کشمیر “آزادی کا ایک ہی ڈھنگ” “طبقاتی جنگ”

    تحریر: یاسر خان قدیم اشتراکی سماج کا غلام دارانہ عہد میں بدلنا ہو یا پھر غلام داری نظام سے جاگیر دارانہ سماج کے قیام کا سفریا اسی طرح جاگیرداری کے خاتمے کے بعد سرمایہ داری کے قیام کا عمل ،اس طویل سماجی اور معاشی سفر میں جو قدر مشترک رہی وہ انسانی محنت اور شعور ہے۔ ایک طرف اشتراکی انسانی محنت کی بنیاد پہ سماجی ترقی کا عمل آگے بڑھتا رہاتو دوسری طرف انسان کے طبقاتی شعور نے سماجی تبدیلی کے عمل کو فیصلہ کن موڑ دیئے ۔ ہر سماجی عہد میں بالا دست طبقات جن کے مروجہ نظام کے ساتھ براہ راست معاشی مفادات منسلک رہے انہوں نے اس نظام کو قائم رکھنے اور اس کے خلاف ابھرنے والے طبقاتی شعور اور طبقاتی لڑائی کو کچلنے کےلئے ہر زہر قاتل کا استعمال کیا۔ انسان کی فطرت کے خلاف لڑائی ہو،آقا اور غلام کی لڑائی ہو ، جاگیردار … Read more

حکمرانوں کے ناٹک اور غریبوں کی سسکیاں

اداریہ  :  انقلابی جدوجہد پاکستان اقتصادی ، سیاسی ، سماجی ، آئینی ،قانونی، اخلاقی، احساسی ، نفسیاتی ، ادبی و داخلی و خارجی پالیسی سازی اور حتٰی کہ شدید ریاستی تُنزلی، ٹوٹ پھوٹ ،خلفشار اور انتشار کا شکار ہے جہاں ملک کے اندر حکمران طبقات کو ہر نوعیت کے بحران سے نبرد آزما ہونے میں مکمل ناکامی کا سامنا ہے وہیں خارجی محاذ پر بھی ناکامی ان کا مُنہ چڑھاتی دکھائی دیتی ہے ۔ ملکی سرحدوں سے لگنے والے تین ممالک ایران، افغانستان اور ہندوستان سے سرحدوں پر شدید ٹکراؤ پایا جاتا ہے اور باقی کی کسر امریکی سامراج کے بدلتے تیور پوری کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سامراجی ڈراؤن حملوں میں ہزاروں معصوموں کی اموات پر اس ملک کے حکمرانوں نے ہمیشہ ایک مجرمانہ چپ سادھ لی ہے لیکن ملا اختر منصور کے قتل پر یہ اچانک چیخ اٹھے ہیں اور امریکی ڈراؤن حملے کو ملکی سلامتی پر حملے … Read more

ناکام ریاست کا جنم

تحریر :    انقلابی جدوجہد قومی ریاست نے سماج کو ترقی دینے میں تاریخی طور پر بہت بڑا کردارادا کیا ہے حالانکہ قومی ریاست حکمران طبقے یا افسر شاہی کے ہاتھ میں استحصال کیلئے جبر کا سب سے بڑا اوزار بھی رہی ہے۔ لیکن اب قومی ریاست نہ صرف اپنا تاریخی کردار ادا کر چکی ہے بلکہ اپنا وجود کو بچانے کیلئے عالمی مالیاتی سرمائے کے آگے سرنگوں دکھائی دیتی ہے۔ اس لئے بہت سی قومی ریاستیں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کیلئے عجیب و غریب شکلیں اختیار کرتی جا رہی ہیں اور ان سے عجیب و غریب حرکتیں بھی سرزد ہو رہی ہیں جس طرح سرمایہ داری نظام اپنی کلاسیکی حدود قیود سے باہر نکل چکا ہے اسی طرح قومی ریاست بھی دراصل اپنی کلاسیکل حدود قیود میں رہنے سے قاصر ہے۔ لہٰذا قومی ریاستوں کو موجودہ صورتحال میں چلانا نہ صرف محال ہے بلکہ وہ کسی قسم کا … Read more

فرقہ واریت

تحریر :    انقلابی جدوجہد ضیاء الحق کے مارشل لاء نے سماج میں کئی بربادیاں پھیلائیں۔ قیدیں ٗ کوڑے ٗ پھانسیاں اور جلاوطنیاں تو اس کا معمول تھا۔ سیاست پر پابندیاں لگا کر ایک پورا عمل ہی بند کر دیا گیا۔ جس کے بعد دراصل ریاست کو خوفناک طریقے سے استعمال کیا گیا۔ مارشل لاء کی طوالت کیلئے ریاست کو بہت ہی برے انداز میں استعمال کیاگیا۔ جس سے آج تک نہ صرف پاکستان کے لوگ بلکہ پوری دنیا سے لڑنے کی کوشش کر رہاہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ملاؤں کو تمام تر شوروغوغا کے باوجود ایک بہت ہی برداشت والا سماج تھا۔ خصوصی طور پر 1968-69ء کی محنت کشوں کی انقلابی تحریک نے سماج پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے تھے۔ سماج میں جہاں فیوڈل سسٹم موجود تھا۔ ذات پات کے گہرے اثرات موجود تھےٗ وہیں پر مذہبی رواداری ٗ آرٹ ٗ کلچر ٗ شاعری ٗ ادب ٗ موسیقی … Read more

امیروں کا پیش کردہ بجٹ امیروں کے لیے

تحریر :    امجد خان کہہ رہے ہیں کہ بات حقی ہے زرد چہرے ہیں رنگ فقی ہے ہے بجٹ خود تنز لی کا بیاں یہ تنزل کی ہی ترقی ہے مملکت خداد داد پاکستان اس وقت واضع طور پر سماجی ، سیاسی ، معاشی ، مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی ، امن و امان کی خراب صورتحال، قومی سوال اور ریاستی اداروں کا آپسی ٹکراؤ جیسے تضادات سے دو چار ہے۔ جبکہ دوسری طرف خارجی طور پر جو ملک وزیرخارجہ کے بغیر خارجہ پالیسی چلا رہا ہو اوراس کے وزیر اعظم بار بار نیم امریکی دورے کرکے سمجھتے ہوں کہ وہ ایک کل وقتی وزیر خارجہ کی کمی پوری کرسکتے ہیں، اس کے نتائج وہی ہوتے ہیں جن کا آج سامنا کیا جا رہا ہے ۔ ریاست کے اندر نہ صرف ان تضادات کو حل کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے بلکہ اب تو اس کے اندر ان بحرانوں … Read more

کیمونسٹ مینی فسٹو

 کیمونسٹ مینی فسٹو پی ڈی ایف میں پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں  ←  کیمونسٹ مینی فسٹو

انقلاب ایک ضرورت ایک پکار

تحریر:  کامریڈ اے اے خان مارکسی فلاسفر کارل مارکس نے انقلابات کو تاریخ کا انجن قرار دیا تھا۔اگر ہم مارکس کے اس قول کو سامنے رکھتے آج کے عہد پر غور کریں تو ایک پھر ایک سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا انجن کے بغیر ٹرین سفر جاری رکھ سکتی ہے تو عقل سلیم اس کا جواب نفی میں دیتی نظر آتی ہے ۔پھر کیاانجن کے بغیر ٹرین کو متحرک کیا جاسکتا ہے یا اُس کوحرکت دینے کے لیے بھی انجن کی ضرورت ہوتی ہے؟ جب ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر سماجی تاریخ کا انجن انقلابات ہوتے ہیں اور پھر سماجی ٹرین کو آگے بڑھانے کے لیے انجن کی ضرورت نہیں ہے یقیناًہے ۔ آج کے عہد میں انقلاب ایک ضرورت بن چکاہے۔اس نظام زر کی غلاظتوں سے نجات کی ایک پکار بن چکا ہے۔اس ساری بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے ہمیں ضرورت کو … Read more

عالمی منظر نامہ اور بائیں بازو کے رجحانات

تحریر:  انقلابی جدوجہد کامریڈز یہ تحریر بنیادی طور پر سرمایہ داری پر ایک مختلف نقطہ نظر اور مارکسزم کی ترویج کے لیے یوٹوپیائی نہیں بلکہ حقیقی بنیادوں پر کام کرنے کےلیے ایک آغاز کے طور پر ہے لازمی طور پر بہت سے لوگوں کا موقف اس میں درج موقف سے مختلف ہو گا اور یہ اس کی مضبوط تعمیر کے لیے ایک مثبت پہلو ہو گا۔  اس تحریر پر آنے والا ہر ایک مثبت ردعمل اور تنقید قابل قبول ہو گی اور اس کی بنیاد پر اس کام میں بہتر ترامیم ہوتی رہیں گی ۔ آپ تمام دوستوں کا تنقیدی موقف انتہائی ناگزیر ہے۔ تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ اس میں بنائی جانے والے اہم نقاط پر سنجیدگی سے تحیقیق کریں اور اس میں مثبت تبدیلیاں لائیں ۔ کیونکہ آپ کے ردعمل کے بغیر یہ بیکار ہو گا۔  ہماری کوئی بھی تحریر خرف آخر نہیں ہے اور نہ ہی … Read more

ایک دن کے منصفانہ کام کے لیے ایک دن کی منصفانہ اجرت

تحریر: فریڈرک اینگلز یہ مقولہ انگریز مزدور تحریک گذشتہ پچاس برس سے اپنائے ہوئے ہے۔ جب رسوائے زمانہ قوانینِ اجتماع 1824ءمیں منسوخ کر دیئے گئے (برطانیہ میں اس سے قبل مزدور یونین کی تشکیل اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی تھی) اور ٹریڈ یونینیں ابھرنے لگیں تو اس وقت یہ مقولہ مفید ثابت ہوا تھا اور عظیم الشان چارٹسٹ تحریک (جو 19ویں صدی میں برطانوی مزدوروں کی عام انقلابی تحریک تھی) کے زمانے میں یہ اور بھی زیادہ مفید ثابت ہوا جب انگریز مزدور یورپ کے مزدور طبقے کے شانہ بشانہ تھے۔ لیکن وقت تبدیل ہوتا ہے۔ چنانچہ بہت سی چیزیں جو پچاس برس پہلے یا حتیٰ کہ تیس برس پہلے بھی پسندیدہ اور ضروری تھیں اب دقیانوسی ہو گئی ہیں اور بالکل بے تکی۔ کیا یہ پرانا اور قدیم اصولی قول بھی اسی زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ ایک دن کے منصفانہ کام کے لئے ایک دن … Read more

تفکر کی بیداری

کتاب :       “فلسفہ کیا ہے ؟”۔ سے اقتباس  مصنف :      گالینا کیریلنکو   اور    لیدیا کور شونوا ظاہر ہے کہ روز مرہ زندگی کے عام سوالوں پر غور و فکر کرنے کے لئے دنیا کے بارے میں کچھ نہ کچھ کم سے کم علم ہونا ضروری ہے جس سے غور فکر کے لئے غذا ملتی ہے۔ صدیوں بلکہ ہزاروں سال تک انسانیت کے ”حافظے“ میں سورج گرہن اور دریاﺅں میں سیلاب آنے کے اسباب کے بارے میں الگ الگ مشاہدے جمع ہوتے رہے، زندگی کے جنم لینے اور فی الحقیقت اس کے ناپید ہو جانے کے اسباب کے بارے میں، جسم انسانی کی ساخت کے بارے میں قیاسات پیدا ہوتے رہے۔ لیکن قدیم دنیا کے انسان میں بہت دنوں تک یہ صلاحیت موجود نہ تھی کہ وہ الگ الگ حقیقتوں کی تعمیم کر سکے۔ چیزوں کے متعلق عام تصورات کی تشکیل کرنے کے لئے … Read more