پی 2 پی اور مارکسزم – پرانی نوع کی موت

تحریر:  جوناتھن کلائنp 2 p and Marxism
ترجمہ : کامریڈ مبشر بشر

کسی بھی سماجی تبدیلی کے عمل کا تقاضہ ہے کہ اس کو سمجھنے کے لیے ان نئے مظاہر کا ادراک کیا جائے جن سے اس تبدیلی کے وقوع پزیر ہونے کا ایک اشارہ بھی مل سکے۔ پیداواری عمل کا ایک نیا رجحان P 2 P کا ہے۔ جس میں رضا کارانہ تعاون کی بنیاد پر مصنوعات کی آزادانہ تقسیم عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس ویب سائٹ پر گزشتہ بحث کی بنیاد ایک دوسری بحث میں شرکت کا موجب بنی۔ 

P 2 P تحریک پر یوٹوپیائی تحریک کا الزام لگایا گیا۔ یہ سچ ہے کہ تحریک میں کچھ دور کے اور سہانے خیالات کا عنصر پایا جاتا ہے (جیسا کہ کسی بھی تحریک میں ہوتا ہے) مگر اس تحریک پر یوٹوپیا کا الزام لگانا مضحکہ خیز ہے۔ جو گزشتہ دس سے پندرہ سالوں سے دن دگنی اور رات چگنی ترقی کر رہی ہے۔

ویکیپیڈیا، لینکس اور یوٹیوب کی مثالیں اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔ آئی بی ایم کمپیوٹر بنانے کی ایک دیو ہیکل کمپنی تھی، جو بری طرح ناکام ہوئی اور اس کے مفادات پر شدید ضرب پڑی۔ P 2 P پیداواری عمل کی طرف رجوع کرتے ہوئے لوگوں کو اس کمپنی میں شراکت داری پر ادائیگی کی گئی۔ اس طرح اس کمپنی نے منظم طریقے سے خود کو ایک کامیاب کمپیوٹر سروسز کمپنی میں ڈھال لیا۔ دوسری مثال LEGO کی ہے جو کھلونہ ساز اور عمارتی بلاکس بنانے والا ایک معروف کارخانہ ہے۔ ابتداء میں اس نے ان لوگوں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ کیا جنہوں نے اس کے مائنڈ اسٹارم روبوٹس کی ری پروگرامنگ کی تھی۔ جلد ہی اپنا ارادہ ترک کر کے سافٹ وئیر لائسنس ( ہیک کرنے کا حق) حاصل کر لیا۔ مائنڈ اسٹارم کی اس تبدیلی نے لیگو کے لیے ایک بے مثال کامیابی سمیٹی ۔

P 2 P پیداواری عمل کا موزوں اقدام صنعتوں کا نام نہاد منصفانہ استعمال ہے۔ یہ وہ کمپنیاں ہیں جو اپنے کاپی رائٹس سے اپنے صارفین کو چند رعایتیں دیتی ہیں۔ ایسی کمپنیوں کو گزشتہ دہائیوں میں تیزی سے ترقی ملی۔ یہ صارفیں آلات بنانے والے وہ کارخانے اور کمپنیاں ہیں جو کسی کو انفرادی طور پر اپنے کاپی رائٹڈ پروگرام سے کاپی کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ جیسا کہ ان میں تعلیمی ادارے، ویب ہوسٹنگ، سافٹ وئیر ڈولپنگ اور انٹرنیٹ پر تلاش میں مدد دینے والی کمپنیاں شامل ہیں۔ 2006میں امریکہ کے کل جی ڈی پی کا چھٹا حصہ ان کمپنیوں کی بدولت تھا۔ جس میں 17لاکھ لوگوں کو روزگار دیا گیا۔ روزگاری عمل کے پیداوار کے سلسلے میں یہ صنعت باقی صنعتوں سے 28فیصد زیادہ تجاوز کر گئی۔ پیداواری عمل P 2 P کا ایک اہم پہلو ہے مگر اس کا تنظیمی ڈھانچہ بھی اس کو ٹھوس صورت میں ڈھالنے کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ شائد یہ کہنا زیادہ صیح ہے کہ P 2 P پیداواری عمل اس کے تنظیمی ڈھانچے کی پیداوار کا نتیجہ ہے۔

P 2 Pپیدواری عمل کی اصل اس کی غیر تقلیدی اور رضاکارانہ ساخت میں مضمر ہے۔ کوئی بھی آپ کو ویکیپیڈیا میں شمولیت کے لیے مجبور نہیں کر سکتا۔ P 2 P پیداواری عمل ساتھیوں کی مضبوط اندرونی حوصلہ افزائی پر مبنی ایک عمل ہے۔ اس میں سب ہی شراکت دار اپنی خواہش کے عین مطابق حصہ ڈالتے ہیں۔ کیونکہ ان کا علم پر عبور ہوتا ہے اور وہ اس کی تقسیم کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ مزیدبرآں P 2 Pخود تنظیمی کا ایک عمل ہے جو لچکدار نشوونما پانے والے اور اس بے قابو عنصر کی طرح ہے جو معاشرے کے زیادہ سے زیادہ حصے کو گھیرے ہوئے ہے۔ اپنی اسی حاصیت کی بدولت اس عمل نے دنیا بھر میں اچھے سوالات و جوابات کو متحرک کیا ہے اور ناقابل شکست جدید علم کو روشناس کروایا ہے۔

یہ پیداواری عمل بہت دور کی صدا ہے ان سرمایہ داری اجارہ داریوں سے جو سخت گیر ساخت کی حامل ہیں۔ یہ سوشلزم کے اُس ویژن سے بھی کوسوں دور ہے جس کا غلبہ ماضی قریب میں رہا ہے۔ مقابلہ باز اجارہ داریاں جن کے مینیجروں کی تعیناتی مالکوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ان کو ملا کر ایک دیو ہیکل کارخانے میں تبدیل کیا جائے اس کارخانے کے سبھی شعبہ جات کو ایک مرکزی فریم ورک کے ذریعے منصوبہ بند کیا جائے اس اشتراکی کارخانے کے منیجروں اور ورکروں کی اکثریتی تعیناتی بھی مالکوں کے ذریعے کی جائے۔ وہاں ایسے اشترکیت پسند نہ ہوں جو اپنی مضبوط پوزیشن کے باعث اپنے آپ کو اعلی مقام پر تصور کریں۔

سوشلزم کے پرانے ویژن کی موت بھی P 2 P پیداواری عمل کی ضمنی پیداوار کا نتیجہ ہے۔ یہ سویت یونین کی زوال پزیری کا باعث بھی بنی۔ اس طرح اس عمل نے اس ذہنی پراگندگی کا بھی خاتمہ کیا ہے کہ سوشلزم کی تعمیر سرمایہ داری کو یک مشت عوامی ملکیت میں لینے سے کی جا سکتی ہے۔

سویت یونین اور اس کے سیاسی ماڈل کی متروکیت، ترکِ سرمایہ داری کے سوشل ڈیموکریٹک ایجنڈے کا تحلیل ہونا اور P 2 P کے انٹرنیٹ پر پھیلاؤ کے توانا مجموعہ نے پرانی تنظیمی ساخت کی حامل بائیں بازو کی تنظیموں کے لیے موت کی گھنٹی بھی بجا دی۔ یہ تنظیمیں اندرونی جمہوریت اور جمہوری مرکزیت سے جو بھی ہو آخری تجزیہ میں تنزلی کی طرف گئی ہیں۔ اس مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ غیر معمولی طاقت قیادت کے ہاتھوں میں گئی جس سے انہوں نے ذرائع ابلاغ پر غلبہ پایا اس طرح انہوں نے قیادت کی پالیسیوں پر عدم اطمینان کے عوامی اظہار کو محدود کر دیا اور اپنے دور حکومت میں ایک خوف کی فضاء پیدا کر دی۔

کوئی معمولی اور گھٹیا جرنیل کسی تنظیم کی کمان نہیں کر سکتا، جس کو یہ منڈیٹ سٹالن، اولف پالم یا کانگریس کے رسمی ووٹ سے ملا ہو۔ اس کے بجائے لیڈر کو عملی قدم اٹھانے سے پہلے بہت سوں کو مطمئن کرنا ہو گا ۔ اگر اس کی آراء اور اعتراف یہ ہے کسی ایک کا عدم اطمینان اسے صفحوں سے باہر کھڑا کر سکتا ہے۔ اگر وہ کسی بوسیدہ تنظیمی ڈھانچے پر بھروسہ کرنے کے بجائے کوئی نئی چیز تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو لیڈران کو سننا پڑے گا کہ دوسرے ممبران کیا کہتے ہیں اور کیا سوچتے ہیں ۔

یہ قیاس آرائی کرنا کہ لیڈران وسیع تنظیموں کی کمان کر سکتے ہیں چاہے وہ کوئی کمپنی ہو یا سیاسی پارٹی لامحالہ شخصیت پرستی کو جنم دیتا ہے۔ قیادت کے بارے میں یہ گمان بن جاتا ہے کہ ان کے تصرف میں کوئی خاص چیز ہوتی ہے جو انہیں رہنماء بننے کے اہل اور دیگر لوگوں سے ممتاز کرتی ہے۔ خود کو مضبوط کرنے کے طریقہ کار کے لیے لیڈران ایسے حالات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ جو اس صورتحال کا شکار ہو جاتے ہیں وہ لیڈروں کے مطالبے پر ان کی پیروی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔

اس کے برعکس، حقیقت کچھ اور ہے۔ Peter Principle کے مطابق جب لوگوں میں کاہلی کا مادہ ایک حد سے زیادہ سرائیت کر جاتا ہے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ طویل دورانیہ میں اس سے مراد یہ ہے کہ ایک پیشوائی تنظیم نااہل لوگوں کی ساری پرتوں پہ حکمرانی شروع کر دیتی ہے۔ سوائے نچلی پرت کے جہاں صیح معنی میں کچھ لوگ کام کرنے والے ہوتے ہیں ۔

LGنوبل پرائز 2010 (جو نوبل پرائر کی ایک امریکن پیروڈی ہے، جو کسی کو غیر معمولی یا بہت چھوٹی سی تحقیق پر دیا جاتا ہے، جس میں سنجیدگی کا کوئی عنصر نہیں ہوتا۔)کہ فاتحیں نے یہ ثابت کیا کہ بے ترتیب ترقی لوگوں کی درجہ وار ترقی سے زیادہ موثر ہے ۔ ممکن ہے یہ ایک مذاق لگے مگر کمپنیوں اور سیاسی تنظیموں میں قیادت کے چناؤ کا یہ تجربہ سارے ورکروں کو مساوی رکھتا ہے۔

جیسا کہ موت کا عمل جب واقع ہوتا ہے تو ایک کارخانے کے سوشلزم کے ویژن اور جمہوریت مرکزیت کی موت پانچ مراحل سے گزرتی ہے جو مندرج ذیل ہیں ۔

* انکار۔۔۔۔۔ میں نہیں جانتا کہ فیس بک کیا ہے اور میں جاننا بھی نہیں چاہتا ۔
*غصہ ۔۔۔۔۔ کون بے حیاء ہے جو انٹر نیٹ پر ہر راز افشاں کر رہا ہے۔
*سودے بازی۔۔۔۔۔ یہ کوئی ایسی چیز ہو سکتی ہے جس میں ہم دلچسپی لے سکتے ہیں۔ اور شائد ہمیں اس سے کوئی چیز مل جائے۔
*تناؤ۔۔۔۔۔ پیپرنکالنا محض وقت کا ضیاع ہے اور اس جھنجٹ سے ہمیں کیا مل سکتا ہے؟

*اعتراف۔۔۔۔ پرانا تنظیمی ڈھانچہ مر چکا ہے آئیے P 2 P کے ساتھ سوشلزم کی لڑائی لڑیں اور اسکی تعمیر کریں۔

یقینی طور پر کچھ بائیاں بازو ابھی تک انکار سے چپکا ہوا ہے ۔ لیکن زیادہ سے زیادہ اعتراف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ سوشلسٹ نظریات ایک نئی اور وسیع توانائی کے دروازے کھولے گا۔ ہمیں جکڑ بندی والے پرانی تنظیمی طریقہ کار کو ایک طرف پھینک دینا چاہیے۔

بنی نوع انسانیت کی وسیع و عریض متحرک شراکت داری کے ساتھ سوشلزم کی دوبارہ تشریح و ترویج کی جاسکتی ہے اور سوشلزم کا نفاذ عمل میں لایا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply