شہید ساز

تحریر : سعادت حسن منٹو میں گجرات کا ٹھیاواڑ کا رہنے والا ہوں۔ ذات کا بنیا ہوں۔ پچھلے برس جب تقسیم ہندوستان کا ٹنٹا ہوا تو میں بالکل بیکار تھا۔ معاف کیجیے گا میں نے لفظ ’ٹنٹا‘ استعمال کیا۔ مگر اس کا کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ اردو زبان میں باہر کے الفاظ آنے ہی چاہئیں۔ چاہے وہ گجراتی ہی کیوں نہ ہوں۔ جی ہاں، میں بالکل بیکار تھا۔ لیکن کوکین کا تھوڑا سا کاروبار چل رہا تھا۔ جس سے کچھ آمدن کی صورت ہو ہی جاتی تھی۔ جب بٹوارہ ہوا اور اِدھر کے آدمی اُدھر اور اُدھر کے اِدھر ہزاروں کی تعداد میں آنے جانے لگے تو میں نے سوچا چلو پاکستان چلیں۔ کوکین کا نہ سہی کوئی اور کاروبار شروع کر دوں گا۔ چنانچہ وہاں سے چل پڑا اور راستے میں مختلف قسم کے چھوٹے چھوٹے دھندے کرتا پاکستان پہنچ گیا۔ میں تو چلا ہی اس نیّت … Read more

اپنے بچوں کے نام چے گویرا کا خط

سرمایہ دارنہ نظام کے لیے ایک دہشت، انقلابیوں کے لیے عزم و ہمت کے نشان کامریڈ چے گویر کے یوم شہادت پر ان کا اپنے بچوں کے نام لکھا جانے والا خط، ان کے انقلابی جذبے کے ساتھ آپ ساتھیوں کے نام بالخصوص نوجوانوں اور طالب علموں کے نام۔  اگر کسی دن تم میرا یہ خط پڑھو گے۔ اس لئے کہ میں خود تمہارے پاس نہیں ہوں گا۔ تم مجھے تقریباً بھول جاؤ گے اور جو ابھی ننھے منےؔ ہیں انہیں تو میں بالکل یاد نہیں رہوں گا۔ تمہارے باپ ایک ایسا آدمی رہاہے جس نے جو سوچا اس پر عمل بھی کیا۔ یقین رکھو کہ وہ اپنے نظر یات سے مکمل طور پر وفادار رہا ہے۔ ایک اچھے انقلابی بننے کے لئے پروش پاؤ۔ ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرنے کے لئے سخت محنت کرو۔ اس طرح تم فطرت کی طاقتوں پر پوری طرح قابو حاصل کر لو گے۔ یاد … Read more

اس آزادی کے کیا معنی ؟

اس آزادی کے کیا معنی؟ کیسے حقائق سے نظر چرائیں ہم کس آزادی کا جشن منائیں ہم؟ جہاں ہر طرف بے بس، بد حال چہرے ہیں جہاں ہر طرف بھوک و افلاس کے ڈیرے ہیں جہاں سینکڑوں نے کروڑوں کے مقدر گھیرے ہیں جہاں روشنی کا امکان نہیں بس اندھیرے ہی اندھیرے ہیں اس آزادی کے کیا معنی؟ کیسے حقائق سے نظر چرائیں ہم کس آزادی کا جشن منائیں ہم جہاں ہر طرف دہشت اور خوف کے سائے ہیں جہاں ہر طرف غم والم کے بادل چھائے ہیں جہاں کلیاں بھی مسلی ہیں جہاں پھول بھی مرجائے ہیں جہاں موت کی دہائی دیں جو زندگی کے ستائے ہیں اس آزادی کے کیا معنی؟ کیسے حقائق سے نظر چرائیں ہم کس آزادی کا جشن منائیں ہم جہاں مٹی کے پاسباں ہی مٹی کے غدار ہیں جہاں بے ایماں ہیں وہی، جو ایماں کے علمبردار ہیں جہاں سیاستداں ہیں وہ، جو جہاں … Read more

لینن ازم یا مارکس ازم؟

تحریر :  روزالکسمبرگ  مترجم :   اکرم گل حصہ اول سوشلسٹ تحریک کی تاریخ میں روسی سوشل ڈیموکریسی کے کاندھوں پر ایک بے نظیر ذمہ داری آن پڑی ہے۔ اسے فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ایک ایسے ملک میں بہترین سوشلسٹ (حربے، حکمت عملی ) پالیسی کون سی ہو سکتی ہے جہاں مطلق العنانیت ابھی تک غالب ہے۔ موجودہ روسی صورتِ حال کا موازنہ جرمنی کی 1879 – 90 کے دوران کی صورتِ حال سے کرنا غلط ہو گا جب بسمارک کے سوشلزم مخالف قوانین لاگو تھے۔ دونوں میں ایک قدرِ مشترک ضرور ہے اور وہ ہے پولیس کی حکمرانی۔ وگرنہ ان کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوری آزادیوں کی عدم موجودگی کے سبب سوشلسٹ تحریک کو جن رکاوٹوں کا سامنا ہے ان کی حیثیت ثانوی ہے۔ روس میں بھی عوامی تحریک ریاست کی طرف سے کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں کو عبور کرنے میں کامیاب … Read more

پرانے خدا

کرشن چندر متھرا کے ایک طرف جمناہے اور تین طرف مندر ، اس حددو اربعہ میں نائی حلوائی ، پانڈے ، پجاری اور ہوٹل والے بستے ہیں۔ جمنا اپنارُخ بدلتی رہتی ہے۔نئے نئے عالی شان مندر بھی تعمیر ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن متھرا کاحدوداربعہ وہی رہتا ہے، اس کی آبادی کی تشکیل اور تناسب میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو پاتی۔ سوائے ان دنوں کے جب اشمٹی کا میلہ معلوم ہوتا ہے کر شن جی کے بھگت اپنے بھگوان کا جنم منانے کے لیے ہندو ستان کے چاروں کونوں سے کھنچے چلے آتے ہیں ۔ ان دنوں کرشن جی کے بھگت متھرا پر یلغار بول دیتے ہیں ، اور مدراس سے، کراچی سے، رنگون سے، پشاور سے ، ہر سمت سے ریل گاڑیا ں آتی ہیں اور متھرا کے اسٹیشن پر ہزاروں جاتر ی اُگل دیتی ہیں، جاتری سمندر کی لہروں کی طرح بڑھے چلے آتے ہیں اور مندروں گھاٹوں … Read more