ٹرمپ کی فتح ، امریکہ میں بائیں بازوں کی طرف ایک بڑی تبدیلی کا موجب بنے گی

تحریر : پَٹ بائرن
 ترجمہ : الطاف بشارت

نئے صدر کے لیے متنازعہ امریکی انتخابات میں جھوٹے پلیٹ فارم اور وعدوں کی ایک فرسودہ فہرست کے ساتھ ٹرمپ کی جیب کو جلد ہی ’’ایک عظیم فتح‘‘ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

ٹرمپ کبھی بھی کسی عوامی عہدے پر فائز نہیں ہوا۔ یوں انتخابات میں کھڑا ہونے کی بنیادی شرائط کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ اس نے اپنی انتخابی صدارتی مہم ایک سپر سیلز مین کے طور پر شروع کی اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر مبالغہ آمیزی سے لیفٹ ، رائٹ اور سنٹر کے تمام تر وعدے کئے۔ لیکن سیاسی دفتر ،کسی سادہ لوح گاہک کو کوئی چیز فروخت کرنے جیسا نہیں ہے۔ جن کو کوئی سامان فروخت کیا اور پھر ان کی شکایات کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ ایک انتخاب کے بعد ووٹر آپ کا احتساب کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں، صدارت جیتنے کے بعد بیچنے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہ جاتا۔ جب معاملات غلط ہونے کی طرف جائیں گئی تو ٹرمپ کسی اور موردالزام نہیں ٹھہرا سکے گا-امریکن عوام کے لیے تمام تر غلطیوں کامنبع وائٹ ہاؤس ہی ہوتا ہے۔

اس سے بھی بدتر، واشنگٹن سے کرپشن کے خاتمے ، محنت کشوں کو ملازمتوں کی واپسی اور بہت کچھ کے وعدوں،ایسے وعدے جن کی تکمیل کا کوئی ارادہ نہیں، کی بنیاد پر اپنے آپ کو ترقی پسنداقتصادی لبادے میں پیش کرنے کے بعد–ٹرمپ نے اپنے پیٹھ پر کوڑوں کے برسنے کا راستہ ہموار کیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے آپ کو ناکام نہیں بلکہ بری طرح ناکام کرنے کے لیے قائم کیا ہے۔

اسی دورانیہ میں، انتخابی مہم کے دوران نسلی اقلیتوں اور خواتین کو وحشیانہ تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد ٹرمپ نے اپنے آپ کو آبادی کے ایک بڑے حصے سے دور کیا ہے۔ حتی کے اس نے اپنی صدارت کی مدت کے آغاز سے پہلے ہی اپنا ’صدارتی رولر کوسٹر‘ شروع کر دیا ہے۔ امریکہ میں نئے منتخب ہونے والے صدر کے خلاف عوامی مظاہروں کی کوئی مثالیں نہیں ملتیں ۔اسی طرح بہت سے مبصریں کی طرف سے ٹرم کی فتح کو نفرت اور اپہاس (تضحیک) کا جھٹکا کہا جا رہا ہے۔ یہ محض مستقبل کے انقلابی تبدیلی اور بڑے پیمانے پر احتجاج کا عکس ہے، جو آنے والے انتخابا ت میں اور اس کی باعث ریپبلکن کو ہرانے میں ایک قلیدی کردار ادا کرے گا۔

جیسا کہ ٹرمپ کے انتخاب امریکن سیاست اورامریکن سلطنت کی اٹل کمی اور تقطیب(polarisation) کی ایک اور علامت ہے۔

ٹرمپ حقیقت میں نہیں جیت سکا:۔

امریکن صدارتی انتخابات کے نتائج کے کسی بھی تجزیے میں ٹرمپ جیت نہیں سکا۔ پہلی چیز جس کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے کہ ٹرمپ حقیقت میں نہیں جیت سکا۔ جب تمام تر ووٹ حتمی طور پر گنے گئے تو مقبول ووٹوں میں کلنٹن کے ووٹ کم از کم دس لاکھ( 2فیصد)زائد ہیں۔ کسی بھی معقول انتخابی نظام ٹرمپ کے بجائے کلنٹن صدر ہوتی۔ جبکہ امریکن صدر کے انتخاب کے لیے رائج الیکٹورل کالج کے فرسودہ طریقہ انتخاب کی وجہ سے ہیلری کی برائے راست ووٹوں میں اکثریت الیکٹورل کالج میں بڑی ناکامی(ہیلری :232[43%]، ٹرمپ :302[57%] )میں تبدیل ہو گئی۔

بیسویں اور اکیسویں صدی میں یہ دوسری بار رونماء ہونے والا واقعہ ہے کہ پاپولر ووٹ اس عجیب الیکٹورل کالج کی طرف سے الٹ دیا گیا۔ پہلی بار ایسا 2000میں ہوا جب ریپبلکن کے جارج ڈبلیو بش نے ڈیموکریٹک امید وار الگور کو شکست دی–وہ انتخابات صرف ایک ریاست فلوریڈا میں غلط گنتی کی وجہ سے بھٹکائے گئے اور اس کے ذریعے قدامت پسندوں کے غلبے والی سپریم کورٹ کے تنگ نظر فیصلے کی مدد سے بش کو فاتح کر دیا گیا–اور ہم سب اُن انتخابات کے تباہ کن نتائج سے آگاہ ہیں-امریکہ نے افغانستان اورعراق میں جنگ چھیڑ دی جس نے پورے خطے کو انتشار اور تباہی کی طرف دھکیل دیا۔

یہ فطری طور پر ہمیں اس سوال کی طرف لے جاتا ہے کہ امریکہ میں دوسرے کئی ممالک میں رائج برائے راست ووٹوں سے منتخب ہونے والے نظام کے برعکس اس قدر غیر جمہوری نظام کیوں رائج ہے۔ اس سب کے بعد ہر امریکی ریاست کا گورنر ،کانگریس کے صدر کی طرح ریاستی قانون سازی میں ایک اہم کردار ہوتا ہے ، حالانکہ وہ برائے راست منتخب ہوتا ہے۔

اس کا جواب ریاست ہائے متحدہ کی ترقی کی تاریخ میں پوشیدہ ہے ۔یہ نظام خاص طور پر اس کے بانی آئین میں غلام دارانہ نظام کو شامل کرنے کے لیے متعارف کروایا گیا۔ اگر وہاں صدارت کے لیے برائے راست انتخابات ہوتے تو جنوبی غلام ریاستیں اپنے کم اثر و رسوخ کے برعکس سیاہ فام غلاموں کو ووٹوں کی اکثریت دیتے جوسفید اقلیت کے برعکس انتخابات کے اہل نہیں تھے۔ظاہر ہے غیر غلام ریاستوں میں غلاموں کو بھاری اکثریت سے شکست ہو جاتی اسی وجہ سے وہ صدراتی انتخابات کو اپنے حق میں کئے جانے کے طریقہ کار کے بغیر نئے تاسیسی آئین پر دستخط کرنے کو تیار نہیں تھے-ان کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ریاست کو الیکٹورل کالج کی ضمانت کی بنیاد پر رد کیا گیا تھا،خواہ اس ریاست کی آبادی کتنی قلیل کیوں نہ ہو۔ زیادہ اہم قدم جو غلام ریاستوں کے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد کو بڑھاتا ہے وہ ان 60 فیصدغیر ووٹر غلاموں کو آبادی میں شمار کیا جاتا ہے-اس طرح ایک غلام ووٹر 60فیصد کے برابر دیکھا جاتا ہے -اور اپنے سفید فام آقاوں کو ووٹ کرنے کا اہل ہے۔ اس کرپٹ نظام کی وجہ سے پہلے نوصدارتی امیدواروں میں سے نوورجینیائن سے تھے۔ورجینیاغلام ووٹوں والی سب سے بڑی ریاست ہے۔

مسترد ووٹ:۔

ریپبلکن اکثریتی ریاستی حکومتوں کی طرف سے ڈیموکریٹک پارٹی کے لاکھوں ممکنہ ووٹوں کو جان بوجھ کر، غریب عوام اور نسلی اقلیتوں کی بڑی تعداد کو خارج کرنے کے لیے، مرتب کردہ ضوابط کے ذریعے دبا دیا گیا۔سب سے بڑا اخراج ان کا تھا جو کسی جرم کے مرتکب ہوئے تھے۔تقریباً ان 7لاکھ شہریوں سے، جو اپنے جرم کی سزا پانے کے بعد رہا ہو گئے تھے ، مستقل بنیادوں پر ووٹ کا حق چھین لیا گیا۔

حالیہ برسوں کے دوران غریب لوگوں کے لیے ووٹ کے اندراج کے عمل کو ،ریپبلکن اکثریتی ریاستوں میں قانون سازی کے ذریعے مشکل بنا دیا گیا۔ اس طرح کے اقدامات کو 2013میں سپریم کورٹ کے تنگ نظر فیصلے (5ووٹ کو 4چار کرنا )1965ء کی ووٹ دینے کی اہم دفعات کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد تیز ترین کر دیا گیا تھا۔ انفرادی ریاستوں میں ووٹ کے اندراج پر ایک قدغن ہے۔

’’صرف 2016میں ملک بھر کی کم از کم 14ریاستوں میں ووٹنگ قوانین پر پابندی لگائی گئی ، ووٹ کے اندراج پر حدود بشمول، تصویری شناخت اور ابتدائی ووٹنگ کے لیے کم مدت۔‘‘(Brennan Center for Justice) ووٹرز کی ایک بڑی تعدادکو ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کے لیے انتخابات میں دھاندلی کی روک تھام کے بہانے ایک پسندیدہ چال کو استعمال کیا گیا ہے، ایک ایسا مسئلہ جو امریکہ میں موجود نہیں ہے۔اس کے برعکسOregon، کی طرح ان ریاستوں میں ووٹرز کی تعداد ڈرامائی انداز میں بڑھی ہے جہاں ، ڈرائیونگ لائسنس اور ای میل کے ذریعے خود کار اندا سے ووٹ کے اندرا ج کی صورت میں ووٹنگ رکاوٹیں ہٹائی گئیں۔

ریپبلکن اکثریتی ریاستوں میں ووٹ کے اندارج میں ہیر پھیر کے ذریعے ریپبلکنز کو نہ صرف صدارتی انتخابات بلکہ کانگریس اور مقامی ریاستی حکومتوں کے انتخابات جیتنے میں مدد دی گی۔

کم ووٹنگ ٹرن آؤٹ:۔

یہاں تک اگر ہم امریکی انتخابا ت کے ان غیر جمہوری پہلوں کو نظر انداز کر دیں تو بھی امریکن جمہوریت میں ایک گہرا مسئلہ موجود ہے؛ زیادہ تر انتخابات میں انتہائی پست ٹرن آوٹ رہا ہے ۔جمہوریت کے مینارنور کے بارے میں تمام خودساختہ پراپیگنڈہ کے باوجود جب یہ ووٹر کی شراکت پر آتا ہے تو ریاست ہائے متحدہ امریکہ ترقی یافتہ دنیا کی سب سے نچلی صفوں میں پایا جاتا ہے -یہ OECDکے 35ممالک میں 31ویں نمبر پرآتا ہے ۔

تحقیق در تحقیق اس کی یہ وجہ دکھاتی ہے کہ امریکن عوام کا ایک بڑا حصہ سیاست کو بدعنوان اور نندک (روکھا)کھیل کے طور پر دیکھتے ہیں۔وہ کھیل جو میڈیا ڈیموکریٹ اورریپبلکن کے لیے کارپوریٹ اور امیر اشرافیہ کی وساطت سے کھیلتا ہے ۔ ایسا کھیل جس کا ان کو تو کوئی فائدہ نہیں لیکن صرف امیروں کو مزید امیر کرنے مدد کرتا ہے ۔ یہ نندک لیکن درست رویہ آبادی کی غریب ترین پرتوں میں مقبول ہے۔

ووٹرز کی بس حسی کے اس عمومی پس منظر کے برعکس اس صدارتی انتخابات انتہائی ناقص تھے۔ رجسٹرڈ ووٹرز میں صرف 58فیصد لوگ حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے لیے باہر نکلے ۔ دو دہائیاں قبل 1996کے انتخابات سے بھی کم تناسب رہا۔ اس کا موازنہ 2008باراک اوبامہ کے ’’حقیقی تبدیلی ‘‘ کے پلیٹ فارم کے حق میں دئیے جانے والے 62فیصد ووٹوں سے کریں ۔ اس طرح ، ان انتخابات میں دونوں امیدواروں کے لیے جوش و خروش کا فقدان تھا ۔ ڈیموکریٹک ووٹر لاکھوں کی تعداد میں گھروں میں ہی بیٹھے رہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس نے ٹرمپ کو کچھ روایتی ڈیموکریٹ ریاستوں سے جیتنے میں مدد دی ۔

ٹرمپ بمقابلہ کلنٹن :۔

ہیلری کلنٹن امریکن ووٹرزکے مزاج کو پڑھنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ،بالخصوص شمال کی پرانی ریاستوں کے لوگوں کو جن کو مورچا بیلٹ (rust belt) کہا جاتا ہے۔معیار زندگی میں گراوٹ ، ماحولیاتی تنزلی ، اپنی اور اپنے بچوں کے نازک طرز زندگی کی خستہ حالی کی دہائیوں کے بعد امریکن محنت انقلابی تبدیلی کے متلاشی تھے؛ مگر کلنٹن کی مہم میں کئے جانے والے تمام تر وعدے ماضی کے وعدوں سے یکساں تھے۔

دوسری طرف ٹرمپ نے صنعت کو بحال کرنے ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے، امریکہ کے بنیادی خستہ ڈھانچے کی تجدید پر بڑے پیمانے پر خرچ کرنے اور محنت کشوں کے معیار زندگی کو بہتر کرنے کے لیے وعدے کئے ۔ درحقیقت ، اس نے دعوی کیا کہ وہ تمام ادوار میں سے سب سے زیادہ روزگار پیدا کرنے والا صدر ہو گا۔ اسی طرح اس نے وعدہ کیا کہ وہ سوشل سیکورٹی یا طبی سہولیات میں کٹوتی نہیں کرے گا۔ اور اس نے خبردار کیا کہ ہیلر کلنٹن ایسا کرے گی ۔ اس نے ان عالمی تجارتی معاہدوں کے خاتمے کا وعدہ کیا جو امریکن کمپنیوں کو سستی لیبر کی بنیاد پر بیرون ملک ملازمتیں دینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں -یہی وجہ ہے کہ ریپبلکن لیڈر شپ نے ٹرمپ کی مخالفت کی اور اعلان کیا کہ یہ حقیقی ریپبلکن نہیں ہے ، وہی کچھ جو بلیو کالر ڈیموکریٹس پر لاگو کیا گیا۔

حقیقت میں ، ٹرمپ کے سارے کے سارے وعدے جھوٹے تھے ، جو اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ اس کی ساری کی ساری صدارتی مہم ایک مارکیٹنگ مشق کے طور پر مرتب کی گئی تھی۔ جس میں پہلے ووٹرز کے بنیادی خدشات کی شناخت کی گئی اور پھر انہیں وہ سنایا گیا جو وہ سننا چاہتے تھے، اس طریقے سے وہ ان کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکا۔

دریں اثنا، کلنٹن نے تمام غلط باتوں پر زور دیا -بالکل ڈیموکریٹس کی پرائمری دوڑ کی طرح ہیلری نے اپنے تمام سیاسی ریکارڈ پر روشنی ڈالی : اپنے خاتوں اول کے عہدے پر، اس کے بعد نیویارک کی سینیٹر اور اس کے بعد اوبامہ کی حکومت میں ریاستی سیکرٹری-لیکن یہ سب کچھ بہت سے ووٹرز کے لیے مثبت نہیں بلکہ منفی تھا۔ وہ واشنگٹن (حکمران طبقے ) کے اندر سے کسی کو نہیں چاہتے تھے اور ہیلری آخری تجزیے میں واشنگٹن کے اندر سے تھی۔

اس پورے موازنے میں ، ٹرمپ کے سیاسی ساز و سامان کی کمی نے اور اس کا باہر کے ہونے اور اس ناطے سے سیاسی جڑتا(سستی) کو کاٹنے اور چیزوں کو ٹھیک کرنے کا دعوی کرنے کا موقع فراہم کیا۔ تمام مسائل کو حل کرنے کی اہلیت کے تصور کا دفاع کرنے کے لیے ، حقیقی ٹی وی شو سٹار کے طور پر سامنے آنے نے اس کی مدد کی -اختیاط سے ترمیم شدہ ٹی وی شو جس میں اس کو سب کچھ جاننے والے اتالیق کے طور پر پیش کیا گیا۔

صدارتی انتخابات کے دوران ٹرمپ نے اپنے آپ کو ایک خود ساختہ (سلف میڈ) آدمی کے طور پر پیش کیاجو امریکہ کے ’خود کو تعمیر‘ کرنے کے تصور سے کھیل رہا ہے ۔ لیکن سچ یہ تھا کہ وہ ایک امیر بچہ تھا جو کو کاروبار اور قسمت وارثت میں باپ کی طرف سے ملی جو اسے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں لایاتھا۔

ٹرمپ کے ارب پتی بننے میں کامیابی کو اس کی جیت و کامیابی اور معیشت کو بہتر انداز سے سنبھالنے کی صلاحیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ متعدد بار دیوالیہ ہوا۔ اپنے ماضی کے منافع کو بچانے اور قرض معاف کرانے کے لیے کارپوریٹ نواز ’دیوالیہ پن کے قوانین‘ کا استعمال کرتے ہوئے چالاکی سے اس کاروبار میں واپسی کے لیے اپنی صلاحیت کے طور پر بیچتا رہا۔ اس سے بھی بدتر ، اس نے تیس سال کا دقیقہ نوسی کرتے ہوئے اپنے کاروبار پر کوئی بھی ٹیکس ادا نہیں کیا۔

جیسا کہ وہ کہتا ہے آج کے مارکیٹنگ اور تعلقات عامہ کے عہد میں ’’خیال حقیقت کا 9/10واں حصہ ہے ۔‘‘ اور رئیلاٹی ٹیلی ویژن اسٹار کے مقابلے میں وائٹ ہاؤس جانے ک لیے اور کون بہتر ہو سکتا ہے ۔ ٹرمپ کی صورت میں ’’پراپرٹی مافیہ (سرمایہ داروں)کی پارٹی نے ایک پراپرٹی ڈیولپر کو اپنے فاتح کے طو رپر حاصل کر لیا۔

بدعنوانی :۔

جدید دنیا میں امریکن سیاسی نظام سب سے زیادہ بدعنوان نظام ہے ۔منصفانہ کھیل کے میدان کی خواہش کے برعکس ہر کمپنی واشنگٹن ،ریاستی اور شہری سطح پر سیاس دانوں پر اثر انداز ہونے اور ان کو رشوت دینے کے لیے اپنی اپنی لابی تعینات کرتی ہے، اپنے سیاسی اور معاشی فیصلوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے جو ان کے منافع کو بڑھاتے ہیں -نظام کو اپنے حق اور مدمقابل کے خلاف کرنے کے لیے دھاندلی کی جاتی ہے۔ ان کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے ان کی سیاسی مہم کے اخراجات میں ڈرامائی اضافہ ہوتا ہے جو ان کے انتخاب کے دن سے ان کو فنڈ اکھٹا کرنے پر مجبور کرتا ہے-چیزیں اس سے بھی بدتر ہیں کہ کانگریس کے نمائندے اور سینیٹر ایک دوسرے کو معمول کے مطابق صر ف اس لیے بڑی بڑی رشوت دیتے ہیں تاکہ وہ کانگریس سب کمیٹیوں کے لیے ان ماہرین کو منتخب کریں جو کاروباری مفادات کو متاثر کرنے والے تفصیلی فیصلے کرتی ہیں ۔

کلنٹن کواس کرپٹ نظام میں وسیع اثر و رسوخ اور خصوصی مفادات کو فروش کرنے والے ایک پر جوش رکن کے طور پر دیکھا گیاتھا۔ جو لمبے عرصے سے کلنٹن فاؤنڈیشن کے لیے مسلسل فنڈ ریزنگ کر رہی تھی جو تیزی سے امیر ہونے والے 1فیصد افراد میں کلٹن اور اس کے شوہر کو تیزی سے امیر سے امیر تر کرتا جا رہا ہے۔ اور یہ تصور وال اسٹریٹ میں مہم کے دوران اس کی نجی تقاریر سے مزید اجاگر ہوا جن میں پروگرام کے لیے سینکڑوں ہزاروں ڈالر اخراجات آئے ، وہ تقاریر جن کو وہ ثابت قدمی سے شائع کرنے سے مسلسل انکاری رہی ۔

دریں اثنا، ٹرمپ کے اس دعوی نے کہ وہ ’’باہر‘‘ کا ہونے کے ناطے اس کے واشنگٹن میں کرپشن کی ’’دلدلی نالی‘‘ کو خشک کرنے کے دعوی کوممکن بنایا۔ بے شک، ٹرمپ باہر کا بالکل نہیں ہے ۔ ایک ارب پتی ہونے کے ناطے وہ یقینی طور پر اندر کا آدمی ہے جو دہائیوں سے اس نظام دولت کے کھیل کو کھیل رہا ہے۔ جیسا کہ، ٹرمپ کلنٹن کی طرح رشوت خور نہیں بلکہ ان میں سے ایک ہے جو رشوت دیتے ہیں۔پہلے اس نے کلنٹن کو پیسے دینے کا حملہ کیا اور اس فاسد تاجر کی طرح بدل گیا جو سیاسی کرپشن کرتا رہا اور سب سیاسی کرپشن کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔ وہ سیاسی نظام کی بدعنوانی اور عام لوگوں کے خلاف دھاندلی پر مسلسل بات کرتا رہا۔ اس نے سرمایہ دارانہ نظام پر برنی سینڈرز کی تنقید کو استعمال کیا ،لیکن سینڈرز کا تجویز کردہ کوئی حل دئیے بغیر۔

درحقیقت، ٹرمپ نے اپنی مہم کو بڑھاوا دینے کے لیے یہ دعوی کیا کہ اس نے اپنے بہت سے مدمقابل ریپبلکنز کو اپنی بولی لگانے کے لیے مالی حصہ دار بنایا۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ٹرمپ نے امیر ترین لوگوں میںیہ کہتے ہو ئے اپنی پوزیشن کو استعمال کر کے فائدہ اٹھایاکہ وہ پہلے سے ہی بہت امیر ہے اس لیے اسے رشوت لینے کی ضرورت نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ خصوصی مفادات کے لیے خراب نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کو ان کی ضرورت نہیں ۔ ایک ایسی دلیل جس نے اس کی سیاسی کرپشن کو ختم کرنے کے دعوے کے بارے میں لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ کیا بہت سارے لوگ یہ بھول گئے ہیں کہ ٹرمپ میں بھی دیگر بہت سے امیروں کی طرح اپنی دولت کو مزید بڑھانے کی نہ بھجنے میں والی آگ اور اس کے نتیجہ میں آنے والی طاقت کی ہوس موجود ہے ۔اور ان کی یہ بھوک کھانے سے مزید بھڑک اٹھتی ہے۔

ذرائع ابلاغ کا تماشا:۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے ایک سیلز مین کی طرح بات کی ۔ اس نے چیزوں کو ’’شاندار‘‘ اور ’’خوبصورت‘‘ ؛ ’’بہت اچھا ‘‘ ، ’’بہت خوبصورت‘‘ ؛ ’’ناقابل یقین ‘‘؛ ’’ناقابل اعتبار‘‘؛ ’’خیران کن ‘‘ بنا کر بیان کیا۔وہ دبکی چال چلتے ہوئے اعتبار دلاتا ، ان سے پوچھتا کہ وہ اس پر یقین کرتے ہیں یا نہیں ۔ اور ان کو اپنے اوپر یقین کرنے کے لیے کہتا جب وہ ان سے کہتا کہ ’’میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں‘‘ اور اس طرح بہت کچھ۔ اس سب مبالغہ آمیزی کے علاوہ ٹرمپ مسلسل اپنے بارے میں، اپنی صلاحیتوں ، اپنی بہادری وغیرہ کے بارے میں شیخی بگارتا رہا۔ واضع طور پر فخر اس کی شخصیت کا اہم حصہ ہے۔

ٹرمپ کی تمام تر حرکات اس کی کارکردگی کا حصہ تھیں اور کے حامیوں نے ان کو اسی طرح دیکھا۔ امریکن معاشرہ مشہور شخصیات اوراسٹارز کو پسند کرتا ہے۔ ان کی زندگی کے کرداروں سے بڑھ کر جو ان کے پسندیدہ ہوتے ہیں ۔ ٹرمپ اس کو واضع طور پر سمجھتا تھا اور اس نے اسی طرح سب کچھ ادا کیا۔یہی وجہ ہے کہ اس کی صدارتی مہم قطعی طور پر سٹیج شو تھا ۔ جس نے یہ ظاہر کیا کہ جدید سیاسی مہم سنجیدہ نظریات کے برعکس صرف اور صرف میڈیا کا تماشا ہے۔

یہی وجہ تھی کہ انتخابی مہم میں بجائے کسی مفصل پروگرام پر توجہ دینے کے اس نے ایک ایسا تصور قائم کیا جو عدم اطمینان کے شکار لوگوں کو اپنی طرف راغب اور متاثر کرسکے۔

اس طریقے سے ٹرمپ نے ماضی کے عام انتخابات کی داستانوں کو شرمندہ کیا۔ اس نے سکینڈلز کو رد کرنے کے بجائے ان کی تخلیق کی طرف دھیان دیا اور وہ ساری توجہ اور مقبولیت حاصل کی جو اسکینڈلز کی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ اس نے ان حساس معاملات کو اپنی صدراتی امید واری کے لیے لوگوں میں زیادہ جوش و خروش پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس نے میڈیا میں اپنا ناک گھسیڑا اور مقبولیت حاصل کی -وہ ٹیلی ویژن مباحثوں میں ہارا لیکن انتخابات میں فاتح رہا۔ اس طرح ٹرمپ نے ذرائع ابلاغ کے کھیل کے بہت سے قوانین کو ہوا میں اڑا دیا، طاقت اور سنجیدگی سے سیاسی عمل کو مجروح کیا۔

صداقت؟

جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں،ٹرمپ نے سیاسی قائدین کی طر ح اپنے آپکو ظاہری سنجیدگی سے تیارہ شدہ محتاط پیغام پیش کرنے کے ایک اور مروجہ طریقہ کار سے انحراف کیا۔ عوام کا بڑا حلقہ خاص اصولی لوگوں کی قیادت چاہتا ہے ،جیسا کہ برطانوی لیبر پارٹی کے قیادتی انتخابات میں جیرمی کوربن کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔ بجائے شائستہ کارکردگی کے اس نے غیر شائستہ اور ایسے تیار شدہ نمائندوں کو تلاش کیا جو مصنوعی سے زیادہ حقیقی تھے ۔ لوگوں اجنبی سیاسی طبقے کے بجائے ایسے حقیقی لوگوں کو پسند کرتے ہیں ۔

کلنٹن کی تراشیدہ نسخہ سازی اور تیار کردہ دلائل کے برعکس ٹرمپ کی تقاریر نامکمل جملوں اور متاخر نظریات سے بھری ہوئی تھیں۔ اس کی ایک حتمی مثال ٹیلی ویژن کے آخری مباحثے میں ٹرمپ پر لگنے والے خواتین کے جنسی استحصال کے الزام پر اس کا جواب تھا-عام مردانہ تفاخر کے ساتھ اپنے بالوں کی کنگھی ہلائے بغیر سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے توہین اور نفرت آمیز رویے میں مختصر سے معذرت کے بعد اس نے اچانک داعش کے خلاف جنگ سے موضوع ہی بدل دیا۔

اس کے باوجود کے ٹرمپ کی تقاریر اختیاط کے ساتھ تیار کی گئیں تھیں اور ریلیوں میں بار بار دہرائے جانے کے باوجود ٹرمپ کے عجیب انداز میں بات کرنے کے طریقہ کار کی وجہ سے یہ باور ہوتا تھا کہ یہ تازہ اور ان سنی ہیں۔ بظاہر اس کی کمی تیاری یا بغیر تیاری کے کی جانے والی سیاسی تقاریر نے ٹرمپ کو دیگر کے مقابلے میں زیادہ دلچسپ بنا دیا تھا۔ اس کا بالکل اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ اس کے بعد کیا کہنے والا ہے۔ کئی اعتبار سے یہ اس کی صدارت کی طرح ہے -جس کے بارے میں کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتا کہ یہ کیسی ہو گی ۔ دیگر سیاست دانوں کے ایک ہی جیسے پیغام کے بارے میں ذرائع ابلاغ کی تیز فہم پیشگوئی کی بوریت کو ختم کرنے کے لیے بہت سے لوگوں ٹرمپ کو ووٹ دیا ۔

ٹرمپ کا پروپیگنڈہ:۔

اشرافیہ کا ایک اہم رکن ہونے کے باوجود ٹرمپ نے اپنے آپ کو اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ مخالف امید وار کے طور پر پیش کیا۔ اس نے سیاسی نظام کے کرپٹ اور عام لوگوں کے خلاف دھاندلی ہونے کے بارے میں مسلسل بات کی۔ اس طرح اس نے بائیں بازو کے بہت سے دلائل رجعتی موڑ دیتے ہوئے استعمال کئے۔ اس نے امریکن اکثریتی عوام کی معیار زندگی میں گراوٹ کے متعلق عدم اطمینان کو جواب دیتے ہوئے اس نے امریکہ کو واپس اس ابتدائی دور کی طرف لے جانے کے دلائل استعمال کئے کہ جب امریکہ پوری دنیا پر حکمرانی کرتا تھا۔امریکہ کو’’ پھر سے عظیم ‘‘ بنانے کے بارے میں اس کا نعرہ پیچھے رہ جانے والے ایک زیادہ خوشحال اور مستحکم ماضی کو واپس لا نے کی لا حاصل خواہش کو دوبارہ دلوں میں پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ جب سفید فام مردوں اور ان کے اہل خانہ کا غلبہ پھر سے قائم کیا جاسکتا ہے۔ نسلی اور صنفی امتیاز کی مدہم کی آواز کے برعکس اس کا یہ تصور امریکن سلطنت کی دوبارہ بحالی سے جوڑا گیا تھا۔

امریکی تجارتی رشتوں کے بارے میں ٹرمپ کا رجحان اسی طرح کا تھا۔ٹرمپ کے ’سب سے پہلے امریکہ ‘ کے نعرے نے امریکی تجارتی معاہدوں کے خاتمے کی بنیاد رکھی، جن کو بہت سے امریکن اپنے ملازمتوں کے مواقعوں کوغیر ملکی تاریکین وطن لوگوں کے پاس جانے کا سبب سمجھتے ہیں۔ لیکن تمام تر پروپیگنڈے کے باوجود ٹرمپ کی صدارتی امید واری نے ایک مقبول بغاوت کی نمائندگی نہیں کی۔ یہ ایک مقبول انقلابی امیدوار کی غیر موجودگی میں عدم اطمینان کی ایک علامت تھی، یہی وجہ ہے کہ ٹرن آؤٹ صرف 58فیصد تھا۔ نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی کلنٹن نے ووٹرز کے حقیقی مزاج کی عکاسی کی۔

ٹرمپ کی مہم کا اہم پہلو اپنے مصائب اور بدقسمتی کے لیے ’’دوسروں‘‘ کو مورد الزم ٹھہرانا تھا۔لوگوں کے خوف اور تعصبات پر کھیلنے کے لیے -نسلی اقلیتوں اور خواتین پر اس کے حملوں کے نتیجے میں ٹرمپ نے نسلی اور حقوق نسواں کے خلاف ، ہم جنس پرستی اور اسلام فوبیا کو قابل قبول بنایا۔ مختلف گروہوں کے خلاف کاروائی کے بارے میں اس کی تجاویز اور ریلیوں پر احتجا ج پر اس کے ردعمل آمرنہ طر ز کے رویوں کی بڑھوتری کی حوصلہ افزائی کی ۔ اس طرح ٹرمپ عوامی زندگی اور سیاست کو رفتہ رفتہ تحلیل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس میں حیرانگی کا کوئی شائبہ نہیں کہ ٹرمپ نے اپنے ووٹرز کے حلقے میں دہشتگردی کے بعد امیگریشن کو اہم مسئلہ بنا کر اجاگر کیا۔

سینڈرزمتبادل کے طور پر :۔

2016کے امریکن انتخابات کا اہم پہلو ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے طور پر نامزدگی کے لیے مقبول عوامی اور انقلابی رہنماء کے متبادل کے طور پر برنی سینڈرز کا زور تھا۔ برنی سینڈرز نے حقیر اشرافیہ کی بڑھتی ہوئی طاقت ، دولت اور سرمایہ دارنہ نیو لبرل پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے اسی مزاج کی نمائندگی کی جو ہم کہیں پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ یونان میں ساریزا اور یونان میں پوڈیموس اور برطانوی لیبر پارٹی میں بائیں بازو کا احیا عالمی طور پر دائیں اور بائیں بازو کی سیاست میں انقلابی ابھار کی مثالیں ہیں ۔

تاہم برنی سینڈرز کلنٹن کی شکل میں ایک امیدوار کے خلاف کھڑا ہونے میں بدقسمت ثابت ہوا۔ کلنٹن شعوری طور پر دہائیوں سے صدارت کے حصول کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی اور ذرائع ابلاغ میں اپنی حاکمانہ پوزیشن کا استعمال کر رہی تھی -اس موازنے میں برطانوی لیبر پارٹی کا لیڈر بننے کے لیے جیرمی کوربن کو اپنی مہم میں چند غیر مقبول حریفوں کا سامنا تھا جس نے اس کی جیت کو سہل بنا دیا۔

بحراوقیانوس کی دوسری طرف -برنی سینڈرز کو ڈیموکریٹک پارٹی کی پوری مخالف مشینری پر قابو پانے کے لیے زیادہ مشکل کام درپیش تھا۔ کلنٹن اپنے تیس سالہ کام کے دوارن تعمیر کی گئی ایک بہت بڑی حمایت کو استعمال کرنے اور شروع سے ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت سے منسلک لوگوں ، ریاستی نیٹورک اور وسائل جن کی وہ قیادت کرتی رہی تھی،کو متحرک کرنے کی اہلیت رکھتی تھی۔کلنٹن کی طرف مرکزی دھارے کا نمائندہ میڈیا بھی تھا جو کئی سالوں سے اس کی ڈیموکریٹک پارٹی امید وار کے طور پر تاج پوشی کرتا آیا تھا۔ اور اس ناطے سے میڈیا نے ابتدائی مراحل میں برنی سینڈرز کے مقابلے اور اس کی ریلیوں میں دسیوں ہزار لوگوں کو رپورٹ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس سب کے باوجود برنی سینڈرز امریکی سیاست میں موجودکرپشن ، معاشرے پر بڑے کاروباریوں کے غلبے کے خلاف لاکھوں کی تحریک کو منظم کرنے کے قابل تھا۔ اسی طرح صحت کی سہولیات، تعلیم ، کم از کم اجرت اور اہم سماجی اصلاحات کے لیے ایک بڑے پلیٹ فارم کی تعمیر کے لیے ایک بڑی عوامی حمایت حاصل کر سکتا تھا۔درحقیقت ایک خود اعلان کردہ (Self Claimed)سوشلسٹ کے طور پر برنی سینڈر ز نے ’’سوشلزم‘‘ کے لفظ کو 1930ء کے بعد پہلی بار ایک معتبر اصطلاح کے طور پر متعارف کروایا تھا۔ تمام تر مشکلات کے باوجود برنی سینڈرز نامزدگی جیتنے کے قریب آیا اور اس طرح عوام کے ایک بڑے حصے کی نظروں میں قابل اعتماد انقلابی متبادل قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔

کیا برنی سینڈرز ٹرمپ کو شکست دے سکتا تھا؟:۔

فطری طور پر بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر کلنٹن کے بجائے برنی سینڈرز ڈیموکریٹک پارٹی کا نمائندہ ہوتا تو کیا وہ ٹرمپ کو شکست دے سکتا تھا؟یقیناکوئی بھی اس مفروضے پر مبنی سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ بحرحال یہ سوچنے کے لیے بہت سی اہم وجوہات موجود ہیں کہ سینڈرز ٹرمپ کو شکست دے سکتا تھا۔ اس وجہ سے کہ برنی سینڈرز کی تصویر کشی واشنگٹن کے (Insider) کے طور پر نہیں کی جا سکی ۔ کانگریس میں واحد سوشلسٹ قرار دئیے جانے، سفید پوش محنت کش طبقے کے اندر سے آنے کی وجہ سے سینڈرز نے فطری طور پر محنت کش طبقے کو حقیقی انداز میں اپیل کی ۔اس نے ان کے مسائل کا حقیقی حل پیش کیا ، نہ کہ ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ موقع پرستانہ نعرے۔

سینڈرز مسلسل یہ خبردار کرتا رہا کہ کلنٹن اپنے Insiderہونے کے تصور اور زہریلے سیاسی کردار کی وجہ سے ایک غیر مقبول امید وار بن جائے گی۔ اس کے موجودہ مقام کا تصور ڈیموکریٹک ووٹرز کو گھر سے نکلنے اور ووٹ ڈالنے کے عمل کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گا۔ واقعات نے سینڈرز کو درست ثابت کیا کلنٹن نے ان چھ ملین ووٹرز کو کھو دیا جنہوں نے چار سال قبل اوبامہ کی حمایت کی تھی۔ خاص طور پر سیاہ فارم ووٹروں کے گھر پر قیام کی وجہ سے ٹرن آؤٹ بڑے پیمانے پر گر گیا۔ بلیک کانگریشنل کاکس میں سیاہ فام اشرافیہ کا کردار کلنٹن کی حمایت میں سیاہ فام کیمونیٹی کو اپیل کرنے کے لیے برنی سینڈرز کے مقابلے میں انتہائی خراب رہا۔کلنٹن کو فراموش نہیں کرنا چاہیے تھا کہ یہ صورتحال ایک تباہ کن شکست کا موجب بنے گی۔

یقیناًہم حالیہ تجربے سے جانتے ہیں کہ انتخابات کا آخری نتیجہ حقائق کی درست نشاندہی کرتا لیکن وہ ہوا کے رخ کا اشارہ ضرور دے رہا ہے۔ ڈیموکریٹک کے پرائمری دوڑ میں بہت سی آراؤں کے انتخابات اس سوال کی بنیا دپر عمل میں لائے گئے تھے کہ ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے بہتر امیدوار کون ہو گا۔تقریباً زیادہ تر انتخابات کے نتائج یہ دکھا رہے تھے کہ کلنٹن کے مقابلے میں سینڈرز ٹرمپ کو بڑے مارجن سے شکست دے سکتا ہے۔ یہ ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں اس دلیل کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا کہ ہیلری ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے حقیقی امیدوار ہے -ابتدائی طور پر آنے والے نتائج میں ووٹرز کی بڑی تعداد اس کو ووٹ کرنے کے لیے یہ وجہ دکھا رہی تھی کہ یہی وہ امیدوار ہے جو ٹرمپ کو بہتر انداز میں شکست دے سکتی ہے،وہ پیغام جو ذرائع ابلاغ سروے کے برعکس مسلسل لوگوں میں پہنچا رہے تھے۔ ان وجوہات کی بنیاد پر یہ واضع طور پر نظر آتا تھا امریکن معاشی ناکامی کی صورتحال سے ناراض سفید فام محنت کشوں کو ٹرمپ کی اپیل سے روکنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ایک انقلابی امیدوار کی ضرورت ہے۔

ٹرمپ کی کامیابی کی وجوہات:۔

کلنٹن کی دلیل یہ ہے کہ ایف بی آئی کی طرف سے انتخابی مہم کے آخری دو ہفتوں میں اس کی نجی ای میل اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذخیروں کو دوبارہ کھولنا اور پھر بند کرنا اس کے انتخابات ہارنے کی ایک اہم وجہ ہے ۔ کوئی شک نہیں کہ اس عجیب ظہور نے اس کے کچھ ووٹ توڑے اور ٹرم کے ٹرن آؤٹ کو کچھ توانائی بخشی ۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اس طرح کی دوڑ میں ٹرمپ جیسے جھوٹے اور رجعتی آدمی کے نزدیک نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اگر کلنٹن صیح امیدوار ہوتی تو اسے بھاری اکثریت سے جیت جانا چاہیے تھا۔

ایک اور سطح پر ہیلری کے حمایتی ، امریکن معاشرے اور قوانین کے خلاف زن بیزاری کا الزام لگاکر اس کی شکست کی وضاحت کررہے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پدر سری سماجی رویہ نے ایک کردار ادا کیا۔لیکن ٹرمپ کی فتح کے بڑے عوامل میں سے ایک یہ ہے کہ سفید فام خواتین کے 53فیصد حصے نے ٹرمپ کے لیے ووٹ کیا۔

اس سے بڑھ کر ، ووٹرز تبدیلی کے انتظار میں تھے-ٹرمپ کو ڈالے جانے والے 80فیصد ووٹرز نے ٹرمپ کو تبدیلی کے ایک نمائندے کے طور پر دیکھا۔ کلنٹن کو ’’باقی سے زیادہ مماثل‘‘ امید وار کے طور پر دیکھا گیا۔ اگر ’’کانچ کی چھت‘‘ کو توڑنے کے لیے ایک خاتون امیدوار کی ہی ضرورت تھی تو ایک زیادہ پراگریسوخاتوں’الزبتھ وارن‘ سفید فام حلقے میں ٹرمپ کی اپیل کو کم کرنے کے لیے زیادہ اہلیت رکھتی تھی۔

واضع طور پر، جذبات اور تعصب کے لیے ٹرمپ کے عقلی دلائل نے نسل پرستوں اور تعصبی ووٹرز کو زیادہ اپیل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اوباما ایک ثبوت تھا کہ نسل پرستی پر قابو پایا جا سکتا ہے، لیکن ہم نے برطانیہ میں بریگزٹ کے لیے انتخابی مہم میں دیکھا کہ دنیا بھر میں نسل پرستی میں اضافہ ہو رہا ہے-یہ اضافہ واضع طور پر سرمایہ دارنہ نظام کی دین ہے اور اس کے سب سے خطرناک اثرات ہر جگہ محنت کشوں کے خاندانوں پر مرتب ہو رہے ہیں ۔

ٹرمپ نے بڑھتی ہوئی سماجی اقتصادی گراوٹ اور عدم اطمینانی کو آواز دینے کاانتخاب کیا۔ تاہم ، اقتصادی نظام کو نشانہ بنانے کے بجائے جو ان تمام مسائل کی جڑہے، ٹرمپ نے سرمایہ داری کی تمام تر گراوٹ (ناکامی) کا الزام ’دوسروں‘ پر دھر دیا۔ غیر ملکی تاریکین وطن’’ہماری‘‘ تجارت، ’’ہمارے ‘‘روزگار، ’’ہماری‘‘ثقافت وغیرہ وغیرہ ہم سے چھینتے جا رہے ہیں۔ تاریخ ہمیں سیکھاتی ہے کہ اس طرح کے پروپیگنڈے بالآخر فسطائیت اور آمریت کی طرف لے جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکن محنت کش طبقے کی بڑے پیمانے پر عدم اطمینانی کو ،ڈیموکریٹک پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا کی طرف سے برنی سینڈرز کو شکست دیتے ہوئے ، بائیں بازو کی طرف جانے کے بجائے دائیں بازو کی طرف موڑ دیا۔ سنٹرلسٹ امیدوار ہیلری کلنٹن نے امریکی عوام کے لیے بائیں بازو کی آپشن پر ڈاکہ زنی کی ۔ او ر یہی وجہ ہے کہ ان کا ایک بڑا حصہ ٹرمپ کی طرف چلا گیا۔

اس واضع حقیقت کے باوجود بہت سارے لبرلز نے صدارتی شکست کو ایک مخصوص حلقے کی شکست کے طور پر دیکھا۔ انہوں نے غیر محنت کش طبقے کوایسا رجعتی اور نسل پرست لکھنا شروع کر دیا جس کی اصلاح ممکن نہیں ۔ اسطرح لبرل اشرافیہ نے ٹرمپ کے حامیوں کو دیگر کی طرح متعصب ، شرپسند اور پسماندہ ہونے کا آئینہ دکھانا شروع کر دیا۔ یہ حقیقت میں ان سے دور ہو جانے کی کوشش تھی،اور انہوں نے اس سچ کی تحقیق کو چھوڑ دیا کہ کیوں ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹرز ان سے دور ہوئے، غریب سفید فاموں کو حقیر گردانتے ہوئے ’’کوڑا دان ‘ ‘ سے تشبح دینا شروع کر دی ۔ جبکہ ڈالے جانے والے ووٹوں کی اکثریت ، بشمول ٹرمپ کے بہت سے ووٹرز، نے سرمایہ دارنہ نیو لبرل پالیسوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک ترقی پسندانہ ایجنڈے کی حمایت کی ۔ بے شک حالیہ صدارتی انتخابات کچھ بھی ہوں ان میں ووٹ کرنے والے عوام کی بڑی اکثریت ترقی پسند ہے؛ امریکن ووٹرز کی دوتہائی اکثریت نے کم سے کم اجرت میں اضافے کی حمایت کا اعلان کیا؛ تین چوتھائی نے بنیادی ڈھانچے کی تجدید نو کے لیے زیادہ اخرجات ، 70فیصد قرضوں سے پاک کالج چاہتے ہیں؛ اور تین چوتھائی سوشل سیکورٹی میں اضافہ چاہتے ہیں۔

ریپبلکن کے لیے کلین سویپ:۔

کلنٹن کی تباہ کن کارکردگی نے کانگریس کے انتخابات پر بھی برے اثرات مرتب کئے جہاں ڈیموکریٹس کچھ فوائد حاصل کرنے کی امید باندھے ہوئے تھے۔ اگرچہ ان کو مزید چھ نشستیں حاصل کرنے کی معمولی سی جھول حاصل ہوئی جبکہ ریپبلکن کو ابھی تک 298میں سے 193کی اکثریت حاصل ہے۔ سینٹ کے نتائج اس سے بھی مایوس کن تھے۔ سینٹ کو واپس جیتنے کے لیے ڈیموکریٹس کو صرف 5 نشستیں درکار تھیں اور خوش قسمتی سے وہ جونئیر ریپبلکن کے مقابلے میں کھڑے تھے،’ ٹی پارٹی کی لذت‘کے بجائے انہیں مضبوط عہدیدار ڈالنے کی ضرورت تھی۔ آخر میں ریپبلکن کو 100میں سے 52سیٹس کی اکثریت دیتے ہوئے ڈیموکریٹس صرف دو نشستیں جیت سکے۔

ٹرمپ کی فتح کا سب سے نقصاندہ نتیجہ یہ ہے کہ ؛اب ریپبلکن حکومت کی تینوں برانچوں؛ ہاؤس آف کامنز(ایوان نمائندگان)، سینٹ اور ایوان صدر پر کنٹرول کرے گی۔ کچھ ایسا جو 1940ء کے بعد ان کے پاس کبھی نہیں رہا۔ لیکن اب یہ پرانے عہد کی ریپبلکن نہیں ہے۔ ان کے برعکس یہ انتہائی دائیں بازو کا نظریاتی گرو ہ ہے جو ہر چیز کی نجکاری کرنے کے عہد سے جڑے ہوئے ہیں، امیروں پر ٹیکس مزید کم کرنے اور عوامی اخرجات کی ہڈیاں تک کاٹنے والے ہیں۔ ماضی کے ریپبلکنز کے برعکس نئے دائیں بازو کا یہ گروہ تیزی کیساتھ وفاقی اداروں کو ڈی ریگولیٹ کرنے ، ان کا سائز گھٹانے ، بیرون ملک غیر ملکی دشمنوں کا جارحانہ انداز میں تعاقب کرتے ہوئے ریاست کے کردار کو واپس لانا چاہتے ہیں۔

ریپبلکن کا یہ غلبہ ریاستی سطح پر بھی اسی طرح ظاہر ہو رہا ہے۔ریاستی گورنرز کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس کو سنجیدہ شکست ہوئی ہے، اپنی تین ریاستیں ریپبلکن کو ہارتے ہوئے اب ریپبلکن کے پاس 34ریاستوں کی گورنری ہے ۔ ان کے پاس اب 99میں سے 68ریاستوں کی قانون سازی بشمول 33ریاستوں کے دونوں چیمبرز ہیں۔ 25ریاستوں میں ریپبلکن کا حکومت کی تمام برانچوں پر قبضہ-وفاقی پوزیشن کا عکس ہے۔

سپریم کورٹ:۔

مزید بدتر ہوتے ہوئے معاملات، ٹرمپ کی خو ش بختی ہے کہ وہ اس وقت ایوان صدر میں داخل ہوا جب سپریم کورٹ میں ایک فوری ویکنسی موجود ہے۔ اس نے دائیں بازو کے ممبر کو مقرر کرنے کا وعدہ کیا ہے جو عدالت کودائیں بازو کی طرف متوازن کرے گا۔ ممکن ہے ٹرمپ عدالت کو مزید دائیں بازو کے خسار میں منتقل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ سپریم کورٹ کے 9ممبران میں سے2لبرل ممبران کی عمریں 83اور 78سال ہیں۔ اور مرکزی جج 80سال کا ہے۔ لہٰذا ٹرمپ کو قدامت پسندوں کی ایک تالہ بند اکثریت بنانے کے لیے مزید ججوں کو تبدیل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قدامت پسند عدلیہ کی حمایت سے رجعتی قوانین کا ایک دراز سلسلہ دیکھنے کے واضع امکانات موجود ہیں۔

ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں:۔

ٹرمپ کو جن مسائل کا سامنا کرنے پڑے گا ان میں سے ایک حقیقت یہ ہے کہ وہ بزنس ٹائیکون کی طور پر چیزوں کو کرنے کا حکم دیتا ہے اور ان کو لاگو ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے لیکن امریکی سیاست اس طرح کام نہیں کرتی۔کانگریس محض صدارت پر نہیں بلکہ قانون سازی اور مالیات کے شعبے اس کا اہم عنصر ہیں۔ یہاں تک کے کانگریس کو کنٹرول کرنے کے لیے ریپبلکن کے اندرکے متصادم مفادات اور پالیسی پر اختلافات موجود ہیں۔واشنگٹن مختلف دھڑوں اور اقتدار کی مختلف شاخوں کے درمیان سودے بازی اور معاملات تہہ کرواتا ہے۔ ٹرمپ کو فخر ہے کہ وہ سب کچھ جاننے والا ہے ۔لیکن وہ بہت سے وعدے جو اس نے کئے ہیں ان سے جلد ہی اس کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ چاہنے کے باوجود بھی ان میں سے بہت سے وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ مثال کے طور پر ٹرمپ نے اوبامہ کی صحت عامہ کی پالیسی کے اہم پہلوں کو برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے لیکن کانگریس میں موجود ریپبلکنز اوباما کئیر سے جان چھڑا کر اپنے طریقہ کار سے کام کرنا چاہتے ہیں۔

تجارتی پالیسی پر بہت سے ریپبلکن میں بڑے پیمانے پر آزاد تاجر ہیں اور ٹرمپ کو تجارتی معاہدے ختم کرنے اور تحفظ کی پالیسی لاگو کرنے کے مقصد میں اپنی ہی پارٹی کے اندر سے ہی شدید مخالف کے امکانات موجود ہیں۔ ٹرمپ جو پالیسی متعارف کروانا چاہتا ہے اس کو روکنے یا سست کرنے کیلیے بہت سے ریپبلکنز ڈیموکریٹس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے۔

اپنی مہم کے دوران ٹرمپ نے امریکہ بنیادی فرسودہ ڈھانچے کی تعمیر نو پر ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن گہرائی سے کیا جانے والا تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ منصوبے وفاقی اخراجات میں اضافے اور اپنی نجی دولت بڑھانے کا ایک ہتکھنڈہ ہیں۔ جیسا کہ مائیکل رابرٹس نے وضاحت کی ہے:’’ یہ فنڈ پرائیوٹ ذرائع سے آئے گا جو ان کو پیسہ مہیا کرنے کے لیے ترغیبات دے گا؛ بڑی تعمیراتی کمپنیوں اور فرموں کو (جیساکہ ٹرمپ کی ذاتی کمپنیاں) ٹیکسوں کی چھوٹ دی جائے گی اور صارفین کی راہدری میں بننے والی شاہرات ، پلوں وغیرہ کی ملکیت لینے کا حق بھی دے گا۔ برائے راست عوامی اخراجات اور تعمیرات محدود ہو جائیں گی۔ ریپبلکن کی ایک پالیسی کے بارے میں عمومی رائے ہے کہ ان کی خواہش رہتی ہے کہ امیروں کے ٹیکس میں کمی کی جائے ۔ لامحالہ اس کے نتیجے میں عدم مساوات میں مزید اضافہ ہو گاجو ٹرمپ کے ووٹرز میں بھی اسے غیر مقبول کرے گا۔‘‘

اسی طرح ریپبلکن کی طرف سے ،2008کے بحران کے بعد بینکوں پر لگائی جانے والی پابندیوں کو اٹھائے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ قرضوں کا بھاری حجم اور ہر چیز مستقبل قریب میں بینکوں کے ایک اور کریش کے لیے تیار دکھائی دے رہی ہے۔ جس سے آگے جا کر کاروباری سائیکل میں ایک شگاف واضع طور پر نظر آ رہا ہے۔

اگر کوئی بڑا معاشی بحران آتا ہے تو ہم ٹرمپ کی صدارت کو جلد ہی بیت الخلا میں بہتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ سفید فام محنت کشوں کی وہ توقعات جن کو ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران بڑھاوا دیا ہے ، بہت جلد اور ڈرامائی انداز میں ختم ہو جائیں گی۔

خارجہ پالیسی:۔

ٹرمپ ایک شارٹ فیوز اور جارحانہ جبلتی اقدامات کے لیے جانا جاتا ہے۔ پولنگ میں جواب دینے والے 60فیصد کے خیال میں ٹرمپ کا مزاج صدر بننے کے لائق نہیں ہے۔ غیر ملکی بحرانات کے دوران امریکن ردعمل میں اس کا عکس کتنا نظر آئے گا کوئی نہیں جانتا۔

ٹرمپ کی مہم میں اس کا جھکاؤ الگ تھلک(Isolationism) ہونے کی طرف تھا ، جو امریکہ کے عالمی پولیس مین کے کردار کو ختم کرنے کے لیے ایک اشارہ تھا، جو کلنٹن کی طرف سے عقابی پیروی اور مداخلتی لائن کے ذریعے واپس دھکیلا گیا۔ ٹرمپ نے نیٹو پر تنقید کی اور روس پر پابندیوں کو کم کرنے کا اعلان کیا گیا۔آیا وہ اس کو عمل میں ڈال دے گا یہ کسی کا اندازہ ہی ہو سکتا ہے۔ روس کے وزیر داخلہ سرگئی لبروس(SargeiLabros)نے اس کی بیان بازی پر دھیان دینے کے بجائے ٹرمپ کے اقدامات کا انتظار کرنے کے لیے خبردار کیا ہے۔ ٹرمپ کی طرف سے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اور سیکرٹری آف اسٹیٹ کی نامزدگیاں مستقبل قریب میں ٹرمپ کے رویوں کی طرف ایک اشارہ ہیں۔

یقینی طور پر ہم اسرائیل کی حمایت کے بارے میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں کر سکتے کیونکہ ٹرمپ نطن یاہو(Netanyahu) کا عظیم دوست ہے۔

ماحول:۔

ماحولیاتی پالیسی پر ایک بڑی تبدیلی ہونے کا امکان ہے۔ٹرمپ موسمیاتی تبدیلی کا منکر ہے اور ماحولیاتی تحفظ کرنے والی ایجنسی کی قیادت کے لیے اس کا پسند کردہ شخص Myion Ebell(ماضی کا مسابقتی انسٹیٹیوٹ ) نے حال ہی میں کہا ہے کہ کانگریس کو پیرس کے ماحولیاتی معاہدے کے لیے گرین کلائمیٹ فنڈ کی ممانعت کرنا چاہیے۔ یہ ایک مضبوط امکان موجود ہے کہ اقوام متحدہ کے پیرس معاہدے کے تحت گرین کلائمیٹ فنڈ میں ادائیگی سمیت امریکی معاہدے سرانجام نہیں دے گا(جو کسی بھی صورت میں بے ضرر تھا)۔ دنیا کے سب سے بڑی آلودگی پھیلانے والے کے طور پر ، امریکہ کے اس آب و ہوا کی تبدیلی کے وعدوں سے انکار دیگر اور بہت سے ممالک کو ماحولیاتی شراکت اور ضروری اقدامات پرعمل نہ کرنے کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

امریکہ میں ماحول کے پہلو پہ اوباما کے کلین پاور منصوبے اور دوسرے بہت سے ماحول کے تحفظ اور دیگر کاروبار حامی اقدامات سمیت امریکہ کے پیچھے ہٹنے کے امکانات نظر آتے ہیں۔

سوشل سیکورٹی :۔

ٹرمپ نے طبی یا سوشل سیکورٹی میں کٹوتی نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن سوشل سیکورٹی کے لیے عبوری ٹیم کے سربراہ کے طور پر ان کے نامزد کردہ مائیکل کوربے کی تقرری کچھ اور ہی عندیہ دے رہی ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق’’سوشل سیکورٹی کے سنئیر مشیر کے طور پر کوربے سوشل سیکورٹی کی نجکاری کے لیے جارج ڈبلیو بش انتظامیہ کی ناکام کوشش کی وکالت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔‘‘

وائٹ ہاؤس میں کرپشن:۔

ٹرمپ نے امریکن سیاسی نظام سے کرپشن کی دلدلی نالی کو صاف کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ لیکن جیسا کہ ہم ان کی مقرر کردہ عبوری لابی کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہ برائے راست وائٹ ہاؤس میں اس دلدل کو لا رہے ہیں۔ درحقیقت ، ٹرمپ کی صدارت کے لیے کامیاب بولی کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ فساد، اپنی اور اپنے خاندان کو مضبوط کرنے کے لیے بدعنوانی سے اپنی صدارت کو استعمال کرنے کا شبہ پایا جاتا ہے۔ کانگریس اور ریاستی حکومت کے گورننگ قوانین کے برعکس امریکی صدر کو مفادات کے کسی بھی تنازعہ کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور نہ ہی ا س کو اپنی دولت اور کاروباری لین دین کی تفصیلات شائع کرنے کی ضرورت ہے۔

ٹرمپ پہلے ہی اپنی انتخابی مہم کے دوران انکم ٹیکس کے ریٹرن کو ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے دکھا چکا ہے کہ وہ اپنی آمدن پر شفاف نہیں ہے۔ اسی طرح وہ رضا کارانہ کنونشن کی پاسداری کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنی آمدن کو اندھے اعتماد میں جو ت ڈالاہے۔ اپنے دفتر کو اپنی دولت کی حمایت میں استعمال کرنے پر اس سے پوچھ تاچھ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس اس نے اپنی تمام تر جائیداد اپنے بچوں کے ہاتھوں میں رکھی ہوئی ہے۔ لیکن اس کے بچے انتہائی قریبی مشیروں سے ہیں اور ان کو عبوری ٹیم میں برائے راست شامل کیا ہے۔ اس لیے ٹرمپ کے بطور صدر فیصلوں اور کاروباری مفادات کے درمیان برائے راست تعلق ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اگر بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر نو کے منصوبے سے ذاتی مفاداٹھاتا ہے اور اہم تعمیرات کا ٹھیکہ اپنی ہی تنظیم کو دیتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا نہ صرف یہ بلکہ عوام کو بھی اس کی خبر نہیں ہو گی کیا ہو رہا ہے۔’’ ہر ایک پالیسی ساز اقدام ٹرمپ اپنے اور اپنے خاندانوں کو مزید امیر کرنے کے لیے اٹھائے گا وہ بھی بغیر کسی مشکل کے جس کا اس کے خاندان کے باہر کسی کو بھی علم نہیں ہو گا۔مہبم کمپنیوں ، ٹرمپ کے ورثا اور قریبی مشیروں کی جانب سے بننے والا موجودہ سیٹ اپ کرپشن کی ایک بڑی آفت ہے۔ یہ ٹرمپ اور اس کے خاندان کو کسی عوامی انکشاف کے بغیر پالیسی سازی کو استعمال کرتے ہوئے ایک لامحدود سطح تک اپنے آپ کو سمردق (انتہائی امیر)کرنے کی اجازات دے گا۔‘‘

اس طرح، یہ سب کچھ ٹرمپ کے لیے ایوان صدارت کو استعمال کرتے ہوئے لوٹ مار کرنے کے لیے قائم کیا جا رہا ہے۔ شائد صدارت چلانے کے لیے اس کا پہلا اور بنیادی مقصدیہی تھا۔

نسلی اقلیتوں کا ہدف :۔

ٹرمپ نے امریکہ اور میکسیکو کے درمیان دیوار بنانے کے لیے بہت کچھ کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ تاہم ، اگر دونوں سرحدوں کے نقشے پر سرسری نظر ڈالی جائے تو نظر آتا ہے کہ یہ سرحد ناقابل یقین حد تک طویل ہیں ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک کھوکھلا وعدہ تھا جس پر عمل کرنا کسی صورت ممکن نظر نہیں آتا۔

مزید سنگین ٹرمپ کا غیر قانونی تاریکین وطن کو ملک بدر کرنے کا منصوبہ ہے ،وہ مستقبل قریب میں لاکھوں لاطینیوں کو معطل کرنے کی بات کر رہا ہے ۔ یہاں تک کہ انتظامی سطح پر اس کے لیے بڑے پیمانے پر امیگریشن اور پولیس فورسز کی توسیع اور ہسپانوی کیمونٹی کے خوف کو ختم کرنے کی ضرورت ہو گی۔

اسی دورمیں ٹرمپ نے پولیس میں افریقہ نژاد امریکیوں کے زائد ہو جانے کے خدشات کو دور کر دیا ہے جو روزانہ نہیں تو ہفتہ میں معصوم سیاہ فام مردوں کے قتل کا باعث بن رہا ہے۔ ٹرمپ کے صدر کے طور پر انتخاب سے پولیس اپنے حوصلے اور بلند محسوس کرے گی ۔ ٹرمپ کی فتح پر Klu Klux Klanکے کھلے مظاہروں مبارک باد دینے پر کوئی حیرت نہیں۔

آخری مگر حتمی، ٹرمپ کی مسلمان مخالف انتہابی مہم اسلامی بنیادوں کے زیادہ ہدف اور اسلامی دنیا میں امریکہ کو غیر مقبول بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس طرح کے ماحول میں امریکن معاشرے کے لیے مزید رجعتی نتائج امریکیوں پر مزید حملوں اور بنیاد پرستوں کے لیے مزید رنگروٹوں کو دیکھنے کے امکانات موجود ہیں۔

ٹرمپ کو ایک مکمل طوفان کے امکانات کا سامنا ہے:۔

صدارتی انتخابات کے فوری بعد ٹرمپ کو میڈیا کے مرکزی دھارے کی طرف سے شک کا فائدہ دیا جا رہا ہے، جو کہہ رہے ہیں کہ’’ایک نئی شروعات‘‘ کے لیے ہمیں ٹرمپ کو موقع دینا چاہیے ۔اس طرح سبکدوش ہونے والا صدر اوبامہ بھی لوگوں کو ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس بارے میں خدشات کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

لیکن ہر چیز دھماکے سے پھٹنے کے لیے تیار ہو چکی ہے۔ حزب اختلاف کا ایک مکمل طوفان بہت دور نہیں ، مستقبل قریب میں آرہا ہے۔

انتخابی مہم میں ٹرمپ کے کئے گئے وعدے فوری طور پر اس کی دھوکہ باز اور کرپٹ آپریٹر کے طور پر اسکی عکاسی کرتے ہیں،جو امیروں کو مزید امیر اور غریبوں کو مزید غریب کرنے کے لیے قانون سازی نافذ ہونا شروع ہو جائے گی، جسے کوئی واپس نہیں دھکیل سکتا ۔ اس سے معیشت میں مندی آئے گی اور معاشی مشکلات بہت جلد ٹرمپ کے دفتر کا رخ کریں گی۔

حکومت کی تمام تر شاخوں پر کنٹرول کے باعث ٹرمپ اور ریپبلکن کے پاس ناکامیوں کے لیے کوئی بہانہ نہیں بچے گا۔ ٹرمپ کو پہلے ہی اپہاس(تضحیک) اور تنقید کی ایک بے مثال سطح کا سامنا ہے۔ لامحالہ دائیں بازو کی قوتیں زر پرستی کے کرتوتوں کے ساتھ لوگوں کے سامنے آجائیں گے۔

اس کے بعد ہمیشہ خارجہ پالیسی کی بھگدڑ اور مہم جوئی کا امکان موجود ہوتاہے۔ ٹرمپ کی ناقابل پیشگوئی جلد بازی کے ناقابل وضاحت دھماکے واپس امریکن معاشرے پر لاگوں ہو سکتے ہیں۔ ریپبلکن اور ٹرمپ کی طرف سے حزب اختلاف کا ایک زہریلا کاک ٹیل تیار کیا جارہا ہے۔ میزبانوں کے گروپوں ؛ کالوں ، لاطینیوں اور مسلمانوں ، عورتوں اور پریاورنوادیوں، یونین ممبرز اور عمومی طور پر ؛ کو اپنے آپ سے دور کر تے ہوئے احتجاج کی ایک غالب بنیاد ڈال دی گئی ہے۔ ٹرمپ کی قیادت میں چلنے والی حکومت کی قیادت کے خلاف اس طرح کے احتجاج اس کی حکومت کی آمرنہ روش اور سیاست میں موجود آمرانہ رویوں کو بے نقاب کرے گا۔

اگلے دو سال ممکن ہے سخت تاریک ہوں گے۔ صدر کو ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر برائے راست عوام سے خطاب کرنے اور قومی مباحثے کی نوعیت پر بڑا اثر و رسوخ حاصل ہے-میڈیا کہ اہم حصے ان رجعتی تقریروں کی بازگشت اور ردعملی قوتوں کو متحرک کرنے کی کوششوں میں مدد کریں گے۔

بعض حالات میں اس طرح کا ماحول بے حسی اور مایوسی کا باعث بن سکتی ہے۔ خاص طور پر اگر کوئی متبادل نہ ہو۔ لیکن برنی سینڈرز کی مہم نے اور کچھ نہیں تو پہلے ہی نیچے ایک نشان متعارف کرواچکا ہے؛ ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے ایک قابل عمل متبادل اتحاد قائم ہوا تھاجو ٹرمپ کو شکست دینے میں کلنٹن کی ذلت آمیز ناکامی کے باعث بدنام ہوا۔ جیسا کہ برنی سینڈرز کہتا ہے:’’ یہ صرف انتخابات نہیں ہیں جن پر ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ ٹرمپ جیت گیا ہے۔ مگر ریپبلکن نے سینٹ پر بھی تسلط قائم کر لیاہے۔ انہوں نے ہاؤس آف کامن بھی کنٹرول کر لیا ہے۔ گورنر کی دوڑ میں ، ملک بھر میں ریاستی قانون سازی میں گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران پہلی بار حیرت انگیز طور پر اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ اور لوگ پوچھ رہے ہیں ؛یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک ایسی سیاسی جماعت جو ارب پتی کے ٹیکس میں چھوٹ دینا چاہتی ہے، جس کی کوئی حمایت نہیں کرتا ؛ جو محنت کشوں کے پروگرام میں کٹوتی کرنا چاہتا ہے؛ جو سوشل سیکورٹی ، طبی سہولیات اور طبی امداد میں کٹوتی کرنا چاہتا ہے؛ جس کے بہت سے ممبران کو خود ابھی تک اس موسمی تبدیلی کا یقین ہو پا رہا -خداکے نام پر یہ لوگ کس طرح انتخاب جیت گے؟ آج کی ڈیموکریٹ اس کا اندازہ نہیں کر سکی۔ یہ ایک بڑی تبدیلی کا وقت ہے۔‘‘ مجموعی طور پر سماج میں بائیں بازو کی طرف جھکاؤ کے ایک حصے کے طور پر ہم ڈیموکریٹک پارٹی میں بائیں بازو کا ابھار دیکھ رہے ہیں۔ ممکن ہے اس اثر واضع طور پر دو سالوں میں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کے طور پر ظاہر ہو سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں ممکن ہے کہ ڈیموکریٹس سینٹ میں واپس آئیں جائیں -شائد ایوان نمائندگان(ہاؤس آف کامنز )میں بھی ۔

ایسے حالات میں یہ بھی امکان ہے کہ ڈیموکریٹس چار سال کے عرصے میں ٹرمپ کے خلاف کھڑا ہونے کے لیے ایک زیادہ بائیں بازو کے امیدوار کا انتخاب کریں، ایک ایسا امید وار جس کے پاس اسے شکست دینے کا بہت بڑا موقع موجود ہے۔ اس طرح کی پیش رفت ایک حد تک ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر موجود تضادات کی جانچ کریں گی-سرمایہ دارانہ لبرل (Liberal Capitalist) پارٹیاں (ان میں ایسے تبدیلی ناممکنہ حد تک کم ہوتی ہے : مترجم)، ڈیموکریٹک سوشلسٹ تحریک کی طرز پر ڈھلنے کے لیے مشہور نہیں ہوتیں، جس کی امریکہ کو آنے والے طوفانی سالوں میں ضرورت ہو گی۔

Leave a Reply