کاسترو کیسے مر سکتے ہیں؟

تحریر:   مشتاق علی شان نوے سالہ جدوجہد سے بھرپور زندگی گزارنے والے فیدل کاسترو کے لیے یہ روایتی جملے لکھنا کہ ’’ وہ اب ہم میں نہیں رہے ‘‘‘ ان کے شایان شان نہیں ۔ نوے سال قبل کیوبا کے جزیرے میں پیدا ہونے والا یہ عام سا بچہ زندگی کے کسی بھی موڑ پرمر سکتا تھا لیکن وہ کاسترو کیسے مر سکتا ہے جس کی قیادت میں بیسویں صدی کے امریکی پروردہ بدترین آمروں میں سے ایک بتستا کو گوریلا جنگ کے میدان میں شکست فاش سے دوچار کیا گیا ۔ نوعِ انسانی کے پر مسرت لمحات میں سے ایک اس لمحے کے خالق کو کیسے موت آ سکتی ہے جس نے یکم جنوری 1959کو کیوبا کے افق پر سرخ پرچم لہراتے ہوئے کیوبا میں انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کے خاتمے کا اعلان کیا تھا ۔ آج فیدل کاسترو کی ’’ موت ‘‘ پر امریکی سڑکوں … Read more

شہید ساز

تحریر : سعادت حسن منٹو میں گجرات کا ٹھیاواڑ کا رہنے والا ہوں۔ ذات کا بنیا ہوں۔ پچھلے برس جب تقسیم ہندوستان کا ٹنٹا ہوا تو میں بالکل بیکار تھا۔ معاف کیجیے گا میں نے لفظ ’ٹنٹا‘ استعمال کیا۔ مگر اس کا کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ اردو زبان میں باہر کے الفاظ آنے ہی چاہئیں۔ چاہے وہ گجراتی ہی کیوں نہ ہوں۔ جی ہاں، میں بالکل بیکار تھا۔ لیکن کوکین کا تھوڑا سا کاروبار چل رہا تھا۔ جس سے کچھ آمدن کی صورت ہو ہی جاتی تھی۔ جب بٹوارہ ہوا اور اِدھر کے آدمی اُدھر اور اُدھر کے اِدھر ہزاروں کی تعداد میں آنے جانے لگے تو میں نے سوچا چلو پاکستان چلیں۔ کوکین کا نہ سہی کوئی اور کاروبار شروع کر دوں گا۔ چنانچہ وہاں سے چل پڑا اور راستے میں مختلف قسم کے چھوٹے چھوٹے دھندے کرتا پاکستان پہنچ گیا۔ میں تو چلا ہی اس نیّت … Read more