انقلاب ایک ضرورت ایک پکار

تحریر:  کامریڈ اے اے خان مارکسی فلاسفر کارل مارکس نے انقلابات کو تاریخ کا انجن قرار دیا تھا۔اگر ہم مارکس کے اس قول کو سامنے رکھتے آج کے عہد پر غور کریں تو ایک پھر ایک سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا انجن کے بغیر ٹرین سفر جاری رکھ سکتی ہے تو عقل سلیم اس کا جواب نفی میں دیتی نظر آتی ہے ۔پھر کیاانجن کے بغیر ٹرین کو متحرک کیا جاسکتا ہے یا اُس کوحرکت دینے کے لیے بھی انجن کی ضرورت ہوتی ہے؟ جب ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر سماجی تاریخ کا انجن انقلابات ہوتے ہیں اور پھر سماجی ٹرین کو آگے بڑھانے کے لیے انجن کی ضرورت نہیں ہے یقیناًہے ۔ آج کے عہد میں انقلاب ایک ضرورت بن چکاہے۔اس نظام زر کی غلاظتوں سے نجات کی ایک پکار بن چکا ہے۔اس ساری بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے ہمیں ضرورت کو … Read more

عالمی منظر نامہ اور بائیں بازو کے رجحانات

تحریر:  انقلابی جدوجہد کامریڈز یہ تحریر بنیادی طور پر سرمایہ داری پر ایک مختلف نقطہ نظر اور مارکسزم کی ترویج کے لیے یوٹوپیائی نہیں بلکہ حقیقی بنیادوں پر کام کرنے کےلیے ایک آغاز کے طور پر ہے لازمی طور پر بہت سے لوگوں کا موقف اس میں درج موقف سے مختلف ہو گا اور یہ اس کی مضبوط تعمیر کے لیے ایک مثبت پہلو ہو گا۔  اس تحریر پر آنے والا ہر ایک مثبت ردعمل اور تنقید قابل قبول ہو گی اور اس کی بنیاد پر اس کام میں بہتر ترامیم ہوتی رہیں گی ۔ آپ تمام دوستوں کا تنقیدی موقف انتہائی ناگزیر ہے۔ تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ اس میں بنائی جانے والے اہم نقاط پر سنجیدگی سے تحیقیق کریں اور اس میں مثبت تبدیلیاں لائیں ۔ کیونکہ آپ کے ردعمل کے بغیر یہ بیکار ہو گا۔  ہماری کوئی بھی تحریر خرف آخر نہیں ہے اور نہ ہی … Read more

تاریخی تناظر میں موجودہ عالمی بحران کی نوعیت اور اقتصادی صورتحال

تحریر  :  کبیر خان (حصہ اول) ہم سرمایہ دارانہ کساد بازاری کے ایک ایسے عہد سے گزر رہے ہیں جو سرمایہ داری کی عمومی اقتصادی تنزلی سے مختلف نوعیت کا حامل ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ نظام کو آج تک تین دفعہ کساد بازاری سے گزرنا پڑاہے۔ سرمایہ داری کو پہلی کساد بازاری کاسامناانیسویںصدی کی اختتامی دہائیوں (1873-97) میں کرنا پڑا دوسری کساد بازاری کا سامنا اسے بیسویں صدی کے وسط (1929-39)میں۔جبکہ تیسری کساد بازاری کے حالیہ عہد سے تاحال ہم گزر رہے ہیں۔جس کا آغاز دسمبر2007ءمیں امریکہ میں مالیاتی بحران سے ہوا ۔جو بعد ازاں پھیلتا ہوا نہ صرف دیگر شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے بلکہ ترقی یافتہ ممالک سے ہوتا ہوا اب نام نہاد ابھرتی ہوئی معیشتوں تک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔ معیشت پر گہری نگاہ رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ مارکسی ماہر اقتصادیات مائیکل رابرٹس عام معاشی زوال اور کساد … Read more