آزادی کے زخم

تحریر: کامریڈ الطاف بشارت 14اگست 1947کو رات 12:02 منٹ پر پاکستان کا جاگیر دار – سرمایہ دار(جو چوری اور ڈاکہ زنی سے جاگیردار اور سرمایہ دار بنا یا اپنے سامراجی آقاؤں کی دلالی کے انعام کی صورت میں) ، وحشی ملاں، جاہل پنڈت ، قومی و نسلی عصبیت کے جن ، ہندوستان کے بنیاد پرست ہندوبنیے ، وڈیرے، پروہیت ، ساہوکاراور تاجر تو آزاد ہو گئے تھے۔ مگر دونوں اطراف کا عام آدمی، مزدور، کسان ، دیہاڑی دار،ریڑھی بان ، طالب علم، بحیثیت مجموعہ محنت کش طبقہ ، غربت ، نفرت ، جہالت، تعصب ، بربریت، حوانیت و سفاکیت کی بھینٹ چڑھ گیا۔درحقیقت زمین کے گرد باڑ لگانے سے سماج کے طاقتورطبقات تو آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر وہ شعوری بدمعاشی کے ذریعے جھوٹ ، فریب دھونس ، ظلم و جبر کا سہارہ لے کر اپنے غلاموں کو آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی غلامی کے تصور کو ذہن سے … Read more

حکمرانوں کے ناٹک اور غریبوں کی سسکیاں

اداریہ  :  انقلابی جدوجہد پاکستان اقتصادی ، سیاسی ، سماجی ، آئینی ،قانونی، اخلاقی، احساسی ، نفسیاتی ، ادبی و داخلی و خارجی پالیسی سازی اور حتٰی کہ شدید ریاستی تُنزلی، ٹوٹ پھوٹ ،خلفشار اور انتشار کا شکار ہے جہاں ملک کے اندر حکمران طبقات کو ہر نوعیت کے بحران سے نبرد آزما ہونے میں مکمل ناکامی کا سامنا ہے وہیں خارجی محاذ پر بھی ناکامی ان کا مُنہ چڑھاتی دکھائی دیتی ہے ۔ ملکی سرحدوں سے لگنے والے تین ممالک ایران، افغانستان اور ہندوستان سے سرحدوں پر شدید ٹکراؤ پایا جاتا ہے اور باقی کی کسر امریکی سامراج کے بدلتے تیور پوری کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سامراجی ڈراؤن حملوں میں ہزاروں معصوموں کی اموات پر اس ملک کے حکمرانوں نے ہمیشہ ایک مجرمانہ چپ سادھ لی ہے لیکن ملا اختر منصور کے قتل پر یہ اچانک چیخ اٹھے ہیں اور امریکی ڈراؤن حملے کو ملکی سلامتی پر حملے … Read more

امیروں کا پیش کردہ بجٹ امیروں کے لیے

تحریر :    امجد خان کہہ رہے ہیں کہ بات حقی ہے زرد چہرے ہیں رنگ فقی ہے ہے بجٹ خود تنز لی کا بیاں یہ تنزل کی ہی ترقی ہے مملکت خداد داد پاکستان اس وقت واضع طور پر سماجی ، سیاسی ، معاشی ، مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی ، امن و امان کی خراب صورتحال، قومی سوال اور ریاستی اداروں کا آپسی ٹکراؤ جیسے تضادات سے دو چار ہے۔ جبکہ دوسری طرف خارجی طور پر جو ملک وزیرخارجہ کے بغیر خارجہ پالیسی چلا رہا ہو اوراس کے وزیر اعظم بار بار نیم امریکی دورے کرکے سمجھتے ہوں کہ وہ ایک کل وقتی وزیر خارجہ کی کمی پوری کرسکتے ہیں، اس کے نتائج وہی ہوتے ہیں جن کا آج سامنا کیا جا رہا ہے ۔ ریاست کے اندر نہ صرف ان تضادات کو حل کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے بلکہ اب تو اس کے اندر ان بحرانوں … Read more

ریاسی خلفشار

تحریر :    انقلابی جدوجہد ریاست ہائے اسلامی جمہوریہ پاکستان اس قدرآپاہج ، کمزور ، لاغر ، کرپٹ اور کھوکھلی ہو چکی ہے کہ یہ نہ صرف کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا فیصلہ نافذ کرنے کی اتھارٹی کھو چکی ہے بلکہ اب تو حالت یہ ہے کہ یہ اپنے ہر عمل میں کسی نئے بحران میں داخل ہو جاتی ہے ۔ اس کے اداروں کا آپسی ٹکراؤ شدت اختیار کر جاتا ہے ،اندرونی تضادات کھل کر منظر عام پر آجاتے ہیں ، ریاستی خلفشار اس قدر عیاں ہو جاتا ہے کہ لوگ آمریت میں کسی بڑے طوفان کی پیش گوئیاں شروع کردیتے ہیں اور جمہوری دور میں مارشلاء ان کو ہر ایونٹ پر دکھائی دینے لگتا ہے اور کچھ لوگ ہر معمولی تنازعے پر بھی گھروں اور دفاتر میں بیٹھ کر انقلاب کے پیش منظر پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں لیکن یہ بات ضرور ہے کہ ہر طرف ہلچل … Read more