ٹرمپ کی فتح ، امریکہ میں بائیں بازوں کی طرف ایک بڑی تبدیلی کا موجب بنے گی

تحریر : پَٹ بائرن ترجمہ : الطاف بشارت نئے صدر کے لیے متنازعہ امریکی انتخابات میں جھوٹے پلیٹ فارم اور وعدوں کی ایک فرسودہ فہرست کے ساتھ ٹرمپ کی جیب کو جلد ہی ’’ایک عظیم فتح‘‘ کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ ٹرمپ کبھی بھی کسی عوامی عہدے پر فائز نہیں ہوا۔ یوں انتخابات میں کھڑا ہونے کی بنیادی شرائط کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ اس نے اپنی انتخابی صدارتی مہم ایک سپر سیلز مین کے طور پر شروع کی اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر مبالغہ آمیزی سے لیفٹ ، رائٹ اور سنٹر کے تمام تر وعدے کئے۔ لیکن سیاسی دفتر ،کسی سادہ لوح گاہک کو کوئی چیز فروخت کرنے جیسا نہیں ہے۔ جن کو کوئی سامان فروخت کیا اور پھر ان کی شکایات کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ ایک انتخاب کے بعد ووٹر آپ کا احتساب کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں، … Read more

وہ قرض جو چکا نا ہے

تحریر :۔ اسجد عظیم خان یوم تا سیس منا ئے جانے کا حقیقی مقصد اپنے مقاصد اور نظر یا ت کوپیش نظر رکھتے ہو ئے اپنے گزرے سالوں کا محاسبہ کرتے ہو ئے آمدہ سالوں کی منصوبہ بندی کرنا اور ادھورے مقاصد کی تکمیل کرنا ہو تا ہے ۔یعنی اپنی کامیابیوں اور نا کا میابیوں پر غور کے بعد آئندہ نا کامیابیوں سے بچنا اور اپنی منزل تک پہنچنا ہو تا ہے ۔پا کستا ن پیپلز پا رٹی 30نومبر کواپنے پچا سویں سال میں داخل ہو رہی ہے ۔اگرچہ یوم تا سیس پر پچا س سال تاریخ کے محاسبے کی ضرورت ہے ۔اور وہی محاسبہ اس مضمون کا موضوع بحث ہے ۔انسانی تا ریخ کے کچھ عہد سماجوں کو یکسر بدل دینے والی تحریکوں کو ابھارنے والے ہوتے ہیں ۔اوران عہدوں کے یہ تحریکی اُبھار اگر انقلابی قیادتوں کے گرد منظم ہو جائیں، اور مار کسی نظریات اور سائنسی اصولوں … Read more

کاسترو کیسے مر سکتے ہیں؟

تحریر:   مشتاق علی شان نوے سالہ جدوجہد سے بھرپور زندگی گزارنے والے فیدل کاسترو کے لیے یہ روایتی جملے لکھنا کہ ’’ وہ اب ہم میں نہیں رہے ‘‘‘ ان کے شایان شان نہیں ۔ نوے سال قبل کیوبا کے جزیرے میں پیدا ہونے والا یہ عام سا بچہ زندگی کے کسی بھی موڑ پرمر سکتا تھا لیکن وہ کاسترو کیسے مر سکتا ہے جس کی قیادت میں بیسویں صدی کے امریکی پروردہ بدترین آمروں میں سے ایک بتستا کو گوریلا جنگ کے میدان میں شکست فاش سے دوچار کیا گیا ۔ نوعِ انسانی کے پر مسرت لمحات میں سے ایک اس لمحے کے خالق کو کیسے موت آ سکتی ہے جس نے یکم جنوری 1959کو کیوبا کے افق پر سرخ پرچم لہراتے ہوئے کیوبا میں انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کے خاتمے کا اعلان کیا تھا ۔ آج فیدل کاسترو کی ’’ موت ‘‘ پر امریکی سڑکوں … Read more

ترکی: گزشتہ ہفتے کی ڈریس ریہرسل کے بعد اب ہم حقیقی بغاوت دیکھ رہےہیں

تحریر:   تائیفن ہیتپگلو ترجمہ :   کامریڈ الطاف بشارت فوجی باغی یونٹس کی طرف سے قیاس کی گئی مضحکہ خیز بغاوت کے بعد ہر گزرنے والے دن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اردگان حکومت نے ایک حقیقی بغاوت کو آپریشن میں ڈال دیا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا شعبہ بھاری مسھل (تطہیر)  کے عمل سے گزر رہا ہے۔ پہلے ہی 60،000 سے زائد ریاستی ملازمین کو گرفتار یا نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ اور کئی زیادہ لوگوں سے ان کے ساتھیوں کی طرف سے فرضی دئیے جانے والوں ناموں کی بنیاد پر تفتیش کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔ آمروں کی طرف سے بنائی جانے والی اس طرح کی تکینک  تاریخ میں ہم پہلے دیکھ چکے ہیں۔ ہٹلر نے ٹاگ (Reichstag) ،جرمنی کی پارلیمنٹ، کو جلایا اور پھر ایمرجنسی حالات کو متعارف کرانے کے لیے کیمونسٹوں پر الزام لگاتے ہوئے تمام تر ایگزیکیٹو طاقت کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ … Read more

یورپی یونین سے علیحدگی کی کچھ وجوہات اور نتائج

تحریر :  پٹ بائرن  ترجمہ : کامریڈ الطاف  یورپی یونین کو چھوڑنے کے لیے 48 کے مقابلے میں 52 فیصد غیر متوقع ووٹ نے دنیا بھر کی اشرافیہ (حکمران طبقے ) کو لرزا دیا ہے ۔وہ صرف اس لیے پریشان نہیں ہیں کہ برطانیہ یورپی یونین کو چھوڑنے کے بعد کساد بازاری میں جائے گا بلکہ باقی عالمی معیشت کو بھی سست کر دے گا۔ وہ اس بات سے بھی پریشان ہیں کہ طویل مدت میں خود یورپی یونین کی تحلیل کا آغاز ہو سکتا ہے ۔ مزیدبرآں ، ان کی پریشانی کا ایک سبب یہ بھی ہے  کہ برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلا کا  یہ ووٹ عالمی سرمایہ داروں کو مسترد کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کا عکاس اور ان کے مقابلے میں ٹرانس اٹلانٹک اورسرمایہ کاری کی شراکت کی بنیاد پر کارپوریٹ نواز تجارتی معاہدوں کا عذاب ان کا منتظر ہے جس کو بہتر طور پر ٹی … Read more

مارکس ازم یا لینن ازم ؟

تحریر :   روزا لکسمبرگ  ترجمہ:    اکرم گل حصہ دوم ابھی تک ہم نے سوشل ڈیموکریسی کے عام اصولوں اور کسی حد تک روس کے مخصوص حالات کی روشنی میں مرکزیت کے مسئلے کا جائزہ لیا ہے۔ تاہم لینن اور اس کے دوست جس ملٹری الٹرا سنٹرلزم کا شور مچا رہے ہیں وہ حادثاتی اختلافِ رائے کا نتیجہ نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ موقع پرستی کے خلاف مہم ہے جسے لینن نے معمولی تنظیمی جزیات تک گھسیٹا ہے۔ صفحہ نمبر 52 پر لینن کہتا ہے کہ ’’اہمیت اس بات کی ہے کہ موقع پرستی کے خلاف ایک کم وبیش موثر ہتھیار بنانے کی ضرورت ہے۔‘‘ اسے یقین ہے کہ موقع پرستی خاص طورپر دانشوروں کی غیر مرکزیت پسندی، بدنظمی اور بیوروکریسی کے سخت ڈسپلن، جو پارٹی چلانے کے لئے ضروری ہے، سے پہلو تہی کے رجحان سے جنم لیتی ہے۔ لینن کہتا ہے کہ دانشور سوشلسٹ تحریک … Read more

فرقہ واریت

تحریر :    انقلابی جدوجہد ضیاء الحق کے مارشل لاء نے سماج میں کئی بربادیاں پھیلائیں۔ قیدیں ٗ کوڑے ٗ پھانسیاں اور جلاوطنیاں تو اس کا معمول تھا۔ سیاست پر پابندیاں لگا کر ایک پورا عمل ہی بند کر دیا گیا۔ جس کے بعد دراصل ریاست کو خوفناک طریقے سے استعمال کیا گیا۔ مارشل لاء کی طوالت کیلئے ریاست کو بہت ہی برے انداز میں استعمال کیاگیا۔ جس سے آج تک نہ صرف پاکستان کے لوگ بلکہ پوری دنیا سے لڑنے کی کوشش کر رہاہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ملاؤں کو تمام تر شوروغوغا کے باوجود ایک بہت ہی برداشت والا سماج تھا۔ خصوصی طور پر 1968-69ء کی محنت کشوں کی انقلابی تحریک نے سماج پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے تھے۔ سماج میں جہاں فیوڈل سسٹم موجود تھا۔ ذات پات کے گہرے اثرات موجود تھےٗ وہیں پر مذہبی رواداری ٗ آرٹ ٗ کلچر ٗ شاعری ٗ ادب ٗ موسیقی … Read more

امیروں کا پیش کردہ بجٹ امیروں کے لیے

تحریر :    امجد خان کہہ رہے ہیں کہ بات حقی ہے زرد چہرے ہیں رنگ فقی ہے ہے بجٹ خود تنز لی کا بیاں یہ تنزل کی ہی ترقی ہے مملکت خداد داد پاکستان اس وقت واضع طور پر سماجی ، سیاسی ، معاشی ، مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی ، امن و امان کی خراب صورتحال، قومی سوال اور ریاستی اداروں کا آپسی ٹکراؤ جیسے تضادات سے دو چار ہے۔ جبکہ دوسری طرف خارجی طور پر جو ملک وزیرخارجہ کے بغیر خارجہ پالیسی چلا رہا ہو اوراس کے وزیر اعظم بار بار نیم امریکی دورے کرکے سمجھتے ہوں کہ وہ ایک کل وقتی وزیر خارجہ کی کمی پوری کرسکتے ہیں، اس کے نتائج وہی ہوتے ہیں جن کا آج سامنا کیا جا رہا ہے ۔ ریاست کے اندر نہ صرف ان تضادات کو حل کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے بلکہ اب تو اس کے اندر ان بحرانوں … Read more

انقلاب ایک ضرورت ایک پکار

تحریر:  کامریڈ اے اے خان مارکسی فلاسفر کارل مارکس نے انقلابات کو تاریخ کا انجن قرار دیا تھا۔اگر ہم مارکس کے اس قول کو سامنے رکھتے آج کے عہد پر غور کریں تو ایک پھر ایک سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا انجن کے بغیر ٹرین سفر جاری رکھ سکتی ہے تو عقل سلیم اس کا جواب نفی میں دیتی نظر آتی ہے ۔پھر کیاانجن کے بغیر ٹرین کو متحرک کیا جاسکتا ہے یا اُس کوحرکت دینے کے لیے بھی انجن کی ضرورت ہوتی ہے؟ جب ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر سماجی تاریخ کا انجن انقلابات ہوتے ہیں اور پھر سماجی ٹرین کو آگے بڑھانے کے لیے انجن کی ضرورت نہیں ہے یقیناًہے ۔ آج کے عہد میں انقلاب ایک ضرورت بن چکاہے۔اس نظام زر کی غلاظتوں سے نجات کی ایک پکار بن چکا ہے۔اس ساری بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے ہمیں ضرورت کو … Read more

عالمی منظر نامہ اور بائیں بازو کے رجحانات

تحریر:  انقلابی جدوجہد کامریڈز یہ تحریر بنیادی طور پر سرمایہ داری پر ایک مختلف نقطہ نظر اور مارکسزم کی ترویج کے لیے یوٹوپیائی نہیں بلکہ حقیقی بنیادوں پر کام کرنے کےلیے ایک آغاز کے طور پر ہے لازمی طور پر بہت سے لوگوں کا موقف اس میں درج موقف سے مختلف ہو گا اور یہ اس کی مضبوط تعمیر کے لیے ایک مثبت پہلو ہو گا۔  اس تحریر پر آنے والا ہر ایک مثبت ردعمل اور تنقید قابل قبول ہو گی اور اس کی بنیاد پر اس کام میں بہتر ترامیم ہوتی رہیں گی ۔ آپ تمام دوستوں کا تنقیدی موقف انتہائی ناگزیر ہے۔ تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ اس میں بنائی جانے والے اہم نقاط پر سنجیدگی سے تحیقیق کریں اور اس میں مثبت تبدیلیاں لائیں ۔ کیونکہ آپ کے ردعمل کے بغیر یہ بیکار ہو گا۔  ہماری کوئی بھی تحریر خرف آخر نہیں ہے اور نہ ہی … Read more