کشمیر “آزادی کا ایک ہی ڈھنگ” “طبقاتی جنگ”

 

 

تحریر: یاسر خان

قدیم اشتراکی سماج کا غلام دارانہ عہد میں بدلنا ہو یا پھر غلام داری نظام سے جاگیر دارانہ سماج کے قیام کا سفریا اسی طرح جاگیرداری کے خاتمے کے بعد سرمایہ داری کے قیام کا عمل ،اس طویل سماجی اور معاشی سفر میں جو قدر مشترک رہی وہ انسانی محنت اور شعور ہے۔ ایک طرف اشتراکی انسانی محنت کی بنیاد پہ سماجی ترقی کا عمل آگے بڑھتا رہاتو دوسری طرف انسان کے طبقاتی شعور نے سماجی تبدیلی کے عمل کو فیصلہ کن موڑ دیئے ۔ ہر سماجی عہد میں بالا دست طبقات جن کے مروجہ نظام کے ساتھ براہ راست معاشی مفادات منسلک رہے انہوں نے اس نظام کو قائم رکھنے اور اس کے خلاف ابھرنے والے طبقاتی شعور اور طبقاتی لڑائی کو کچلنے کےلئے ہر زہر قاتل کا استعمال کیا۔ انسان کی فطرت کے خلاف لڑائی ہو،آقا اور غلام کی لڑائی ہو ، جاگیردار اور کسان کی لڑائی ہو یا پھر سرمایہ دار اور مزدور کی لڑائی ہو، طبقاتی لڑائی کو کمزور کرنے اور اس کو شکست سے دوچار کرنے کےلئے جس اوزار کو بالادست طبقات نے سب سے زیادہ استعمال کیا وہ مذہب ہے ۔اسی بنیاد پر سرمایہ داری کے آغاز میں بورژوا انقلابات کا بنیادی اور مقبول نعرہ تھا ” مذہب کو ریاست سے علیحدہ کرنا“۔اس کے ساتھ ساتھ جدید قومی ریاست، پارلیمانی نظام اور جدید انفراسٹرکچر کا قیام بھی سرمایہ دارانہ انقلابات کے بنیادی نعرے اور اصول تھے ۔ جن خطوں سے سرمایہ دارانہ نظام کا آغاز ہواوہاں سرمایہ داری یہ بنیادی مسائل حل کرنے میںکسی حدتک کامیاب رہی۔ مگر جو خطے سرمایہ دارانہ انقلابات کی دوڑ میں تاخیر سے شامل ہوئے وہاں یہ مسائل انتہائی پیچیدہ اشکال اختیار کرتے رہے ۔ جوں جوں سرمایہ داری آگئے بڑھتی گئی توں توں سماج میں موجود طبقاتی تضادات بھی بھرپور شدت کے ساتھ واضح ہوتے گئے ۔ کئی ملکوں میں طبقاتی جدوجہد نے نئی شکلیں اختیار کرنا شروع کیں اور سرمایہ دارانہ نظام کو بطور نظام حتمی طور پر ختم کرنے کی انقلابی سرکشیاں بھی ہوئیں۔ پھربلا ٓخر1917 میں روس میں پہلی بار محنت کش طبقے نے منظم بغاوت کے ذریعے سرمایہ داری کا تختہ الٹ کررکھ دیا۔انسانی تاریخ میں پہلی بار ذرائع پیداوار کو نجی ملکیت کے چنگل سے نکال کر سماج کی اکثریت یعنی محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں لیا گیا۔کیونکہ نجی ملکیت ہی وہ واحد عنصرہے جو سماج میں موجود امارت اور غربت کے درمیان خلیج میں اضافے کا موجب بنتی ہے ۔۔ نجی ملکیت کی بنیاد پر ہی سرمایہ دار اور حکمران طبقات مشترکہ انسانی محنت کا استعمال کرتے ہیں اور اپنے منافعوں میں اضافہ کرتے ہوئے سماج کی اکثریت کو غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیتے ہیں ۔ اس لئے سرمایہ داری کے خاتمے کی بنیادی شرط نجی ملکیت کا خاتمہ ہے ۔کیونکہ اس کا خاتمہ کئے بغیرپیداوار کا مقصد تبدیل نہیں کیا جاسکتااور جب تک پیداوار کا مقصد تبدیل نہیں ہوتا سماجی تفریق کا خاتمہ ناممکن ہے ۔ لہٰذا جب تک پیداوار کے مقصد کو منافع کے بجائے انسانی ضروریات کی تکمیل میں نہیں بدلاجاتا انسانی محنت کے استحصال کا خاتمہ ممکن نہیں ۔ مگر یہ سب محنت کش طبقے کی شعوری مداخلت کے بغیر ممکن نہیں ۔ 1917ءمیں روسی محنت کش عوام نے منظم شعوری مداخلت کی اور سوشلسٹ انقلاب برپا کیا ۔ بالشویک انقلاب کے ذریعے سرمایہ دارانہ معاشی نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے منصوبہ بند معاشی نظام کی بنیاد رکھی ۔ اسی معاشی منصوبہ بندی کے ذریعے وہاں کے عوام کو بلاتفریق رنگ ، مذہب، نسل ، روزگار، خوراک ،رہائش، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروریات کی بلاتفریق فراہمی ریاست کا اولین فریضہ تھا۔سوشلزم ”جو کہ منصوبہ بند معاشی اور سماجی نظام کے سوا کچھ نہیں “کی ان حاصلات کے بنیاد پر دنیا بھر کے محنت کش طبقے کو وہ جرت اور ہمت ملی کہ دنیا بھر میں طبقاتی اٹھان کی نئی لہریں نظر آئیں ۔ سرمایہ دارانہ نظام کو عالمی طور پرمحنت کش عوام کی بغاوتوں کا سامنا تھا۔ کئی ممالک میں انقلابات ابھر رہے تھے ۔

عالمی سامراج نے طبقاتی شعور جس کا نام ” سوشلسٹ انقلاب“ ہے کہ خلاف قومیت اور مذہب کا بے دریغ استعمال کیا ۔ کئی ممالک کے محنت کشوں کی طبقاتی جدوجہد کو قومی جمہوری نقلاب کے نام تک محدود کرتے ہوئے عالمی سوشلسٹ انقلاب سے جدا کردیاگیا اور کئی اس جدوجہد کو مذہب کے نام پر بدنام کرنے کی گٹھیا سازشیں کی گئی ۔ عالمی سامراج نے سوویت یونین کے انقلاب کو تنہا کرنے کےلئے قومی تعصبات کو ابھارا اور سوشلزم کو مذہب کی بنیاد پر بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ یہاں تک کہ امریکہ بہادرنے سوشلزم کو مذہب مخالف ثابت کرنے کےلئے ڈالرپر یہ فقرہ پرنٹ کروایا (In God we trust)یعنی ہم خدا پر یقین رکھتے ہیں اور پھر اس پاک ڈالر سے کون کون سے ناپاک اور ناجائز حرکات نہیں کی گئیں ۔ اس سب کا مقصد فقط یہ تھا کہ عظیم طبقاتی جدوجہد کو کمزور کیا جائے ۔ اور عالمی طور پر سرمایہ داری کو برقرار رکھا جاسکے ۔

اسی طرح برصغیر میں برطانوی سامراج کے خلاف جب جب بغاوت ابھر ی سامراج نے مختلف مذاہب کی بنیاد پر تعصب اور نفرت کو ابھارکر طبقاتی شعور کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ 1857کی جنگ آزادی ہو یا بیسویں صدی کے آغاز میں محنت کشوں کی تحریک کے خلاف مذہب اور قومیت کو بھیانک انداز میں استعمال کیا گیا ۔ برصغیر کے محنت کشوں کی ایک ہی لڑائی تھی کہ برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کی جائے مگر سامراج نے مقامی اشرافیہ (ہندواور مسلم ) کے ذریعے اس طبقاتی جڑت کو مذہب اور قوم کے نام پر تقسیم کیا اور قومی نظریہ کے تحت برصغیر کو خونی بٹوراکروایا گیا۔ اور قوم کے نام پر لاکھوں لوگوں کو جبری ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا اور لاکھوں کو خون میں نہلا دیا گیا ۔مگر آج اس دوقومی نظریہ کی حقیقت بھی ہمارے سامنے آشکار ہو جاتی ہے جب ہم انڈیا میں 30کروڑ سے زائد مسلم آبادی کو دیکھتے ہیں ۔انسانی تاریخ کی اتنی بڑی خونی تقسیم محض اس لئے کروائی گئی تاکہ اُس عظیم طبقاتی جدوجہد کو شکست دی جاسکے ۔ جو برطانوی سامراج کے ساتھ ساتھ مقامی اشرافیہ کےلئے بھی خطرہ بنتی جا رہی تھی ۔ کیونکہ حکمران طبقہ برطانیہ کا ہو یا برصغیر کا ،امریکہ کا ہو یا مڈل ایسٹ کا سرمایہ دارانہ نظام کے قیام پر ان کا گہرا اتفاق ہے اور اس نظام زر کے خلاف ابھرنے والی ہر تحریک کے خلاف بھی بلا تفریق مذہب رنگ نسل اور قوم ایک ہیں ۔ مذہبی جنونی اور خونی بٹوارا تو ہو گیا مگر دونوں ریاستوں کے عام عوام کی زندگیاں پہلے سے زیادہ تلخ اور کرب میں مبتلا ہوتی گئیں ۔ کیونکہ سرمایہ داری میں وہ گنجائش ہی باقی نہیں تھی کہ وہ بنیادی مسائل کو مکمل طور پر حل کر پاتی ۔ اسی بنیاد پر دونوں طرف کے غریب عوام نے بارہا اپنے اپنے حکمران طبقے اور نظام کے خلاف علم بغاوت بلند کی۔

پاکستان میں 1968-69 میں نوجوانوں ، مزدوروں ، کسانوں اور بھوکے ننگے غریب عوام ایک بار پھر اپنی تقدیر بدلنے کےلئے تاریخ کے میدان میں اترے مگر اس بار جتنی شدت سے وہ طبقاتی میدان میں اترے تھے اُس سے کئی گناہ زیادہ مزاحمت،نفرت ، دھوکہ دہی اور مصلحت کا سامنا کرنا پڑا۔کیونکہ سامراج اور اس کی گماشتہ ریاستیں طبقاتی لڑائی کی شدت کو دیکھ کر ہی وار کرتیں ہیں ۔اسی انقلابی سرکشی کو سب سے پہلے قیادت کی مصلحت پسندی (یعنی انقلاب کے بجائے انتخاب) کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر انتخابی عمل میں بھی عوام کی شمولیت اس قدر انقلابی تھی کہ اس کو مذہب کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ۔1970ءکے الیکشن میں جماعت اسلامی نے مذہب کے نام پر سوشلزم کو بدنام کرنے کی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی مگر محنت کش عوام نے ان کے مذہبی ڈرامے کو ہوا میں اڑ اکر رکھ دیا ۔ ریاست کو پھر کسی حد تک شکست کا سامنا تھا مگر پھر قومیت کا وار کیا جاتا ہے اور مشرقی اور مغربی پاکستان کی لسانی اور قومی تنگ نظری کو ابھار کر پھر تقسیم کے زخم کو ہرا کردیا جاتا ہے۔ قیادت کی نظریاتی مصلحت پسندی ، قومیت کے زہر اور مذہبی پراگندگی نے اس خطے کے طبقاتی شعور اور جدوجہد پہ تابڑ توڑ حملے کرکے اس کو انتہائی کمزور کرنے کی کوشش کی ۔مگر بغاوت کو ایک جگہ سے دبایا جاتا ہے تو وہ کسی دوسری جگہ اور کسی دوسری شکل میں پھر سے ابھر آتی ہے ۔

1978-79میں افغانستان طبقاتی معرکے کا مرکز بنا ” ثور انقلاب“ کے ذریعے افغانستان کے غریب عوام نے وہاں کے حکمران طبقے کو للکارا تو سامراج اور ریاست پاکستان یک جان ہو کر ”ثور انقلاب“ کو خون میں نہلانے میدان میں آگئے ۔امریکی سعودی اور پاکستانی سیکیورٹی اداروں اور ایجنسیوں نے ملکر القاعدہ اور طالبان جیسے مذہبی جنونی اور خونخوار درندوں کو پروان چڑھانا شروع کیا۔ ڈالر اور ریال جہاد کی بنیاد رکھی گئی ۔

80ءکی دہائی میں کشمیر میں بھی قومی آزادی کی تحریک اپنے عروج پر تھی آر پار محنت کش طبقہ اور نوجوان سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنی محرومیوں کا ازالہ چاہتے تھے ان کی سیاسی جدوجہد اور تحریک میں طبقاتی رنگ نمایاں نظر آرہا تھا مگر ریاستی حکمرانوں کو یہ بات کیسے ہضم ہو سکتی تھی ۔تو پھر ایک سازش کے ذریعے ڈالر اور ریال جہاد کا رخ کشمیر کی طرف موڑدیاجاتا ہے ۔ حزب المجاہدین ،لشکر طیبہ ، حرکت الانصار، البدر مجاہدین ،حرکت الجہاد، جیش محمد، جماعت الدعوة اور اس قسم کی کئی ایک مذہبی اور وحشی تنظیموں کی سرپرستی کی گئی ۔اس عمل کے ذریعے کشمیر کی حقیقی سیاسی جدوجہد کو کمزور کیا گیا ۔حتیٰ کہ قوم پرستوں کو بھی سیاسی اور گوریلا جدوجہد کے نام پر تقسیم کیا گیا ۔80اور90 کی دہائی میں کشمیر کا شاید ہی کوئی بازار ایسا ہو ا جہاں جنگی اور مذہبی وحشیوں کے ڈیرے نہ ہوئے ہوں اور بازار مذہبی اور جنگی ترانوں ، تقریروں اور فلموں سے گونج نہ رہے ہوں ۔ مساجد اور ممبر کو اس ڈالر اور ریالی جہاد کے لئے استعمال نہ کیا گیا ہو 80اور90 کی دو دہائیاں افغانستان، پاکستان اور کشمیر کےلئے تاریک ترین عہد تھا ۔یہ وہ عہد تھا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس خطے کے طبقاتی شعور کو مذہب کی ننگی تلوار کے ذریعے قتل کیا گیا۔ ضیاءالحق کی وحشیانہ آمریت نے اس خطے کو سامراجی ایماءپر بنیاد پرستی ، مذہبی جنونیت ،فرقہ واریت اور وحشی ملائیت کے حوالے کیا ۔ ریاست پاکستان جو اپنے غریب عوام کو دو وقت کا کھانا مہیا کرنے میں ناکام رہی وہ افغانستان اور کشمیر کے عوام کے مسائل حل کرنے چل پڑی ۔کیونکہ ہمیشہ اندرونی تضادات کو کسی بیرونی جارحیت کے ذریعے زائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہی ریاست پاکستان نے کیا ۔

ایک طرف کشمیر کی تحریک آزادی کو مذہبی اور جنونی درندوں کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تو دوسری طرف اس مداخلت کو جواز بناتے ہوئے ریاست ہندوستان نے کشمیر کے نوجوانوں اور محنت کشوں کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ مظالم کے وہ پہاڑ توڑے گئے کہ ہر گھر میں دکھ ،درد، اذیت ، ذلت اور خوف و ہراس کے گہرے بادل چھائے رہے ۔ اس آر پار کی ریاستی مداخلت نے ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں اور محنت کشوں کی زندگیوں کو اجھاڑکر رکھ دیا ۔کشمیر کے دونوں طرف کا وظیفہ خور حکمران طبقہ اس سارے خونی کھیل میں سامراج اور اس کے دلالوں کے پے رول پر رہا ہے ۔سامراج نے اس جنگی ماحول میں اپنے معاشی مفادات کو بھی فراموش نہیں کیا۔ خطے میں چاروں طرف جنگی ماحول کو پروان چڑھاکر ہر طرف اپنے اسلحہ کو بیچاگیا اور بھاری بھرگم منافع کمایا گیا ۔

اس سارے عمل میں انڈین اور پاکستان میں تین بڑی جنگیں بھی کروائی گئیں اور اس کی آڑ میں جنگی سازو سامان کی خرید و فروخت میں خطرناک حد تک اضافہ کیا گیا ۔ یہاں تک کہ دونوں ریاستوں نے ایٹم بم تک بنا ڈالے۔جنگی جنون و ماحول کو قائم رکھنا دونوں طرف کے حکمرانوں اور بالخصوص دونوں طرف کی افواج کےلئے انتہائی سازگار ہوتا ہے کیونکہ دونوں طرف کی افواج مسئلہ کشمیر کے نام پر ہی محنت کش عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں پر عیاشیاں کر رہی ہیں ۔جنگی ماحول جتنا بڑھتا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ جنگی اخراجات کے نام پر کمیشن بھی بڑھتا جاتا ہے ۔ دونوں طرف کا حکمران طبقہ اندرونی سماجی خلفشار اور بے یقینی کی کیفیت کو زائل کرنے کےلئے کبھی جنگ کا ڈرامہ رچاتے ہیں تو کبھی امن کے نام پر ناٹک کرتے ہیں ۔

آج کے عہد میں دونوں ممالک کا حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر جنگ کی گئی تو پھر دونوں طرف کچھ نہیں بچنے ولا کیونکہ اگر ایٹم بم دہلی پر گرے گا تو کوئی اس گمان میں نہ رہے کہ اسلام آباد اس سے محفوظ رہے گا۔پھر چاروں طرف تباہی ہی ہے ۔اور امن اس لئے قائم نہیں رکھ سکتے کہ نظام زر میں وہ گنجائش موجود نہیں کہ لوگوں کے بنیادی مسائل کو حتمی طور پر حل کیاجاسکے ۔

جب مسائل دن بدن بڑھتے جائیں گے تو پھر سماج میں ہلچل اور حرکت جنم لیتی ہے ۔ پھر یہ حرکت آگے بڑھ کر حکمران طبقے اور اس کے نظام کو چیلنج کرتی ہے پھر یہیں سے نام نہاد امن کا بونڈا چہرہ نمایاں ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔اور پھر سے جنگ کے طبل بجنا شروع ہو جاتے ہیں ۔لہٰذا سرمایہ داری کے اندر یہ حکمران نہ تو مکمل جنگ لڑنے کی ہمت اور جرت رکھتے ہیں اور نہ ہی امن قائم رکھنے کی سکت ۔ یہ امن اور جنگ کے نام پر محنت کشوں کی حقیقی لڑائی سے توجہ ہٹانے کی واردات ہوتی ہے ۔

پچھلے چھ آٹھ ماہ سے پھر کشمیر میں کسی نئی واردات کی سازش تیار کی جا رہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ چلنے والی تحریک کو کچلنے کےلئے انڈین ریاستی دہشت گردی اپنے عروج پر ہے مگر بغاوت ہے کہ رُکنے کا نام نہیں لے رہی ۔ہر آنے والا دن اس بغاوت کو مزید شدت دیتا جا رہا ہے ۔ کشمیر کے نوجوان اور محنت کش عوام تمام تر تعصبات کو پرے رکھتے ہوئے طبقاتی بنیادوں پر منظم ہو رہے ہیں ۔ ان کی یہ تحریک ہرگز کوئی مذہبی تحریک نہیں ہے وہ ان حکمرانوں اور انکے اس ظالم نظام سرمایہ داری سے چھٹکارا چاہتے ہیں ۔ مگر آج پھر دونوں طرف کی ریاستی مداخلت تحریک کو کمزور کرنے کی سازش ہے ۔ پاکستانی ریاست اور اس کے زیر انتظام کشمیر کی اشرافیہ یہاںسے تحریک میں مداخلت کرتی ہے جس کی واضح مثال اوڑی واقعہ ہے ۔اس واقعہ کو جماعت الدعوة کے امیر حافظ سعید کو بنیاد بنا کر انڈین ریاست کشمیریوں پر ظلم و جبر کی وہ داستانیں رقم کر رہی ہے کہ ظلم اور جبر کی پوری تاریخ بھی شرمندہ ہے ۔چار ماہ سے مسلسل کرفیو کے باعث بازار ، سکول ، کالج ، ہسپتال اور حتیٰ کہ مساجد میں نماز جمعہ پر بھی پابندی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام تر ذرائع ابلاغ اور انٹرنیٹ کی سہولیات پر بھی قدغن لگادی گئی ہے ۔تاکہ انڈین آرمی کی ریاستی بربریت کو دنیا سے چھپایا جا سکے ۔اور اس تحریک کے اصل محرکات اور شدت کو دوسرے خطے کے نوجوانوں اور محنت کشوں سے دور رکھا جاسکے ۔مگر اس ریاستی جبر کے باوجود اس تحریک کے حق میں خود انڈیا کے حکمران طبقے کے عین ناک کے نیچے واقع JNUجواہرلال نہرو یونیورسٹی میں بغاوت کا آغاز ہو جاتا ہے ۔ طالب علموں کی اس بغاوت کی قیادت بائیں بازو کے نظریات کے حامل نوجوان کررہے ہیں یہ بغاوت اب JNU سے نکل کر انڈیا کی کئی دوسرے تعلیمی اداروں تک پھیل چکی ہے ۔ انڈین ریاست نے اس بغاوت کو BJPکے بنیاد پرست ہندوﺅں سے حملے بھی کروائے جو ابھی تک جاری ہیں دوسری طرف ریاستی طاقت کے ذریعے اس بغاوت کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ انڈیا کے محنت کش طبقے نے بھی حکمران طبقات کو عام ہڑتال کے ذریعے پورے انڈیا کو بند کرکے اپنی طاقت کی ایک جھلک دکھائی ہے ۔ انڈیا میں اس وقت امارت اور غربت کی جو خلیج پائی جاتی ہے وہ تاریخ میں کبھی نہیں ملتی ۔بے روزگاروں کا ایک سمندر ہے جو انڈیا کی گلیوں اور سڑکوں پر امڈ آیا ہے ۔ انڈین ریاست اور حکمران طبقہ بھی اندرونی تضادات کا حل کسی بیرونی جارحیت کے ذریعے تلاش کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے ۔ اندرونی ریاستی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ ایل ا وسی پر جارحیت ریاستی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

کشمیر ی عوام کے ساتھ ستم ظریفی کی حد یہ ہے کہ اگر انڈین آرمی نے ایل او سی پر جارحیت کرتی ہے تو تب بھی خون کشمیر کے عام عوام کا گررہا ہے اور اگر پاک آرمی کرے تو تب بھی لاشیں کشمیری عوام کاہی مقدر ہیں ۔ اس دو طرفہ ریاستی مداخلت نے کشمیر میں بسنے والے انسانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے ۔ اس ریاستی مداخلت اور جارحیت کے خلاف پاکستانی زیر اہتمام کشمیر میں بھی احتجاج اور مظاہرے کئے گئے ۔ بھارتی زیرانتظام کشمیر میں چلنے والی تحریک کی بھی بھرپور عوامی حمایت کی گئی ۔ کسی حد تک آر پار نوجوانوں اور محنت کشوں کے رابطے بھی بحال ہوئے گو کہ یہ کافی حد تک سوشل میڈیا کی حد تک ہی محدود ہیں مگر آنے والے دنوں میں یہ مزید مضبوط بھی ہو سکتے ہیں۔ جس طرح اُس طرف کشمیر کا حکمران طبقہ اور ریاست انڈین پالیسیوں اور اصولوں کو لیکر چلتا ہے اور ظلم و جبر اور جارحیت میں انڈین ریاست کا ساتھ دیتا ہے تو اس طرف صورت حال وہاں سے زیادہ خوف ناک اور پیچیدہ ہے ۔

گزشتہ ماہ سے کشمیر کے ایک متحرک سیاسی شہر راولاکوٹ میں پری پلان طریقے سے مذہبی گروہوں اور ریاستی اداروں کی ملی بھگت کے تحت ایک گھناﺅنی سازش تیار کی جا رہی ہے ۔اس سازش کا آغاز کچھ عرصہ پہلے ایک مقامی مسجد کے ممبر سے تقریر کے ذریعے کیا گیا اور یاد رہے کہ اسی مسجد کے اسی ممبر سے اسی مقرر نے 2005کے دوران کئی بار سازشیں کرنے کی کوشش کی مگر اس وقت وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے مگر اسی بار ایسا لگتا ہے کہ وہ بھرپور تیاری کے ساتھ یہ سب کر رہے ہیں ۔کچھ عرصہ پہلے کی تقریر کے بعد شہر کی مساجد میں ایک پمفلٹ پھینکا گیا یا پھینکوایا گیا ۔جس پر اسلام سے متعلق کچھ سوالات درج تھے ۔ سوالات کی نوعیت ایسی ہے کہ اوسط درجے کے مذہبی انسان کو بھی کافی حد تک جذباتی کرسکتی ہے اور سوچے سمجھے بغیر اپنے مذہب کی ہمدردی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ایسے سوالات اٹھانے والے کو کافر قرار دینا اور اس کی گردن اُڑا دینے کا فتویٰ دینا اُس کےلئے بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ سوال نامہ سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی جیسے سوال کرنے والے کی لڑائی محض اسلام اور خدا کے خلاف ہے ۔ اس سارے عمل کے ذریعے پہلے پہلے ممبر کے ذریعے عام لوگوں کی توجہ اور ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور ساتھ ساتھ قانونی کارروائی کےلئے مقامی تھانے میں درخواست بھی دی گئی ۔پمفلٹ کے لکھنے کے انداز سے لیکر اُس کو منظر عام تک لائے جانے کے سارے عمل سے ایک چیز جو ظاہر ہوتی ہے کہ یہ سیاسی جدوجہد کرنے والے افراد کا کام نہیں ہوسکتاکیونکہ اس پمفلٹ کے پھینکنے سے اُن کی سیاسی اور انقلابی جدوجہد کو فائدہ پہنچنے سے زیادہ اُن کے کام کی تباہی ہوگی۔اس پہرائے میں یہ بات سمجھنا زیادہ مشکل نہیں کہ پمفلٹ کو ن پھینک سکتا ہے یا پھینکوا سکتا ہے ۔اس سوال نامے کی بنیاد پر جو درخواست ہوئی تھی اور کچھ سوشل میڈیا کی پوسٹوں کی بنیاد پر ایک نوجوان کو گرفتار کیا جاتا ہے ۔ پمفلٹ جب تقسیم کیا گیا وہ نوجوان سعودی عرب میں ملازمت پر تھا اور کچھ عرصہ پہلے چھٹی پر گھر آیا تھا ۔ جن سوشل میڈیا پوسٹس کی پاداش میں وہ پابند سلاسل ہے وہ آئی ڈی اس کے جیل جانے کے بعد بھی چلتی رہی۔ یہ سازش کا ایک پہلو ہے دوسری طرف دو اور نوجوانوں کو پاکستانی پرچم کی کاغذی جھنڈیاں جلانے کے جرم میں غداری کے کیس میں گرفتار کیا گیا۔ان تینوں نوجوانوں کا تعلق کشمیر میں نوجوانوں کی سیاسی روایتی طلبہ تنظم سے ہے یہ طلبہ تنظیم اپنی بھرپور انقلابی سیاسی جدوجہد کا ماضی رکھتی ہے ۔اور اس وقت کشمیر میں ریڈیکل سیاست کی علامت تصور کی جاتی ہے ۔ سوشلزم کے نظریات کو کشمیر کی آزادی ،سیاسی سماجی اور معاشی آزادی کےلئے اپنا اوزار سمجھتی ہے اور کشمیر کی مکمل آزادی کےلئے عملی جدوجہد میں پیش پیش ہے ۔سوشلزم کے نظریات محض ایک اس طلبہ تنظیم میں موجود نہیں ہیں بلکہ کچھ اور طلبہ تنظیموں میں بھی موجود ہیں جو سوشلسٹ انقلاب کو ہی انسانیت کےلئے راہ نجات تصور کرتی ہیں ۔طلبہ ” تنظیموں کے علاوہ دیگر ترقی پسند پارٹیوں کےلئے بھی سوشلزم کے نظریات ہی مشعل راہ ہیں ان سب کی جدوجہد کی راہیں مختلف ضرور ہوسکتی ہیں مگر منزل ایک ہی ہے اور وہ ہے غیر طبقاتی سماج کا قیام ، سرمایہ داری کا بطور نظام خاتمہ کرکہ منصوبہ بند معیشت پر مبنی ایک مزدور ریاست کا قیام ایک ایسی ریاست جو تمام تر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے جہاں کوئی بچہ تعلیم کے حق سے محروم نہ ہو، جہاں تعلیم کے بعد روزگار کی فراہمی ریاست کی اولین ترجیح ہو ، جہاں لوگ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے بیماری میںسائنسی علاج سے محروم نہ ہوں ، جہاں خوراک کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہو جہاں لوگوں کو چھت مہیا کرنا ریاست کا فرض ہو گا،جہاں تمام تر سفری سہولیات عوام کےلئے فری ہوں ۔غرض یہ کہ ہر ایک انسان سے اس کی صلاحیت کے مطابق کام لیا جائے اور اس کو ضروریات کے مطابق تمام تر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں ۔

یہ تمام تر مسائل کسی مذہب کی طرف سے پیدا کئے ہوئے نہیں ہیں ۔بلکہ نظام معیشت کی دین ہیں اور وہ نظام سرمایہ داری ہے ۔ جو بلاتفریق مذہب ، قوم ، نسل ، علاقہ اور تہذیب پورے کراہ ارض پر بربریت پھیلا رہا ہے ۔ اس لئے کشمیر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی لڑائی کسی مذہب یا خدا سے نہیں ہے بلکہ اس نظام زر کے ناخداﺅں سے ہے ۔ یہ ناخدا پورے کراہ ارض پر پھیلے ہوئے ہیں ہر مذہب ،ہر ملک ، ہر قوم میں موجود ہیں اس لئے ہماری لڑائی بھی ان کے خلاف عالمی ہے نہ کہ کوئی علاقائی یا مذہبی لڑائی ہے ۔ یہی وہ نظریات اور طبقاتی لڑائی ہے جس پر حملہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے گرفتار یوں کے بعد پھر ایک پمفلٹ شہر میں تقسیم کیا گیا ۔یہ پمفلٹ مذہبی جنونی دہشت گرد اور نام نہاد جہادی تنظیموں کی طرف سے تقسیم کیا گیا جس پر یہ تحریر درج تھی کہ ”تمام سرخوں کے سر قلم کردو“ اس پمفلٹ کے ذریعے وحشی درندوں نے بائیں بازو کی سیاست کو کھلم کھلا دھمکی دی اور پھر ایک طلبہ تنظیم کی احتجاجی ریلی اور مظاہرے پر سر عام اسلحہ لہراتے ہوئے حملہ کیا۔ جس کو تمام ترقی پسند انقلابی طلبہ تنظیموں کے نوجوانوں نے مل کر ناکام بنایا ۔

مظفر آباد میں 15.12.2016 کو کالعدم تنظیموں کا اجتماع جو اس مضموں میں بیان کئے گئے حقائق کا عکاس ہے

کالعدم تنظیموں کے ان عوامل کے خلاف ریاست نے کوئی رد عمل نہ ظاہر کرکے سازش میں برابر کی شراکت داری کو ظاہر کیا ہے ۔ پھر اس سارے معاملے پر مساجد اور ممبروں سے باضابطہ سیاست کا آغاز کیاگیا ۔ تمام تر مذہبی اور کالعدم جہادی تنظیموں نے دیگر دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر سیاسی قوت کے ذریعے ترقی پسندوں کو ڈرانے اور دھمکانے کی ناکام کوشش کی مگر ان کی اس گھناﺅنی سازش اور گٹھیا سیاست کو عام عوام نے یکسر مسترد کردیا ہے ۔اس جلسے میں کالعدم تنظیموں کے نام نہاد ڈالر اور ریالی جہادیوں نے سوشلزم اور انقلابی طبقاتی جدوجہد کو اپنی روایتی وحشی زبان میں بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کی اور سرعام پھانسیاں اور گلے کاٹنے کی باتیں کی گئیں ۔مولویوں نے بھی پھر سے اپنی ملائیت جھاڑنے کی جسارت کی اور رجعتی اور حکمران طبقات کے مفادات کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعتیں بھلا یہ موقع کیسے ہاتھ سے جانے دے سکتی تھیں ۔ گویا سب نے مل کر سوشلزم کو دہریت ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اپنی اپنی قیمت اپنے آقاﺅں کے سامنے رکھنے کی بھی کوشش کی گئی ۔دو دن پہلے بھی ہجیرہ کے مقام پر ترقی پسندوں کے امن مارچ پر ریاستی تشدد کیا گیا ۔اس امن مارچ کے شرکاءسفید پرچم لئے ایل او سی پر جا ری ریاستی جارحیت، بنیاد پرستی اور کالعدم جہادی تنظمیوں کو لگام دینے کی غرض سے بارڈر کی طرف مارچ کرنا چاہتے تھے مگر ریاست نے ان نہتے نوجوانوں پر ریاستی دہشت گردی کے ذریعے کریک ڈاﺅن کیا اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ۔

نام نہاد جہادی عناصر نے افغانستان اور کشمیر کے نام نہاد جہاد کو بھی سرعام آن کیا ۔ سرعام نام نہاد نیشنل ایکشن پلان کا جنازہ نکالا گیا مگر اس نیشنل ناٹ ایکشن پلان کے تحت ان وحشیوں کو تحفظ اور سیاسی کارکنوں کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ سب کچھ ایک طرف تو بائیں بازﺅ کی سیاست کو کچلنے کےلئے کیا جارہا ہے تو دوسری طرف ریاستی سرپرستی میں کالعدم تنظیموں کے لئے راستے ہموار کئے جا رہے ہیں ۔کیونکہ ریاست اور اس کے یہ پالتو وحشی اچھی طرح جانتے ہیں کہ پہلے بھی ان کی اس وحشت اور درندگی کو عوام کے سامنے لانے والی یہی ترقی پسند قوتیں تھی ۔لہٰذا مذہب جیسے حساس مسئلے کو غلط طریقے سے بحث کا حصہ بنا کر لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کی جائیں ۔اور ترقی پسند سیاست کرنے والوں کو مذہب دشمن ثابت کیا جائے اور دوسری طرف سرحد کے اس پار اٹھنے والی تحریک میں مذہبی اور جہادی عنصر کو شامل کرکے پھر سے تحریک کو قتل کیا جائے ۔ اوڑی کا وقعہ بھی اسی تسلسل میں کروایا گیا ۔ انکے یہ تمام تر عوامل ریاست اور حکمران طبقات کی بقا کے عوامل ہیں اور طبقاتی جڑت کو توڑنے کی واردات ہے ۔

یہ خونخوار ریاستیں خطہ کشمیر کا امن برقرار نہیں رکھنا چاہتی یہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کے نوجوانوں کو پھر سے اپنے معاشی اور مالی مفادات کےلئے خون میں نہلا دیا جائے ۔ جس طرح انہوں نے افغانستان ، شمالی اور جنوبی وزیرستان ،سوات وانا اور دیگر علاقوں کو تاراج کیا یہ کشمیر کو بھی برباد کرنا چاہتے ہیں اور9/11کے بعد جس طرح دوستیاں اور دشمنیاں بدلنے سے یہ وحشی باہر کے بجائے اندر ہی حملہ آور ہوتے رہے ۔ سامراج کی ایما پر شروع کرنے والی لڑائی ریاست کے اپنے گلے میں اس ہڈی کی طرح فٹ ہو گئی جو نہ نگلی جا رہی ہے اور نہ ہی اُگلی جا رہی ہے ۔اندرونی لڑائی میں کوئی شہر ، کوئی سکول ، کوئی عبادت گاہ اور کوئی ادارہ محفوظ نہیں ہے ۔سامراج کا بویا ہوا یہ پودا اب کئی قسم کی شاخیں نکال چکا ہے اور انکی شاخ تراشی کے نام پر سامراج نے افغانستان اور عراق کو کھنڈرات میں بدل کر رکھ دیا ہے ۔ داعش کے خلاف جنگ کے نام پر یمن اور شام کے ہنستے بستے شہروں کو قبرستانوں میں تبدیل کردیا ہے اور اب یہ چاہتے ہیں کہ کشمیر میں بھی درندگی کی نئی داستانیں قائم کی جائیں ۔

اس بربریت میں حکمران طبقہ عالمی طور پر برابر کا شریک ہے کیونکہ اُن کے ہر عمل کا حتمی مقصد یہی ہوتا ہے کہ ہر ممکن کوشش کی جائے کہ محنت کش عوام طبقاتی بنیادوں پر منظم نہ ہو پائیں وہ اس جڑت کو توڑنے کےلئے ہر تعصب ، ہر نفرت اور ہر دشمنی کو ہوا دیتے ہیں۔ مگر ان کے خلاف جو لڑائی بنتی ہے وہ یہ ہے کہ آر پار کشمیر کے نوجوانوں ، مزدوروں اور کسانوں کو انڈیا اور پاکستان کے نوجوانوں ، محنت کشوں اور کسانوں کے ساتھ اپنی آزادی کی لڑائی مل کر لڑنی ہوگی کیونکہ بھوک کا کوئی مذہب نہیں ہے ، بے روزگاری کی کوئی سرحد نہیں ہے ۔غربت اور جہالت کا کوئی علاقہ نہیں ہے استحصال کا کوئی دائرہ نہیں ہے ۔ریاستی اور مذہبی دہشت گردی کا کوئی ملک نہیں ۔

اسی لئے سوشلسٹ انقلاب کی ناقابل شکست جدوجہد کا پہلا اور بنیادی نعرہ یہی ہے ” دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاﺅ“۔یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں ہے بلکہ نظام سرمایہ داری کا گہرا سیاسی ، سماجی اور معاشی تجزیہ کرنے کے بعد اس کے بین الاقوامی استحصالی کردار کے خلاف ایک منظم مارکسی اور سائنسی بین الاقوامی طبقاتی جدوجہد کا نعرہ ہے ۔ہمیں اسی نعرے کی بنیاد پر ہی دنیا بھر کے مظلوموں محکموں ، غریبوں اور استحصال زدہ انسانوں کو طبقاتی بنیادوں پر منظم کرنا ہوگا کیونکہ سرمایہ داری کا گہرا ہوتا ہوا بحران نسل انسانی کو بربریت کی طرف دھکیل رہا ہے اور اگر نسل انسانی کو اس بربریت سے کوئی سوچ کوئی نظریہ بچا سکتا ہے تو وہ صرف اور صرف ایک بین الاقوامی سوشلسٹ انقلاب ہے جو نسل انسانی کی حقیقی آزادی کا ضامن ہے ۔

Leave a Reply