امریکی معیشت – بہت شاندار نہیں ہے۔

تحریر : مائیکل رابرٹس ترجمہ: کامریڈ الطاف سرمایہ دارانہ معیشتوں میں امریکہ کی معیشت انتہائی اہم اور بڑی معیشت ہے۔ 2009 میں عظیم کساد بازاری کے خاتمے کے بعد سےاس کا شمار عموماً دنیا کی سات بڑی اور بہترین معیشتوں میں سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والی معیشت کے طور پر کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا یہ درست ہے؟ اگر ہم 2009 سے اس کی اوسط جی ڈی پی کی نمو(بڑھوتری) کا جائزہ لیں تو، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ نمو کینیڈا کی نمو سے 2.2 فیصد نیچے ہے، جس کو ایک بہت چھوٹی معیشت کے طور پر قبول کیا جا چکاہے۔ اسی طرح اگر ہم ہر شخص (فی کس) کے اوسظ جی ڈی پی نمو پر نظر ڈالیں تو، سالانہ امریکی نمو محض 1.4 فیصد ہے، جرمنی کی 1.9 فیصد نمو سے انتہائی کم- اگرچہ تمام تر جی سیون معیشتیں غیر تسلی بخش کارکردگی کا مظاہر کر رہی ہیں۔ … Read more

برطانوی انخلا کے اثرات

تحریر :      مائیکل رابرٹ ترجمہ :   کامریڈ الطاف     ٹھیک ،میں نے اس کو غلط سمجھا۔ میرا خیال تھا کہ برطانوی عوام یورپی یونین میں رہنے کے لیے ووٹ کریں گے۔اس کے برعکس انہوں نے تنگ نظری سے یورپی یونین سے باہر نکلنے کے لیے ووٹ کر دیا۔گزشتہ عام انتخابات مئی 2015 کے ٹرن آؤٹ( 67 فیصد) کے مقابلے میں یہ ٹرن آوٹ( 72 فیصد )بہت زیادہ ہے ۔ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کس طرح مشکوک اندازمیں صرف 12 نشستوں کی ایک چھوٹی سی اکثریت کے ساتھ دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں اقتدار میں آئی۔وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے یورپی یونین کی رکنیت پر ریفرنڈم کروانے کے پر زور نعرے کی بنیاد پر یہ سب کچھ حاصل کیا تھا۔ اس سب نے یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی( یو کے آئی پی ) کے بڑھتے ہوئی ووٹ کو شدید متاثر کیا تھا، جس نے انتخابات … Read more

امیروں کا پیش کردہ بجٹ امیروں کے لیے

تحریر :    امجد خان کہہ رہے ہیں کہ بات حقی ہے زرد چہرے ہیں رنگ فقی ہے ہے بجٹ خود تنز لی کا بیاں یہ تنزل کی ہی ترقی ہے مملکت خداد داد پاکستان اس وقت واضع طور پر سماجی ، سیاسی ، معاشی ، مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی ، امن و امان کی خراب صورتحال، قومی سوال اور ریاستی اداروں کا آپسی ٹکراؤ جیسے تضادات سے دو چار ہے۔ جبکہ دوسری طرف خارجی طور پر جو ملک وزیرخارجہ کے بغیر خارجہ پالیسی چلا رہا ہو اوراس کے وزیر اعظم بار بار نیم امریکی دورے کرکے سمجھتے ہوں کہ وہ ایک کل وقتی وزیر خارجہ کی کمی پوری کرسکتے ہیں، اس کے نتائج وہی ہوتے ہیں جن کا آج سامنا کیا جا رہا ہے ۔ ریاست کے اندر نہ صرف ان تضادات کو حل کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے بلکہ اب تو اس کے اندر ان بحرانوں … Read more

تاریخی تناظر میں موجودہ عالمی بحران کی نوعیت اور اقتصادی صورتحال

تحریر :  کبیر خان (حصہ دوم ) مائیکل رابرٹس نے اپنے ایک مضمون میں آگے چل کر یونائٹڈ کنگڈم کی معیشت کی وضاحت یوں کی ہے کہ:۔ ” اس ہفتے کی ابتدا میں ہم نے دوسری بڑی تیز ترین ترقی کرتی ہوئی ایک اہم سرمایہ دارانہ معیشت سلطنت متحدہ (یو کے) کے اعداد و شمار حاصل کئے ہیں ۔2015ءکی آخری سہ ماہی میں سلطنت متحدہ کی حقیقی جی ڈی پی صرف 0.5فیصد کی شرح سے بڑھی ہے ( جو کہ امریکہ سے بھی سست رفتار ہے) اور پچھلے تین سالوں میں سست ترین شرح ہے ۔مجموعی طور پر 2015 میں سال 2014ءکی 2.9 فیصد کی حقیقی جی ڈی پی گروتھ سے گر کر 2.2فیصد رہی ۔مزید برآں آخری سہ ماہی میں معیشت صرف1.9فیصد پھیلی ،جو کہ معیشت کے سست رفتار پھیلاﺅ کی واضح علامت ہے ۔ایک اہم ترین چیز یہ کہ سلطنت متحدہ کی حقیقی جی ڈی پی بحران سے … Read more

تاریخی تناظر میں موجودہ عالمی بحران کی نوعیت اور اقتصادی صورتحال

تحریر  :  کبیر خان (حصہ اول) ہم سرمایہ دارانہ کساد بازاری کے ایک ایسے عہد سے گزر رہے ہیں جو سرمایہ داری کی عمومی اقتصادی تنزلی سے مختلف نوعیت کا حامل ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ نظام کو آج تک تین دفعہ کساد بازاری سے گزرنا پڑاہے۔ سرمایہ داری کو پہلی کساد بازاری کاسامناانیسویںصدی کی اختتامی دہائیوں (1873-97) میں کرنا پڑا دوسری کساد بازاری کا سامنا اسے بیسویں صدی کے وسط (1929-39)میں۔جبکہ تیسری کساد بازاری کے حالیہ عہد سے تاحال ہم گزر رہے ہیں۔جس کا آغاز دسمبر2007ءمیں امریکہ میں مالیاتی بحران سے ہوا ۔جو بعد ازاں پھیلتا ہوا نہ صرف دیگر شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے بلکہ ترقی یافتہ ممالک سے ہوتا ہوا اب نام نہاد ابھرتی ہوئی معیشتوں تک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔ معیشت پر گہری نگاہ رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ مارکسی ماہر اقتصادیات مائیکل رابرٹس عام معاشی زوال اور کساد … Read more