تم نے آنکھیں تو نوچ ڈالیں مگر۔۔۔۔۔ ایک خواب تھا جو زندہ رہا

  تحریر: کبیر خان دوسری عالمی جنگ سے پیدا ہونے والی بربادی کے ڈھیروں پر قائم ہونے والی عالمی معاشی بحالی کے اثرات کے باعث ایوبی آمریت کے دور میں پاکستان میں بھی بڑے پیمانے کی صنعت کاری اور اقتصادی ترقی میں بڑھوتری ہوئی جس سے جہاں محنت کش طبقے کے حجم میں تیزی سے اضافہ ہوا وہیں طبقاتی تفاوت اور استحصال میں بھی خوفناک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جہاں22خاندان اس ملک کے وسائل اور دولت کے وسیع حصے پر قابض تھے وہیں وسیع تر محنت کش عوام مسائل کی چکی میں خوفناک انداز میں پس رہی تھی ۔ ایوب خان اپنی آمریت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو جبر کے ذریعے کچل دیتا تھا ۔ بائیں بازو کی سیاست تو درکنار اس کا نام لینا بھی بڑا جرم تھااگر کوئی یہ جرم سرزد کرنے کی جرات کر بھی لیتا تو اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا۔ بائیں بازو … Read more

کشمیر “آزادی کا ایک ہی ڈھنگ” “طبقاتی جنگ”

    تحریر: یاسر خان قدیم اشتراکی سماج کا غلام دارانہ عہد میں بدلنا ہو یا پھر غلام داری نظام سے جاگیر دارانہ سماج کے قیام کا سفریا اسی طرح جاگیرداری کے خاتمے کے بعد سرمایہ داری کے قیام کا عمل ،اس طویل سماجی اور معاشی سفر میں جو قدر مشترک رہی وہ انسانی محنت اور شعور ہے۔ ایک طرف اشتراکی انسانی محنت کی بنیاد پہ سماجی ترقی کا عمل آگے بڑھتا رہاتو دوسری طرف انسان کے طبقاتی شعور نے سماجی تبدیلی کے عمل کو فیصلہ کن موڑ دیئے ۔ ہر سماجی عہد میں بالا دست طبقات جن کے مروجہ نظام کے ساتھ براہ راست معاشی مفادات منسلک رہے انہوں نے اس نظام کو قائم رکھنے اور اس کے خلاف ابھرنے والے طبقاتی شعور اور طبقاتی لڑائی کو کچلنے کےلئے ہر زہر قاتل کا استعمال کیا۔ انسان کی فطرت کے خلاف لڑائی ہو،آقا اور غلام کی لڑائی ہو ، جاگیردار … Read more

آزادی کے زخم

تحریر: کامریڈ الطاف بشارت 14اگست 1947کو رات 12:02 منٹ پر پاکستان کا جاگیر دار – سرمایہ دار(جو چوری اور ڈاکہ زنی سے جاگیردار اور سرمایہ دار بنا یا اپنے سامراجی آقاؤں کی دلالی کے انعام کی صورت میں) ، وحشی ملاں، جاہل پنڈت ، قومی و نسلی عصبیت کے جن ، ہندوستان کے بنیاد پرست ہندوبنیے ، وڈیرے، پروہیت ، ساہوکاراور تاجر تو آزاد ہو گئے تھے۔ مگر دونوں اطراف کا عام آدمی، مزدور، کسان ، دیہاڑی دار،ریڑھی بان ، طالب علم، بحیثیت مجموعہ محنت کش طبقہ ، غربت ، نفرت ، جہالت، تعصب ، بربریت، حوانیت و سفاکیت کی بھینٹ چڑھ گیا۔درحقیقت زمین کے گرد باڑ لگانے سے سماج کے طاقتورطبقات تو آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر وہ شعوری بدمعاشی کے ذریعے جھوٹ ، فریب دھونس ، ظلم و جبر کا سہارہ لے کر اپنے غلاموں کو آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی غلامی کے تصور کو ذہن سے … Read more

آزادی مگر کس کی؟

تحریر: کامریڈ اے اے خان آزادی کی تحریکیں دراصل معاشی محرومی سے نجات پانے کی تحریکیں ھوتی ھیں۔ معاشی محرومی دراصل اس طبقاتی تفریق کا آئینہ دار ھوتی ہیں جس کا آغاز کرہ ارض پہ پہلے انسان کی تخلیق سے ھو گیا تھا۔ جس نے آگے چل کر انسانی تاریخ کو طبقاتی تاریخ بنا دیا یعنی دنیا کی تاریخ دوطبقات کی باھمی تفاوت کی تاریخ ھے۔ جو کبھی آقا و غلام کبھی جاگیر دار اور مزارع کبھی سرمایہ دار اور مزدور کبھی حاکم اور محکوم کبھی ظالم اورمظلوم کں شکل اختیار کرتی ھے۔ برصغیر پر تاج برطانیہ کں عملداری کا آغاز ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد سے ھو گیا تھا۔ اس وقت سے ھی برصغیر کے عام محنت کشوں کے برطانوی حکمرانوں اور ھندوستانی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی جانب سے کیے جانے والے استحصال کا بھی آغاز ھوتا ہے۔ اس استحصال کے خلاف جدوجہد بھی ساتھ ساتھ چلتی ھے … Read more

آزاد کشمیرانتخابات

تحریر : کامریڈ متین آصف 21جولائی کو کشمیر میں ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حکمران جماعت نواز لیگ کی بڑے پیمانے پر کامیابی نہ صرف اکثریتی محنت کش طبقے کی زندگی میں مزید مشکلات اور تنگی کا باعث بلکہ کئی دہائیوں سے چلے آنے والے مسئلہ کشمیر پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔ کشمیری عوام کو ایک غیر سیاسی حقیقی ’جمہوری آمریت‘ میں دھکیل دیا گیا ہے۔ لازمی طور پر ان انتخابات میں دھاندلی کی کمزور سی بازگشت بھی سنائی دی، قبل از انتخاب اور بعد از پولنگ نتائج مرتب کرتے ہوئے کی جانے والی دھاندلی سے کسی طور پر بھی انکار ممکن نہیں۔ کشمیر کے انتخابات پر تحقیق کرنے والے سیاسیات کے طالبعلوں کے ایک گروپ کے مطابق: ’’اس امر سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ ہر اک حلقہ انتخاب میں 5000سے 7000غیر قانونی ووٹ کاسٹ کئے گئے ہیں۔ یہ ممکن … Read more

جولائی 5 : نظریاتی پسپائی کا سبق

تحریر :    کامریڈ اے اے خان کامریڈ  ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ ’’ گاڑی چلانے کا سب سے محفوظ طریقہ یہ ہے کہ سامنے دیکھنے کے ساتھ ساتھ بیک مرر یعنی پیچھے دیکھنے والے شیشے پر نظر مرکوز رہے ‘‘ محض سامنے دیکھنے سے ڈرائیور سامنے سے آنے والے کسی حادثے سے تو گاڑی کو بچا سکتا ہے لیکن گاڑی کوحادثہ کسی پیچھے سے آنے والے کی وجہ سے بھی پیش آ سکتا ہے۔کامریڈ ٹراٹسکی کی اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے آج ہم پاکستانی سیاسی تاریخ کے سیاہ ترین واقع 5 جولائی 1977ء کے مارشل لاء کو زیر بحث لانے اور اس کا درست تجزیہ کرنے کے لیے اس سانحے سے پہلے کے حالات کاجائزہ لینا از حد ضرور ی ہے۔ 60کی دہائی میں ایوبی آمریت کے دس سالہ دور میں سرمایہ دارانہ نظام میں ایک عارضی ابھار کے نتیجے میں پاکستان میں بھی صنعتی و معاشی … Read more

ناکام ریاست کا جنم

تحریر :    انقلابی جدوجہد قومی ریاست نے سماج کو ترقی دینے میں تاریخی طور پر بہت بڑا کردارادا کیا ہے حالانکہ قومی ریاست حکمران طبقے یا افسر شاہی کے ہاتھ میں استحصال کیلئے جبر کا سب سے بڑا اوزار بھی رہی ہے۔ لیکن اب قومی ریاست نہ صرف اپنا تاریخی کردار ادا کر چکی ہے بلکہ اپنا وجود کو بچانے کیلئے عالمی مالیاتی سرمائے کے آگے سرنگوں دکھائی دیتی ہے۔ اس لئے بہت سی قومی ریاستیں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کیلئے عجیب و غریب شکلیں اختیار کرتی جا رہی ہیں اور ان سے عجیب و غریب حرکتیں بھی سرزد ہو رہی ہیں جس طرح سرمایہ داری نظام اپنی کلاسیکی حدود قیود سے باہر نکل چکا ہے اسی طرح قومی ریاست بھی دراصل اپنی کلاسیکل حدود قیود میں رہنے سے قاصر ہے۔ لہٰذا قومی ریاستوں کو موجودہ صورتحال میں چلانا نہ صرف محال ہے بلکہ وہ کسی قسم کا … Read more

فرقہ واریت

تحریر :    انقلابی جدوجہد ضیاء الحق کے مارشل لاء نے سماج میں کئی بربادیاں پھیلائیں۔ قیدیں ٗ کوڑے ٗ پھانسیاں اور جلاوطنیاں تو اس کا معمول تھا۔ سیاست پر پابندیاں لگا کر ایک پورا عمل ہی بند کر دیا گیا۔ جس کے بعد دراصل ریاست کو خوفناک طریقے سے استعمال کیا گیا۔ مارشل لاء کی طوالت کیلئے ریاست کو بہت ہی برے انداز میں استعمال کیاگیا۔ جس سے آج تک نہ صرف پاکستان کے لوگ بلکہ پوری دنیا سے لڑنے کی کوشش کر رہاہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ملاؤں کو تمام تر شوروغوغا کے باوجود ایک بہت ہی برداشت والا سماج تھا۔ خصوصی طور پر 1968-69ء کی محنت کشوں کی انقلابی تحریک نے سماج پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے تھے۔ سماج میں جہاں فیوڈل سسٹم موجود تھا۔ ذات پات کے گہرے اثرات موجود تھےٗ وہیں پر مذہبی رواداری ٗ آرٹ ٗ کلچر ٗ شاعری ٗ ادب ٗ موسیقی … Read more

امیروں کا پیش کردہ بجٹ امیروں کے لیے

تحریر :    امجد خان کہہ رہے ہیں کہ بات حقی ہے زرد چہرے ہیں رنگ فقی ہے ہے بجٹ خود تنز لی کا بیاں یہ تنزل کی ہی ترقی ہے مملکت خداد داد پاکستان اس وقت واضع طور پر سماجی ، سیاسی ، معاشی ، مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی ، امن و امان کی خراب صورتحال، قومی سوال اور ریاستی اداروں کا آپسی ٹکراؤ جیسے تضادات سے دو چار ہے۔ جبکہ دوسری طرف خارجی طور پر جو ملک وزیرخارجہ کے بغیر خارجہ پالیسی چلا رہا ہو اوراس کے وزیر اعظم بار بار نیم امریکی دورے کرکے سمجھتے ہوں کہ وہ ایک کل وقتی وزیر خارجہ کی کمی پوری کرسکتے ہیں، اس کے نتائج وہی ہوتے ہیں جن کا آج سامنا کیا جا رہا ہے ۔ ریاست کے اندر نہ صرف ان تضادات کو حل کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے بلکہ اب تو اس کے اندر ان بحرانوں … Read more

ریاسی خلفشار

تحریر :    انقلابی جدوجہد ریاست ہائے اسلامی جمہوریہ پاکستان اس قدرآپاہج ، کمزور ، لاغر ، کرپٹ اور کھوکھلی ہو چکی ہے کہ یہ نہ صرف کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا فیصلہ نافذ کرنے کی اتھارٹی کھو چکی ہے بلکہ اب تو حالت یہ ہے کہ یہ اپنے ہر عمل میں کسی نئے بحران میں داخل ہو جاتی ہے ۔ اس کے اداروں کا آپسی ٹکراؤ شدت اختیار کر جاتا ہے ،اندرونی تضادات کھل کر منظر عام پر آجاتے ہیں ، ریاستی خلفشار اس قدر عیاں ہو جاتا ہے کہ لوگ آمریت میں کسی بڑے طوفان کی پیش گوئیاں شروع کردیتے ہیں اور جمہوری دور میں مارشلاء ان کو ہر ایونٹ پر دکھائی دینے لگتا ہے اور کچھ لوگ ہر معمولی تنازعے پر بھی گھروں اور دفاتر میں بیٹھ کر انقلاب کے پیش منظر پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں لیکن یہ بات ضرور ہے کہ ہر طرف ہلچل … Read more