کاسترو کیسے مر سکتے ہیں؟

%da%a9%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%b1%d9%88تحریر:   مشتاق علی شان

نوے سالہ جدوجہد سے بھرپور زندگی گزارنے والے فیدل کاسترو کے لیے یہ روایتی جملے لکھنا کہ ’’ وہ اب ہم میں نہیں رہے ‘‘‘ ان کے شایان شان نہیں ۔ نوے سال قبل کیوبا کے جزیرے میں پیدا ہونے والا یہ عام سا بچہ زندگی کے کسی بھی موڑ پرمر سکتا تھا لیکن وہ کاسترو کیسے مر سکتا ہے جس کی قیادت میں بیسویں صدی کے امریکی پروردہ بدترین آمروں میں سے ایک بتستا کو گوریلا جنگ کے میدان میں شکست فاش سے دوچار کیا گیا ۔ نوعِ انسانی کے پر مسرت لمحات میں سے ایک اس لمحے کے خالق کو کیسے موت آ سکتی ہے جس نے یکم جنوری 1959کو کیوبا کے افق پر سرخ پرچم لہراتے ہوئے کیوبا میں انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کے خاتمے کا اعلان کیا تھا ۔ آج فیدل کاسترو کی ’’ موت ‘‘ پر امریکی سڑکوں پر رقص کرنے والے بورژوا شاہراہ گیر تو اس کے رفیق چے گویرا کے سینے میں گولیاں اتار کر ، تیس سال تک اس کی لاش کو دنیا سے چھپا کر بھی اسے موت سے ہمکنار نہیں کر سکے ۔ وہ آج پوری دنیا میں امریکی فسطائیت کے خلاف حریت پسندی کا استعارہ بنا ہو اہے ۔ کامریڈ فیدل کاسترو کی موت کا جشن منانے والے تو چھ سو سے زائد قاتلانہ حملوں میں بھی اس کی جان نہیں لے سکے تھے ۔
اس انقلاب کے خالق کو کیسے موت آ سکتی ہے جہاں کوئی بھوکا نہیں سوتا، کوئی بے روزگار ،بے گھر، بھکاری یا جسم فروشی پر مجبور نہیں ،جہاں سب کو مفت صحت اور تعلیم کی سہولیات دستیاب ہیں ۔جہاں بچوں کی شرحِ اموات1000میں صرف6اور اوسط عمر 77.5سال ہے ۔جہاں کانظام صحت دنیا بھر میں مثالی سمجھا جاتا ہے ، جہاں 170افراد کے لیے 1ڈاکٹر جب کہ امریکا میں 188افراد کے لیے 1ڈاکٹرہے۔ جہاں کے ڈاکٹر ز دنیا کے مختلف ممالک میں عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں،جہاں ہر سال دس ہزار طالب علم میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں ۔ جہاں کا ڈاکٹر بولیویا کے اس سپاہی کی آنکھوں کا آپریشن کرتے ہوئے اس کی بینائی لوٹا دیتا ہے جو اس کے ہیرو چے گویرا کے قاتلوں میں سے ایک تھا ۔جہاں کے ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر میڈیکل اسٹاف پر مشتمل ٹیمیں دنیا میں کہیں بھی قدرتی آفات کے موقع پر موجود ہوتی ہیں۔2005میں پاکستان میں آنے والے زلزلے میں سب سے پہلے طبی امداد کے ساتھ پہنچے والے بھی کیوبائی ہی تھے ۔دنیا کا واحد ملک جس کا بجٹ خسارے میں نہیں ہوتا اور جس نے 99.7فی صد خواندگی کی شرح تک رسائی حاصل کر لی ہے ، جہاں سماج کے انتہائی کم مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والے آٹھ لاکھ دانشوروں کی فوج نے جنم لے کرتعلیم کی انقلابی کایا پلٹ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔دنیا بھر میں انسانی حقوق کے حوالے سے سب سے شفاف اور بے داغ ریکارڈ کا حامل فیدل کاسترو کے کیوبا کا ہی ہے جس کے پیش کردہ 80%قوانین اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کے بنائے گئے قوانین کا حصہ ہیں۔ جہاں کی واحد سیاسی جماعت ’’ کمیونسٹ پارٹی آف کیوبا ‘‘ کاسترو کے اس قول کی مظہر ہے کہ ’’ انسانیت جتنی زیادہ مہذب ہوگی اتنا ہی وہ وحدت پر انحصار و اصرار کرے گی‘‘۔ جہاں بد عنوانی سے نمٹنے کے لیے انقلابی نوجوانوں کی تنظیم کے 35000 اراکین ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جہاں عورتیں اور سیاہ فام باشندے حقیقی آزادی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ، جہاں سامراج کے معاشی و سیاسی تسلّط سے مکمل طور پر آزادی حاصل کر لی گئی ہے ۔
جس انقلاب نے امریکی سامراج کے کئی حملوں کو پسپا کرنے والی اور جنوبی امریکا سے لے کر افریقہ تک میں سامراج کا سامنا کرنے والی ایسی آہن پیکر پرولتاری فوج کو جنم دیا ہے جو سائمن بولیوار،جوزے مارٹی ،پانچو ویلا اور چے گویراجیسے محترم ناموں کی درخشاں روایات کی امین ہے ۔ فیدل کاسترو کے بقول ’’ جب تک سامراج کا وجود باقی ہے حریت پسند اس سے نبرد آزما ہوتے رہیں گے اور جب تک وہ سامراج سے لڑیں گے ہم ان کی مدد کرتے رہیں گے ‘‘ ۔جنوبی امریکا کے ممالک بولیویا ، گرینیڈا،وینزویلا،کولمبیااور گوئٹے مالا سے لے کر مشرقی تیمور اور افریقہ میں الجزائر، کانگو ،انگولا ، گنی بساؤ، نمیبیا،زمبابوے ،موزمبیق اور ایتھوپیا وغیرہ تک کیوبا کی سرفروش فوج نے اپنے قائد کے اس قول کو عمل کی کسوٹی پر کھرا ثابت کیاہے ۔
ایک نئے سوشلسٹ انسان کو جنم دینے والے انقلاب کے خالق کو موت کا بھاری پتھر کیونکر کچل سکتا ہے جس نے کبھی عوام کو سیاسی عمل سے کٹنے نہیں دیا ،جس نے اپنے سوشلسٹ انقلاب کا کامیابی سے دفاع کیا ، سوشلسٹ حاصلات کو برقرار رکھا ۔ جس نے نا تو نام نہاد روسی کمیونسٹوں گوربا چوف اور بورس یلسن اینڈ کمپنی کی طرح سوشلزم کی موت کا اعلان کرتے ہوئے مردم خور سرمایہ داری کا راستہ اختیار کیا اور نہ ہی چین کے ترمیم پسند ڈینگ ژیاؤ پنگ کی طرح سوشلزم ہی کے نام پر سرمایہ داری کا راستہ ہموار کیا ۔کامریڈ فیدل کاسترو کے نامۂ اعمال میں ’’ مارکیٹ سوشلزم ‘‘ نامی کوئی جرم درج نہیں ۔ نوے کی دھائی میں سوشلسٹ بلاک میں جو کچھ ہوا ، اسکی دین کئی نسلوں کی مایوسی تھی لیکن یہ کامریڈ فیدل کاسترو ہی تھے جنھوں نے نا صرف کیوبا بلکہ دنیا بھر میں سرخ سویرے کو تمام تر انسانی مصائب کا حل سمجھنے والے آدرش وادیوں کو یہ ایقان بخشا کہ وہ صبح ضرور آئے گی ۔جس کی فکر وعمل نے ایک دنیا کو متاثر کیا۔ خود جنوبی امریکا میں وینزویلا ،بولیویا ،برازیل ، ارجنٹائنا ، نکارا گوا سے چلی اور یورا گوئے تک میں سامراج اور سرمایہ داری مخالف قوتوں کی پیشر فت اس کی مثالیں ہیں ۔
سوشلزم کی غیر مختتم فتح اور کیوبائی سوشلسٹ عوام پراپنے تیقن کا اظہار انھوں نے ان لفظوں میں کیا تھا کہ ’’ ہمارے لوگوں کو سوشلزم کے خلاف قائل کرنے کی ہر کسی کو اجازت ہے ،کیونکہ کیوبا کا انقلاب سوچ اور خیالات کا انقلاب ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی کیوبا کے عوام کو سوشلزم سے جدا نہیں کر سکتا‘‘ ۔ کاسترو کے ان الفاظ کی صداقت اس وقت دنیا پر عیاں ہوئی جب امریکی صدر جمی کارٹر صدارت کا عہدہ چھوڑنے کے بعد کیوبا کے دورے پر گئے اور انھوں نے یونیورسٹی کے طالبعلموں کے اجتماع میں سوشلزم کے خلاف تقریر کی۔ جسے کیوبائی چینلز کے علاوہ CNNنے بھی نشر کیا ۔ یوں دنیا بھر میں یہ منظر دیکھا گیا کہ کس طرح کیوبا کے طالبعلموں نے جمی کارٹر کو بحث میں چت کر دیا ۔ اسی طرح 1998میں کاسترو نے پوپ جان پال دوئم کو دعوت دی کہ وہ کیوبا میں برسرِ عام لوگوں کو سوشلزم کے خلاف قائل کریں ۔ پوپ بڑے جوش سے آئے، ادھر سوشلزم کے خلاف بے سروپا دلائل شروع کیے ادھر ہال خالی ہونا شروع ہو گیا۔ یوں بیچارے پوپ اپنے ’’زریں آسمانی خیالات‘‘ سے کیوبائی باشندوں کو ’’ فیضیاب ‘‘ نہیں کر سکے ۔
کامریڈ فیدل کاسترو ریٹائر منٹ تک وہی تنخواہ لیتے رہے جو انقلاب کے آغاز میں تھی اور وہ بھی صرف 750پیسوز جو 30امریکی ڈالرز کے مساوی جبکہ پاکستانی کرنسی کے حساب سے یہ رقم 3000روپے سے بھی کم بنتی تھی ۔اسی میں سے وہ 10%مکان کے کرائے میں ادا کرتے تھے ۔ انھوں نے کبھی ہفتے اور اتوار کی چھٹی نہیں کی ۔دنیا بھر سے انقلابی و سامراج مخالف رہنماؤں اور چاہنے والوں کی جانب سے تقریباََ 17000 تحائف انھوں نے اپنے پاس رکھنے کی بجائے کیوبا کے مشہور مورخ ’’ یوسبیو لی ایل‘‘ کے حوالے کر دیے۔ ان کے پاس کوئی ذاتی ملکیت نہیں تھی جب کہ شخصی ملکیت کی شکل میں کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ ہے جو اب ان کی وصیت کے مطابق پبلک لائبریری کے حوالے کر دیا جائے گا۔ دو ماہ قبل کامریڈ فیدل کاسترو نے اپنے آخری خطاب میں کہا تھا کہ ’’ میرا وقت قریب ہے لیکن کیوبائی کمیونسٹ نظریات اس سرزمین پر اس امر کا ثبوت رہیں گے کہ اگر وہ سچے جذبوں کے ساتھ کام کریں تو وہ ایسے مادی حالات اور ثقافت کو جنم دیں گے جس کی نوعِ انسانی کو اشد ضرورت ہے ۔ ہمیں اس سلسلے کو بلا رکاوٹ جاری رکھنا ہو گا ۔‘‘
کامریڈ فیدل کاسترو گزشتہ 57سال سے دنیا پر حکمرانی کے خبط میں مبتلا امریکی سامراجیت کا تمسخر اڑاتے آ رہے ہیں جس نے نوعِ انسانی کو جنگوں ، استحصال ، بھوک ، بیماریوں،چکلوں، نسل پرستی اور مذہبی جنونیت کے سوا کچھ نہیں دیا ۔جب تک دنیا میں سرمایہ داری ، سامراجیت اور اس کی پیدا کردہ غلاظتیں موجود ہیں کامریڈ فیدل کاسترو زندہ رہیں گے ۔ فیدل ازمو اور گویرا ازمو اس وقت بھی زندہ رہے گا جب پینٹا گون اور وال اسٹریٹ کی راکھ سے نئی زندگی کی چنگاریاں جنم لیں گی ۔

Leave a Reply