھ کہ ’’جس شہر یا محلے یا گاؤں میں سوشلزم کا نعرے لگے وہاں یہ نعرہ لگانے والے کی زبان کاٹ دی جائے‘‘۔ یہ وہ سارا عمل تھا جو اس ملک کے محنت کش استحصالی قوتوں کے خلاف برسرپیکار ہو کر اس ملک میں برپا کرچکے تھے۔ اور یہی وہ پس منظر تھا جس نے اس ملک میں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور اس تحریکی دباؤ کے نتیجے میں پیپلزپارٹی نے انقلابی پروگرام دیا تھا جس پر بے انتہا مقبولیت حاصل کی تھی لیکن صرف انقلابی پروگرام دینے سے حاصل ہونے والی مقبولیت کافی نہ تھی۔ بلکہ اس انقلابی پروگرام کے گرد ایک منظم انقلابی طاقت کی تعمیر تھی اس سماج کو سوشلسٹ سماج تک لے جاسکتی تھی۔

لیکن بدقسمتی یہ تھی کہ ابتداء ہی میں پیپلز پارٹی مختلف الخیال طبقات اور عمومی طور پر بائیں بازو کے متحارب نظریاتی وسیاسی پس منظر رکھنے والوں پر مشتمل تھی۔ جس کی وجہ سے یہ ایک مضبو انقلابی پارٹی میں نہ ڈھل سکی بلکہ ایک تحریک کی صورت میں آج بھی اس سماج میں موجود ہے۔ ایک انقلابی پارٹی ہونے کے ناطے ایک متبادل سیاسی اور تنظیمی ڈھانچہ تعمیر کرنا کی ضرورت ہوتی ہے ،جو اقتدار پر کنٹرول کے بعد مکمل ریاستی ڈھانچے کی تعمیر کرتی ہے بصورت دیگر خواہ جتنی بھی انقلابی پارٹی ہو اس کی ناکامی ناگزیر ہوتی ہے ۔کیونکہ اس نے انحصار مروجہ سرمایہ دارانہ و ریاستی ڈھانچے پر کرنا ہوتا ہے اور یہی کچھ پیپلزپارٹی کے ساتھ ہوا۔

لیکن محنت کشوں کا اور پیپلز پارٹی کے ساتھ کئی اتار چڑھاؤ پر مشتمل ہے کبھی یہ بالکل نحیف اور کمزور ہوتا ہے کبھی بہت توانا ہو جاتا ہے جس کا اظہار ہم نے ایک طویل جدوجہد کے بعد1986 ؁ٗ میں لاہور میں بینظیر بھٹو کے استقبال کی صورت میں دیکھا جس میں شامل محنت کش عوام بینظیر اور پارٹی کو اس کے انقلابی پروگرام کی یاد ایک زیادہ موثر نعرے ’’بینظیر آئی ہے انقلاب لائی ہے ‘‘کے ذریعے دلا رہے تھے۔ یہاں سے پی پی پی کی مصالحت پسندی تیزی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے پارٹی اقتدار میں آتی ہے باہر نکال دی جاتی ہے۔ پھر بینظیر بھٹو کوایک خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنا پڑتی ہے پھر 2007 ؁ء ؁ٗ میں واپس آتی ہے۔ اس ملک کے غریب، بے بس اور محروم طبقے پرانے کپڑوں اور سلیپروں کے ساتھ اس کے استقبال کیلئے کراچی کی سڑکوں پر جمع ہو کر ایک مرتبہ پھر بینظیر کو یہ احساس دلاتے ہیں ہم تمہارے استقبال کیلئے نہیں اپنی زندگیاں بدلنے نکل آئے ہیں ان کی مانگیں زیادہ ریڈیکل نعرے میں ڈھل چکی تھی یعنی ’’بینظیر آئی ہے روزگار لائی ہے ‘‘اب یہ تو واضح ہے کہ روزگار سرمایہ داری میں ممکن نہیں رہا تھا اب اس مطلب واضح طور پر اس نظام کی تبدیلی تھی اور پھر محنت کشوں کا یہ عظیم ابھار بینظیر بھٹو کو تمام مصالحتوں سے باہر نکال کر ٹکراؤ کی طرف لے جاتا گیا ،جو بالآخر اس کی شہادت پر منتج ہوا۔ اس شہادت کے بعد پارٹی نے مصالحتوں کی حدیں پار کردیں ۔اقتدار تو حاصل کیا ضیاء آمریت کے تمام کے تمام دھڑے جن کے خلاف ہزاروں لاکھوں محنت کشوں نے اپنی زندگیاں قربان کی اس اقتدار کے حصے دار بنے۔ جنہوں نے اس پارٹی کی محنت کشوں کی نظر میں ساکھ کو بری طرح مجروح کیا جس کا اظہار یہ روائتی متحرک سیاسی کرداروں کے بجائے ذاتی دوستوں کے ذریعے حکومت کاچلا جانا تھا حا۔لانکہ حکومت نے محنت کش طبقے کو خاصی مراعات بھی دیں لیکن وہ کوئی اثر نہ رکھ پائیں۔

آج جب پارٹی اپنے 49ویں یوم تاسیس کے موقع پر ایک شدید ترین فکری اور نظریاتی بحران سے نکلنے میں مصروف ہے تو پارٹی کی بنیادی دستاویزات بالکل واضح طور پر اس کا حل پیش کر رہی ہیں۔ پاکستان کو 1970 ؁ء میں جن بڑے مسائل کا سامنا تھاان غربت اور امارات میں بڑی خلیج، بیروزگار علاقائی تعصبات ، بیماری اور جہالت ، ملکی تناؤ اور عالمی وعلاقائی سیاست میں غیر موثر کردار قابل ذکر ہیں اور یہ یہی مسائل آج اس سے کئی گنا زیادہ شدت سے درپیش ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے 1970کے منشور نے ان تمام مسائل کا تفصیلاً حل پیش کیا تھا جس پر جزوی طور پر عمل درآمد نے ملک کے دولخت ہونے کے باوجود ملک کو اقوام عالم میں ایک باوقار مقام دلایاتھا تو اس ان کے حل کیلئے کیوں اس نظریاتی پروگرام کا جدید ترین ذرائع کی موجودگی میں نکھار کر آگے لایا جاسکتا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی آج کل پارٹی کو پنجاب میں دوبارہ سے کھڑا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ اس عمل سے پہلے وہ پارٹی کی ان دستاویزات اور پروگرام کو ضرور سامنے رکھیں اور پھر فیصلہ کریں کہ وہ کن بنیادوں پر پارٹی کو کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کیلئے ایک واضح لائن موجود ہے کہ پارٹی (Electable)کی صورت میں کھڑی نہیں ہوسکتی میر اان سے سوال ہے معراج محمد خان ، حنیف رامے ، کس نے (Electable) بنایا تھا اس نظریہ نے اس پروگرام نے آج پارٹی بڑے جاگیرداروں کے ذریعے کھڑی نہیں ہوسکتی بلکہ اس کو کھڑا کرنے کیلئے چیئرمین پیپلزپارٹی کو طلباء نوجوان ، مزدوروں، کسانوں کے دروازوں پر دستک دینے ہوگی ۔ بائیں بازوں کے دانشور طبقے کے ساتھ اپنی رسم و راہ بنانی ہوگی بصورت دیگر مصالحت اور وقت گزاری کا ہر عمل ناکامی اور گمنامی میں دھکیلتے دھکیلتے تاریخ کے کوڑا دان میں ڈالے بنا نہیں رہے گا۔

کیونکہ یہ تاریخ کا سبق ہے کہ یہ طبقاتی کشمکش ہے جو کبھی آگے بڑھتی کبھی پیچھے ہٹتی ہے ، کبھی کمزور اور کبھی توانا ہوتی ہے لیکن یہ کبھی مرتی نہیں پیپلز پارٹی پاکستان میں اس طبقاتی کشمکش کا اظہار یہ ہے طبقہ بار بار اس کے دروازے پر دستک دیتا رہا ہے اب کی بار بھی دے گا۔ کیونکہ محنت کش جب بھی باہر نکلتے ہیں پہلے اپنا روایت کا ٹیسٹ کرتے ہیں اور پاکستان کے حالات بتارہے ہیں یہ طبقاتی کشمکش اب پھٹے گی جلد یا بدیر لیکن اب کی بار یہ کسی مصالحت کے دھوکے میں نہیں آئے گی بلکہ اپنی حتمی فتح سوشلسٹ انقلاب تک پہنچ کر رہے گی ۔چیئرمین پیپلز پارٹی اپنے شہید قائدین ہزاروں لاکھوں شہید کارکنوں کا قرض اپنے کندھے پر اٹھائے ہیں جو اس سماج کی تبدیلی کے خواب کی تکمیل پر ہی اترے گا۔ اب کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے اب کوئی جذباتی نعرہ کوئی پیوند کاری قابل قبول نہیں رہے گی ۔

اب اس یوم تاسیس پر محنت کشوں کا واضح پیغام یہ ہے کہ قیادت اپنے تمام جرائم کی معاف مانگتے ہوئے مصالحت کا ہرخول اتار کر دوبدو لڑائی لڑنے کیلئے نکلنا ہی اس قرض کو اتارنے کا طریقہ ہے محنت کش طبقہ لڑے گا یہ لڑائی اور شاید وہ کسی کا انتظار نہ کرے ۔یوم تاسیس پر تاریخ کا قرض اتارنے کے لیے ایک مکمل سیاسی اور نظریاتی پروگرام دیتے ہوئے وقت کا دھارا موڑنا ہوگا ۔بصورت دیگر تاریخ کا کوڑدان منتظر ہے۔

Leave a Reply