مارکس ازم یا لینن ازم ؟

تحریر :   روزا لکسمبرگ  ترجمہ:    اکرم گل حصہ دوم ابھی تک ہم نے سوشل ڈیموکریسی کے عام اصولوں اور کسی حد تک روس کے مخصوص حالات کی روشنی میں مرکزیت کے مسئلے کا جائزہ لیا ہے۔ تاہم لینن اور اس کے دوست جس ملٹری الٹرا سنٹرلزم کا شور مچا رہے ہیں وہ حادثاتی اختلافِ رائے کا نتیجہ نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ موقع پرستی کے خلاف مہم ہے جسے لینن نے معمولی تنظیمی جزیات تک گھسیٹا ہے۔ صفحہ نمبر 52 پر لینن کہتا ہے کہ ’’اہمیت اس بات کی ہے کہ موقع پرستی کے خلاف ایک کم وبیش موثر ہتھیار بنانے کی ضرورت ہے۔‘‘ اسے یقین ہے کہ موقع پرستی خاص طورپر دانشوروں کی غیر مرکزیت پسندی، بدنظمی اور بیوروکریسی کے سخت ڈسپلن، جو پارٹی چلانے کے لئے ضروری ہے، سے پہلو تہی کے رجحان سے جنم لیتی ہے۔ لینن کہتا ہے کہ دانشور سوشلسٹ تحریک … Read more

عقیدہ یا علم

انتخاب :  نذیرکاشر اول کیا ہے -روح یا مادہ ؟ یہ سوال اگر آپ مذہبی آدمی سے کر یں تو اس کا جو جو اب ملے گا وہ ظاہر ہے ۔ اس کا عقیدہ ہے کہ خدا کا ئنا ت کا خا لق اور حا کم ہے ، اس لئے وہ ہر موجود شے کا روحانی سرچشمہ ہے ۔مذہبی لو گ اسے ثابت نہیں کر سکتے کیو نکہ مذہبی عقا ئد پر ان کا ایمان ہو تا ہے اور وہ عقیدے کو علم پر ترجیح دیتے ہیں ۔ ازمنہء وسطی میں جب کلیسا کو نہ صرف روحانی بلکہ سیاسی اقتدار بھی حاصل تھا پا دری سا ئنس دانو ں کو سزائیں دیتے تھے انہیں کا ل کو ٹھڑیو ں میں بند کر دیتے تھے ،اذیتیں پہنچا تے تھے اور آگ میں جلا دیتے تھے آج پا دری سائنس کی اہمیت سے انکا ر نہیں کر تے بلکہ ان کا دعویٰ … Read more

برطانوی انخلا کے اثرات

تحریر :      مائیکل رابرٹ ترجمہ :   کامریڈ الطاف     ٹھیک ،میں نے اس کو غلط سمجھا۔ میرا خیال تھا کہ برطانوی عوام یورپی یونین میں رہنے کے لیے ووٹ کریں گے۔اس کے برعکس انہوں نے تنگ نظری سے یورپی یونین سے باہر نکلنے کے لیے ووٹ کر دیا۔گزشتہ عام انتخابات مئی 2015 کے ٹرن آؤٹ( 67 فیصد) کے مقابلے میں یہ ٹرن آوٹ( 72 فیصد )بہت زیادہ ہے ۔ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کس طرح مشکوک اندازمیں صرف 12 نشستوں کی ایک چھوٹی سی اکثریت کے ساتھ دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں اقتدار میں آئی۔وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے یورپی یونین کی رکنیت پر ریفرنڈم کروانے کے پر زور نعرے کی بنیاد پر یہ سب کچھ حاصل کیا تھا۔ اس سب نے یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی( یو کے آئی پی ) کے بڑھتے ہوئی ووٹ کو شدید متاثر کیا تھا، جس نے انتخابات … Read more

حکمرانوں کے ناٹک اور غریبوں کی سسکیاں

اداریہ  :  انقلابی جدوجہد پاکستان اقتصادی ، سیاسی ، سماجی ، آئینی ،قانونی، اخلاقی، احساسی ، نفسیاتی ، ادبی و داخلی و خارجی پالیسی سازی اور حتٰی کہ شدید ریاستی تُنزلی، ٹوٹ پھوٹ ،خلفشار اور انتشار کا شکار ہے جہاں ملک کے اندر حکمران طبقات کو ہر نوعیت کے بحران سے نبرد آزما ہونے میں مکمل ناکامی کا سامنا ہے وہیں خارجی محاذ پر بھی ناکامی ان کا مُنہ چڑھاتی دکھائی دیتی ہے ۔ ملکی سرحدوں سے لگنے والے تین ممالک ایران، افغانستان اور ہندوستان سے سرحدوں پر شدید ٹکراؤ پایا جاتا ہے اور باقی کی کسر امریکی سامراج کے بدلتے تیور پوری کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سامراجی ڈراؤن حملوں میں ہزاروں معصوموں کی اموات پر اس ملک کے حکمرانوں نے ہمیشہ ایک مجرمانہ چپ سادھ لی ہے لیکن ملا اختر منصور کے قتل پر یہ اچانک چیخ اٹھے ہیں اور امریکی ڈراؤن حملے کو ملکی سلامتی پر حملے … Read more

لینن ازم یا مارکس ازم؟

تحریر :  روزالکسمبرگ  مترجم :   اکرم گل حصہ اول سوشلسٹ تحریک کی تاریخ میں روسی سوشل ڈیموکریسی کے کاندھوں پر ایک بے نظیر ذمہ داری آن پڑی ہے۔ اسے فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ایک ایسے ملک میں بہترین سوشلسٹ (حربے، حکمت عملی ) پالیسی کون سی ہو سکتی ہے جہاں مطلق العنانیت ابھی تک غالب ہے۔ موجودہ روسی صورتِ حال کا موازنہ جرمنی کی 1879 – 90 کے دوران کی صورتِ حال سے کرنا غلط ہو گا جب بسمارک کے سوشلزم مخالف قوانین لاگو تھے۔ دونوں میں ایک قدرِ مشترک ضرور ہے اور وہ ہے پولیس کی حکمرانی۔ وگرنہ ان کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوری آزادیوں کی عدم موجودگی کے سبب سوشلسٹ تحریک کو جن رکاوٹوں کا سامنا ہے ان کی حیثیت ثانوی ہے۔ روس میں بھی عوامی تحریک ریاست کی طرف سے کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں کو عبور کرنے میں کامیاب … Read more

ناکام ریاست کا جنم

تحریر :    انقلابی جدوجہد قومی ریاست نے سماج کو ترقی دینے میں تاریخی طور پر بہت بڑا کردارادا کیا ہے حالانکہ قومی ریاست حکمران طبقے یا افسر شاہی کے ہاتھ میں استحصال کیلئے جبر کا سب سے بڑا اوزار بھی رہی ہے۔ لیکن اب قومی ریاست نہ صرف اپنا تاریخی کردار ادا کر چکی ہے بلکہ اپنا وجود کو بچانے کیلئے عالمی مالیاتی سرمائے کے آگے سرنگوں دکھائی دیتی ہے۔ اس لئے بہت سی قومی ریاستیں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کیلئے عجیب و غریب شکلیں اختیار کرتی جا رہی ہیں اور ان سے عجیب و غریب حرکتیں بھی سرزد ہو رہی ہیں جس طرح سرمایہ داری نظام اپنی کلاسیکی حدود قیود سے باہر نکل چکا ہے اسی طرح قومی ریاست بھی دراصل اپنی کلاسیکل حدود قیود میں رہنے سے قاصر ہے۔ لہٰذا قومی ریاستوں کو موجودہ صورتحال میں چلانا نہ صرف محال ہے بلکہ وہ کسی قسم کا … Read more

فرقہ واریت

تحریر :    انقلابی جدوجہد ضیاء الحق کے مارشل لاء نے سماج میں کئی بربادیاں پھیلائیں۔ قیدیں ٗ کوڑے ٗ پھانسیاں اور جلاوطنیاں تو اس کا معمول تھا۔ سیاست پر پابندیاں لگا کر ایک پورا عمل ہی بند کر دیا گیا۔ جس کے بعد دراصل ریاست کو خوفناک طریقے سے استعمال کیا گیا۔ مارشل لاء کی طوالت کیلئے ریاست کو بہت ہی برے انداز میں استعمال کیاگیا۔ جس سے آج تک نہ صرف پاکستان کے لوگ بلکہ پوری دنیا سے لڑنے کی کوشش کر رہاہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ملاؤں کو تمام تر شوروغوغا کے باوجود ایک بہت ہی برداشت والا سماج تھا۔ خصوصی طور پر 1968-69ء کی محنت کشوں کی انقلابی تحریک نے سماج پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے تھے۔ سماج میں جہاں فیوڈل سسٹم موجود تھا۔ ذات پات کے گہرے اثرات موجود تھےٗ وہیں پر مذہبی رواداری ٗ آرٹ ٗ کلچر ٗ شاعری ٗ ادب ٗ موسیقی … Read more

ایک مطمین ضمیر ، بے داغ سیاسی کارکن

تحریر: انور زیب مجھے اب بھی یاد ہے کہ میری شناسائی اُن مثالی نظریاتی سیاسی کارکن اور بے لوث انقلابی سے کیسے ہوئی۔ ضیاء شاہی جابرانہ طویل راج کے ابتدائی سال تھے۔ عوام کے ہر دل عزیز رہنما زوالفقار علی بھٹو کو ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔ اِسی طرح طالب علم رہنما نزیر عباسی کو بھی اذیت دے کر شہید کیا گیا تھا۔ ہر طرف مخالف آواز کو کوڑوں ، اذیت گاہوں اور جیلوں میں ڈال کر خاموش کر کے دبانے کی ریاستی فسطائی مہم پورے زور و شور سے جاری تھی۔ سارا ملک مارشل لاء کے کالے قوانین خصوصاً پریس سینسر شِپ کے ذد میں تھا۔ ایک شام برطانوی نشریاتی ادارے “بی بی سی” سے آٹھ بجے کی خبروں میں قمر عباس شہید کی گرفتاری اور قلعہ بالا حصار میں اُن پر تشدد کی خبر نشر ہوئی۔ خبر میں اُن کے … Read more

امیروں کا پیش کردہ بجٹ امیروں کے لیے

تحریر :    امجد خان کہہ رہے ہیں کہ بات حقی ہے زرد چہرے ہیں رنگ فقی ہے ہے بجٹ خود تنز لی کا بیاں یہ تنزل کی ہی ترقی ہے مملکت خداد داد پاکستان اس وقت واضع طور پر سماجی ، سیاسی ، معاشی ، مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی ، امن و امان کی خراب صورتحال، قومی سوال اور ریاستی اداروں کا آپسی ٹکراؤ جیسے تضادات سے دو چار ہے۔ جبکہ دوسری طرف خارجی طور پر جو ملک وزیرخارجہ کے بغیر خارجہ پالیسی چلا رہا ہو اوراس کے وزیر اعظم بار بار نیم امریکی دورے کرکے سمجھتے ہوں کہ وہ ایک کل وقتی وزیر خارجہ کی کمی پوری کرسکتے ہیں، اس کے نتائج وہی ہوتے ہیں جن کا آج سامنا کیا جا رہا ہے ۔ ریاست کے اندر نہ صرف ان تضادات کو حل کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے بلکہ اب تو اس کے اندر ان بحرانوں … Read more

ریاسی خلفشار

تحریر :    انقلابی جدوجہد ریاست ہائے اسلامی جمہوریہ پاکستان اس قدرآپاہج ، کمزور ، لاغر ، کرپٹ اور کھوکھلی ہو چکی ہے کہ یہ نہ صرف کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا فیصلہ نافذ کرنے کی اتھارٹی کھو چکی ہے بلکہ اب تو حالت یہ ہے کہ یہ اپنے ہر عمل میں کسی نئے بحران میں داخل ہو جاتی ہے ۔ اس کے اداروں کا آپسی ٹکراؤ شدت اختیار کر جاتا ہے ،اندرونی تضادات کھل کر منظر عام پر آجاتے ہیں ، ریاستی خلفشار اس قدر عیاں ہو جاتا ہے کہ لوگ آمریت میں کسی بڑے طوفان کی پیش گوئیاں شروع کردیتے ہیں اور جمہوری دور میں مارشلاء ان کو ہر ایونٹ پر دکھائی دینے لگتا ہے اور کچھ لوگ ہر معمولی تنازعے پر بھی گھروں اور دفاتر میں بیٹھ کر انقلاب کے پیش منظر پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں لیکن یہ بات ضرور ہے کہ ہر طرف ہلچل … Read more