مارکس ازم یا لینن ازم ؟

تحریر :   روزا لکسمبرگ  ترجمہ:    اکرم گل حصہ دوم ابھی تک ہم نے سوشل ڈیموکریسی کے عام اصولوں اور کسی حد تک روس کے مخصوص حالات کی روشنی میں مرکزیت کے مسئلے کا جائزہ لیا ہے۔ تاہم لینن اور اس کے دوست جس ملٹری الٹرا سنٹرلزم کا شور مچا رہے ہیں وہ حادثاتی اختلافِ رائے کا نتیجہ نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ موقع پرستی کے خلاف مہم ہے جسے لینن نے معمولی تنظیمی جزیات تک گھسیٹا ہے۔ صفحہ نمبر 52 پر لینن کہتا ہے کہ ’’اہمیت اس بات کی ہے کہ موقع پرستی کے خلاف ایک کم وبیش موثر ہتھیار بنانے کی ضرورت ہے۔‘‘ اسے یقین ہے کہ موقع پرستی خاص طورپر دانشوروں کی غیر مرکزیت پسندی، بدنظمی اور بیوروکریسی کے سخت ڈسپلن، جو پارٹی چلانے کے لئے ضروری ہے، سے پہلو تہی کے رجحان سے جنم لیتی ہے۔ لینن کہتا ہے کہ دانشور سوشلسٹ تحریک … Read more

لینن ازم یا مارکس ازم؟

تحریر :  روزالکسمبرگ  مترجم :   اکرم گل حصہ اول سوشلسٹ تحریک کی تاریخ میں روسی سوشل ڈیموکریسی کے کاندھوں پر ایک بے نظیر ذمہ داری آن پڑی ہے۔ اسے فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ایک ایسے ملک میں بہترین سوشلسٹ (حربے، حکمت عملی ) پالیسی کون سی ہو سکتی ہے جہاں مطلق العنانیت ابھی تک غالب ہے۔ موجودہ روسی صورتِ حال کا موازنہ جرمنی کی 1879 – 90 کے دوران کی صورتِ حال سے کرنا غلط ہو گا جب بسمارک کے سوشلزم مخالف قوانین لاگو تھے۔ دونوں میں ایک قدرِ مشترک ضرور ہے اور وہ ہے پولیس کی حکمرانی۔ وگرنہ ان کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوری آزادیوں کی عدم موجودگی کے سبب سوشلسٹ تحریک کو جن رکاوٹوں کا سامنا ہے ان کی حیثیت ثانوی ہے۔ روس میں بھی عوامی تحریک ریاست کی طرف سے کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں کو عبور کرنے میں کامیاب … Read more

فرقہ واریت

تحریر :    انقلابی جدوجہد ضیاء الحق کے مارشل لاء نے سماج میں کئی بربادیاں پھیلائیں۔ قیدیں ٗ کوڑے ٗ پھانسیاں اور جلاوطنیاں تو اس کا معمول تھا۔ سیاست پر پابندیاں لگا کر ایک پورا عمل ہی بند کر دیا گیا۔ جس کے بعد دراصل ریاست کو خوفناک طریقے سے استعمال کیا گیا۔ مارشل لاء کی طوالت کیلئے ریاست کو بہت ہی برے انداز میں استعمال کیاگیا۔ جس سے آج تک نہ صرف پاکستان کے لوگ بلکہ پوری دنیا سے لڑنے کی کوشش کر رہاہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ملاؤں کو تمام تر شوروغوغا کے باوجود ایک بہت ہی برداشت والا سماج تھا۔ خصوصی طور پر 1968-69ء کی محنت کشوں کی انقلابی تحریک نے سماج پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے تھے۔ سماج میں جہاں فیوڈل سسٹم موجود تھا۔ ذات پات کے گہرے اثرات موجود تھےٗ وہیں پر مذہبی رواداری ٗ آرٹ ٗ کلچر ٗ شاعری ٗ ادب ٗ موسیقی … Read more

انقلاب ایک ضرورت ایک پکار

تحریر:  کامریڈ اے اے خان مارکسی فلاسفر کارل مارکس نے انقلابات کو تاریخ کا انجن قرار دیا تھا۔اگر ہم مارکس کے اس قول کو سامنے رکھتے آج کے عہد پر غور کریں تو ایک پھر ایک سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا انجن کے بغیر ٹرین سفر جاری رکھ سکتی ہے تو عقل سلیم اس کا جواب نفی میں دیتی نظر آتی ہے ۔پھر کیاانجن کے بغیر ٹرین کو متحرک کیا جاسکتا ہے یا اُس کوحرکت دینے کے لیے بھی انجن کی ضرورت ہوتی ہے؟ جب ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر سماجی تاریخ کا انجن انقلابات ہوتے ہیں اور پھر سماجی ٹرین کو آگے بڑھانے کے لیے انجن کی ضرورت نہیں ہے یقیناًہے ۔ آج کے عہد میں انقلاب ایک ضرورت بن چکاہے۔اس نظام زر کی غلاظتوں سے نجات کی ایک پکار بن چکا ہے۔اس ساری بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے ہمیں ضرورت کو … Read more

عالمی منظر نامہ اور بائیں بازو کے رجحانات

تحریر:  انقلابی جدوجہد کامریڈز یہ تحریر بنیادی طور پر سرمایہ داری پر ایک مختلف نقطہ نظر اور مارکسزم کی ترویج کے لیے یوٹوپیائی نہیں بلکہ حقیقی بنیادوں پر کام کرنے کےلیے ایک آغاز کے طور پر ہے لازمی طور پر بہت سے لوگوں کا موقف اس میں درج موقف سے مختلف ہو گا اور یہ اس کی مضبوط تعمیر کے لیے ایک مثبت پہلو ہو گا۔  اس تحریر پر آنے والا ہر ایک مثبت ردعمل اور تنقید قابل قبول ہو گی اور اس کی بنیاد پر اس کام میں بہتر ترامیم ہوتی رہیں گی ۔ آپ تمام دوستوں کا تنقیدی موقف انتہائی ناگزیر ہے۔ تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ اس میں بنائی جانے والے اہم نقاط پر سنجیدگی سے تحیقیق کریں اور اس میں مثبت تبدیلیاں لائیں ۔ کیونکہ آپ کے ردعمل کے بغیر یہ بیکار ہو گا۔  ہماری کوئی بھی تحریر خرف آخر نہیں ہے اور نہ ہی … Read more

خاندان

اقتباس “خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغآز”   مصنف:      فریڈرک اینگلز  مارگن نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایروکواس لوگوں میں گزارا، جو آج بھی ریاست نےو یارک میں رہتے ہیں۔ انہیں کے ایک قبیلے (سینیکا)نے اسے اپنا لیا تھا۔ مارگن نے ایک عجیب و غریب چیز یہ دیکھی کہ ان لوگوں میں قرابت داری کا جو نظام قائم ہے اس میں اور ان کے اصلی خاندانی تعلقات میں تضاد ہے۔ ان میں عام طور پر یہ رواج تھا کہ ایک ایک جوڑا آپس میں شادی کرتا تھا اور فرقین میں سے کوئی بھی آسانی کے ساتھ اس رشتے کو توڑ سکتا تھا۔ مارگن اس کو “جوڑا خاندان” کہتا تھا۔ ایسے شادی شدہ جوڑے کی اولاد کو سبھی جانتے اور مانتے تھے اور کسی کو اس میں شبہ نہیں ہو سکتا تھا کہ باپ ، ماں ، بیٹا ، بیٹی ، بھائی اور بہن کس کو کہا … Read more

تفکر کی بیداری

کتاب :       “فلسفہ کیا ہے ؟”۔ سے اقتباس  مصنف :      گالینا کیریلنکو   اور    لیدیا کور شونوا ظاہر ہے کہ روز مرہ زندگی کے عام سوالوں پر غور و فکر کرنے کے لئے دنیا کے بارے میں کچھ نہ کچھ کم سے کم علم ہونا ضروری ہے جس سے غور فکر کے لئے غذا ملتی ہے۔ صدیوں بلکہ ہزاروں سال تک انسانیت کے ”حافظے“ میں سورج گرہن اور دریاﺅں میں سیلاب آنے کے اسباب کے بارے میں الگ الگ مشاہدے جمع ہوتے رہے، زندگی کے جنم لینے اور فی الحقیقت اس کے ناپید ہو جانے کے اسباب کے بارے میں، جسم انسانی کی ساخت کے بارے میں قیاسات پیدا ہوتے رہے۔ لیکن قدیم دنیا کے انسان میں بہت دنوں تک یہ صلاحیت موجود نہ تھی کہ وہ الگ الگ حقیقتوں کی تعمیم کر سکے۔ چیزوں کے متعلق عام تصورات کی تشکیل کرنے کے لئے … Read more