تم نے آنکھیں تو نوچ ڈالیں مگر۔۔۔۔۔ ایک خواب تھا جو زندہ رہا

  تحریر: کبیر خان دوسری عالمی جنگ سے پیدا ہونے والی بربادی کے ڈھیروں پر قائم ہونے والی عالمی معاشی بحالی کے اثرات کے باعث ایوبی آمریت کے دور میں پاکستان میں بھی بڑے پیمانے کی صنعت کاری اور اقتصادی ترقی میں بڑھوتری ہوئی جس سے جہاں محنت کش طبقے کے حجم میں تیزی سے اضافہ ہوا وہیں طبقاتی تفاوت اور استحصال میں بھی خوفناک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جہاں22خاندان اس ملک کے وسائل اور دولت کے وسیع حصے پر قابض تھے وہیں وسیع تر محنت کش عوام مسائل کی چکی میں خوفناک انداز میں پس رہی تھی ۔ ایوب خان اپنی آمریت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو جبر کے ذریعے کچل دیتا تھا ۔ بائیں بازو کی سیاست تو درکنار اس کا نام لینا بھی بڑا جرم تھااگر کوئی یہ جرم سرزد کرنے کی جرات کر بھی لیتا تو اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا۔ بائیں بازو … Read more

ٹرمپ کی فتح ، امریکہ میں بائیں بازوں کی طرف ایک بڑی تبدیلی کا موجب بنے گی

تحریر : پَٹ بائرن ترجمہ : الطاف بشارت نئے صدر کے لیے متنازعہ امریکی انتخابات میں جھوٹے پلیٹ فارم اور وعدوں کی ایک فرسودہ فہرست کے ساتھ ٹرمپ کی جیب کو جلد ہی ’’ایک عظیم فتح‘‘ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ ٹرمپ کبھی بھی کسی عوامی عہدے پر فائز نہیں ہوا۔ یوں انتخابات میں کھڑا ہونے کی بنیادی شرائط کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ اس نے اپنی انتخابی صدارتی مہم ایک سپر سیلز مین کے طور پر شروع کی اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر مبالغہ آمیزی سے لیفٹ ، رائٹ اور سنٹر کے تمام تر وعدے کئے۔ لیکن سیاسی دفتر ،کسی سادہ لوح گاہک کو کوئی چیز فروخت کرنے جیسا نہیں ہے۔ جن کو کوئی سامان فروخت کیا اور پھر ان کی شکایات کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ ایک انتخاب کے بعد ووٹر آپ کا احتساب کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں، … Read more

کشمیر “آزادی کا ایک ہی ڈھنگ” “طبقاتی جنگ”

    تحریر: یاسر خان قدیم اشتراکی سماج کا غلام دارانہ عہد میں بدلنا ہو یا پھر غلام داری نظام سے جاگیر دارانہ سماج کے قیام کا سفریا اسی طرح جاگیرداری کے خاتمے کے بعد سرمایہ داری کے قیام کا عمل ،اس طویل سماجی اور معاشی سفر میں جو قدر مشترک رہی وہ انسانی محنت اور شعور ہے۔ ایک طرف اشتراکی انسانی محنت کی بنیاد پہ سماجی ترقی کا عمل آگے بڑھتا رہاتو دوسری طرف انسان کے طبقاتی شعور نے سماجی تبدیلی کے عمل کو فیصلہ کن موڑ دیئے ۔ ہر سماجی عہد میں بالا دست طبقات جن کے مروجہ نظام کے ساتھ براہ راست معاشی مفادات منسلک رہے انہوں نے اس نظام کو قائم رکھنے اور اس کے خلاف ابھرنے والے طبقاتی شعور اور طبقاتی لڑائی کو کچلنے کےلئے ہر زہر قاتل کا استعمال کیا۔ انسان کی فطرت کے خلاف لڑائی ہو،آقا اور غلام کی لڑائی ہو ، جاگیردار … Read more

وہ قرض جو چکا نا ہے

تحریر :۔ اسجد عظیم خان یوم تا سیس منا ئے جانے کا حقیقی مقصد اپنے مقاصد اور نظر یا ت کوپیش نظر رکھتے ہو ئے اپنے گزرے سالوں کا محاسبہ کرتے ہو ئے آمدہ سالوں کی منصوبہ بندی کرنا اور ادھورے مقاصد کی تکمیل کرنا ہو تا ہے ۔یعنی اپنی کامیابیوں اور نا کا میابیوں پر غور کے بعد آئندہ نا کامیابیوں سے بچنا اور اپنی منزل تک پہنچنا ہو تا ہے ۔پا کستا ن پیپلز پا رٹی 30نومبر کواپنے پچا سویں سال میں داخل ہو رہی ہے ۔اگرچہ یوم تا سیس پر پچا س سال تاریخ کے محاسبے کی ضرورت ہے ۔اور وہی محاسبہ اس مضمون کا موضوع بحث ہے ۔انسانی تا ریخ کے کچھ عہد سماجوں کو یکسر بدل دینے والی تحریکوں کو ابھارنے والے ہوتے ہیں ۔اوران عہدوں کے یہ تحریکی اُبھار اگر انقلابی قیادتوں کے گرد منظم ہو جائیں، اور مار کسی نظریات اور سائنسی اصولوں … Read more