مودی سرکار، ہارورڈ نہیں

تحریر :مائیکل رابرٹس ترجمہ: کامریڈ الطاف یہ لگتا ہے کہ گزشتہ ہفتے کلیدی بھارتی ریاستوں میں بی جے پی کی بھاری فتح نے نریندر مودی کی حکمرانی کو تقویت بخشی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی سرمایہ دارنہ جمہوریت میں مودی کی ہندوقوم پرست بے جی پی نے بھارت میں سب سے زیادہ آبادی والی 220ملین ووٹرز کی ریاست میں بھاری اکثریت سے میدان صاف کیا۔ صرف 40فیصد ووٹ سے بھی کم لیتے ہوئے 403میں سے 312نشستیں اپنے نام کیں،2014 کے انتخابات سے کچھ کم جن میں مودی نے 30سال میں پہلی بڑی پارلیمانی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اسی طرح اترپردیش کے انتخابی نتائج نے 1977کے بعد پہلی بار کسی ریاست میں کسی پارٹی،بی جے پی، کو اتنی بھاری اکثریت دی ہے۔ مودی کی بے جے پی اب ہندوستانیوں کی 30فیصد آباد والی ریاست کی حکمرانی کی سربراہ مقرر ہوئی ہے۔ جبکہ کانگریس، جس نے آزادی کے بعد … Read more

تم نے آنکھیں تو نوچ ڈالیں مگر۔۔۔۔۔ ایک خواب تھا جو زندہ رہا

  تحریر: کبیر خان دوسری عالمی جنگ سے پیدا ہونے والی بربادی کے ڈھیروں پر قائم ہونے والی عالمی معاشی بحالی کے اثرات کے باعث ایوبی آمریت کے دور میں پاکستان میں بھی بڑے پیمانے کی صنعت کاری اور اقتصادی ترقی میں بڑھوتری ہوئی جس سے جہاں محنت کش طبقے کے حجم میں تیزی سے اضافہ ہوا وہیں طبقاتی تفاوت اور استحصال میں بھی خوفناک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جہاں22خاندان اس ملک کے وسائل اور دولت کے وسیع حصے پر قابض تھے وہیں وسیع تر محنت کش عوام مسائل کی چکی میں خوفناک انداز میں پس رہی تھی ۔ ایوب خان اپنی آمریت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو جبر کے ذریعے کچل دیتا تھا ۔ بائیں بازو کی سیاست تو درکنار اس کا نام لینا بھی بڑا جرم تھااگر کوئی یہ جرم سرزد کرنے کی جرات کر بھی لیتا تو اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا۔ بائیں بازو … Read more

ٹرمپ کی فتح ، امریکہ میں بائیں بازوں کی طرف ایک بڑی تبدیلی کا موجب بنے گی

تحریر : پَٹ بائرن ترجمہ : الطاف بشارت نئے صدر کے لیے متنازعہ امریکی انتخابات میں جھوٹے پلیٹ فارم اور وعدوں کی ایک فرسودہ فہرست کے ساتھ ٹرمپ کی جیب کو جلد ہی ’’ایک عظیم فتح‘‘ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ ٹرمپ کبھی بھی کسی عوامی عہدے پر فائز نہیں ہوا۔ یوں انتخابات میں کھڑا ہونے کی بنیادی شرائط کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ اس نے اپنی انتخابی صدارتی مہم ایک سپر سیلز مین کے طور پر شروع کی اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر مبالغہ آمیزی سے لیفٹ ، رائٹ اور سنٹر کے تمام تر وعدے کئے۔ لیکن سیاسی دفتر ،کسی سادہ لوح گاہک کو کوئی چیز فروخت کرنے جیسا نہیں ہے۔ جن کو کوئی سامان فروخت کیا اور پھر ان کی شکایات کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ ایک انتخاب کے بعد ووٹر آپ کا احتساب کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں، … Read more

کشمیر “آزادی کا ایک ہی ڈھنگ” “طبقاتی جنگ”

    تحریر: یاسر خان قدیم اشتراکی سماج کا غلام دارانہ عہد میں بدلنا ہو یا پھر غلام داری نظام سے جاگیر دارانہ سماج کے قیام کا سفریا اسی طرح جاگیرداری کے خاتمے کے بعد سرمایہ داری کے قیام کا عمل ،اس طویل سماجی اور معاشی سفر میں جو قدر مشترک رہی وہ انسانی محنت اور شعور ہے۔ ایک طرف اشتراکی انسانی محنت کی بنیاد پہ سماجی ترقی کا عمل آگے بڑھتا رہاتو دوسری طرف انسان کے طبقاتی شعور نے سماجی تبدیلی کے عمل کو فیصلہ کن موڑ دیئے ۔ ہر سماجی عہد میں بالا دست طبقات جن کے مروجہ نظام کے ساتھ براہ راست معاشی مفادات منسلک رہے انہوں نے اس نظام کو قائم رکھنے اور اس کے خلاف ابھرنے والے طبقاتی شعور اور طبقاتی لڑائی کو کچلنے کےلئے ہر زہر قاتل کا استعمال کیا۔ انسان کی فطرت کے خلاف لڑائی ہو،آقا اور غلام کی لڑائی ہو ، جاگیردار … Read more

اپنے بچوں کے نام چے گویرا کا خط

سرمایہ دارنہ نظام کے لیے ایک دہشت، انقلابیوں کے لیے عزم و ہمت کے نشان کامریڈ چے گویر کے یوم شہادت پر ان کا اپنے بچوں کے نام لکھا جانے والا خط، ان کے انقلابی جذبے کے ساتھ آپ ساتھیوں کے نام بالخصوص نوجوانوں اور طالب علموں کے نام۔  اگر کسی دن تم میرا یہ خط پڑھو گے۔ اس لئے کہ میں خود تمہارے پاس نہیں ہوں گا۔ تم مجھے تقریباً بھول جاؤ گے اور جو ابھی ننھے منےؔ ہیں انہیں تو میں بالکل یاد نہیں رہوں گا۔ تمہارے باپ ایک ایسا آدمی رہاہے جس نے جو سوچا اس پر عمل بھی کیا۔ یقین رکھو کہ وہ اپنے نظر یات سے مکمل طور پر وفادار رہا ہے۔ ایک اچھے انقلابی بننے کے لئے پروش پاؤ۔ ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنے کے لئے سخت محنت کرو۔ اس طرح تم فطرت کی طاقتوں پر پوری طرح قابو حاصل کر لو گے۔ یاد … Read more

پی 2 پی اور مارکسزم – پرانی نوع کی موت

تحریر:  جوناتھن کلائن ترجمہ : کامریڈ مبشر بشر کسی بھی سماجی تبدیلی کے عمل کا تقاضہ ہے کہ اس کو سمجھنے کے لیے ان نئے مظاہر کا ادراک کیا جائے جن سے اس تبدیلی کے وقوع پزیر ہونے کا ایک اشارہ بھی مل سکے۔ پیداواری عمل کا ایک نیا رجحان P 2 P کا ہے۔ جس میں رضا کارانہ تعاون کی بنیاد پر مصنوعات کی آزادانہ تقسیم عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس ویب سائٹ پر گزشتہ بحث کی بنیاد ایک دوسری بحث میں شرکت کا موجب بنی۔  P 2 P تحریک پر یوٹوپیائی تحریک کا الزام لگایا گیا۔ یہ سچ ہے کہ تحریک میں کچھ دور کے اور سہانے خیالات کا عنصر پایا جاتا ہے (جیسا کہ کسی بھی تحریک میں ہوتا ہے) مگر اس تحریک پر یوٹوپیا کا الزام لگانا مضحکہ خیز ہے۔ جو گزشتہ دس سے پندرہ سالوں سے دن دگنی اور رات چگنی ترقی کر رہی … Read more

لینن کی وفات

تحریر: کامریڈ ٹراٹسکی کامریڈ لیون ٹراٹسکی کے 76 ویں یوم شہادت پر کامریڈ کی سوانح عمری “میری زندگی” (My Life) سے ایک اقتباس جو تاریخی حقائق پر مبنی ہے۔ اپنے پڑھنے والے ساتھیوں کے نام امید ہے وہ اپنی جدوجہد کی ان انقلابیوں کی طرح مرتے دم تک جاری رکھیں گے۔  انتخاب:  کامریڈ متین آصف  مجھ سے پوچھا جاتا اور اب بھی پوچھا جاتا ہے۔ ’’تم اقتدار سے کیسے محروم ہوئے؟‘‘بہت سی صورتوں میں یہ سوال بڑا سادہ اور معصوم لگتا ہے۔ جیسے کوئی سیال یا مادی چیز ہاتھ سے پھسل گئی ہو۔ پانی یا کوئی کتاب ہاتھ سے نکل گئے ہوں۔ بات یہ ہے کہ طاقت ایک آنی جانی چیز ہے۔ اسے کسی مرحلے پر کھونا بھی ہوتا ہے۔ پرامن طریقے سے یادوسری طرح۔ یعنی انقلابی حلقے میں نظریات کے انحطاط کی وجہ سے، یا پھر عوام کا انقلابی مزاج بدل جانے سے۔ یہ دونوں چیزیں بیک وقت بھی … Read more

آزادی کے زخم

تحریر: کامریڈ الطاف بشارت 14اگست 1947کو رات 12:02 منٹ پر پاکستان کا جاگیر دار – سرمایہ دار(جو چوری اور ڈاکہ زنی سے جاگیردار اور سرمایہ دار بنا یا اپنے سامراجی آقاؤں کی دلالی کے انعام کی صورت میں) ، وحشی ملاں، جاہل پنڈت ، قومی و نسلی عصبیت کے جن ، ہندوستان کے بنیاد پرست ہندوبنیے ، وڈیرے، پروہیت ، ساہوکاراور تاجر تو آزاد ہو گئے تھے۔ مگر دونوں اطراف کا عام آدمی، مزدور، کسان ، دیہاڑی دار،ریڑھی بان ، طالب علم، بحیثیت مجموعہ محنت کش طبقہ ، غربت ، نفرت ، جہالت، تعصب ، بربریت، حوانیت و سفاکیت کی بھینٹ چڑھ گیا۔درحقیقت زمین کے گرد باڑ لگانے سے سماج کے طاقتورطبقات تو آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر وہ شعوری بدمعاشی کے ذریعے جھوٹ ، فریب دھونس ، ظلم و جبر کا سہارہ لے کر اپنے غلاموں کو آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی غلامی کے تصور کو ذہن سے … Read more

آزادی مگر کس کی؟

تحریر: کامریڈ اے اے خان آزادی کی تحریکیں دراصل معاشی محرومی سے نجات پانے کی تحریکیں ھوتی ھیں۔ معاشی محرومی دراصل اس طبقاتی تفریق کا آئینہ دار ھوتی ہیں جس کا آغاز کرہ ارض پہ پہلے انسان کی تخلیق سے ھو گیا تھا۔ جس نے آگے چل کر انسانی تاریخ کو طبقاتی تاریخ بنا دیا یعنی دنیا کی تاریخ دوطبقات کی باھمی تفاوت کی تاریخ ھے۔ جو کبھی آقا و غلام کبھی جاگیر دار اور مزارع کبھی سرمایہ دار اور مزدور کبھی حاکم اور محکوم کبھی ظالم اورمظلوم کں شکل اختیار کرتی ھے۔ برصغیر پر تاج برطانیہ کں عملداری کا آغاز ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد سے ھو گیا تھا۔ اس وقت سے ھی برصغیر کے عام محنت کشوں کے برطانوی حکمرانوں اور ھندوستانی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی جانب سے کیے جانے والے استحصال کا بھی آغاز ھوتا ہے۔ اس استحصال کے خلاف جدوجہد بھی ساتھ ساتھ چلتی ھے … Read more

آزاد کشمیرانتخابات

تحریر : کامریڈ متین آصف 21جولائی کو کشمیر میں ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حکمران جماعت نواز لیگ کی بڑے پیمانے پر کامیابی نہ صرف اکثریتی محنت کش طبقے کی زندگی میں مزید مشکلات اور تنگی کا باعث بلکہ کئی دہائیوں سے چلے آنے والے مسئلہ کشمیر پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔ کشمیری عوام کو ایک غیر سیاسی حقیقی ’جمہوری آمریت‘ میں دھکیل دیا گیا ہے۔ لازمی طور پر ان انتخابات میں دھاندلی کی کمزور سی بازگشت بھی سنائی دی، قبل از انتخاب اور بعد از پولنگ نتائج مرتب کرتے ہوئے کی جانے والی دھاندلی سے کسی طور پر بھی انکار ممکن نہیں۔ کشمیر کے انتخابات پر تحقیق کرنے والے سیاسیات کے طالبعلوں کے ایک گروپ کے مطابق: ’’اس امر سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ ہر اک حلقہ انتخاب میں 5000سے 7000غیر قانونی ووٹ کاسٹ کئے گئے ہیں۔ یہ ممکن … Read more