فرقہ واریت

تحریر :    انقلابی جدوجہد ضیاء الحق کے مارشل لاء نے سماج میں کئی بربادیاں پھیلائیں۔ قیدیں ٗ کوڑے ٗ پھانسیاں اور جلاوطنیاں تو اس کا معمول تھا۔ سیاست پر پابندیاں لگا کر ایک پورا عمل ہی بند کر دیا گیا۔ جس کے بعد دراصل ریاست کو خوفناک طریقے سے استعمال کیا گیا۔ مارشل لاء کی طوالت کیلئے ریاست کو بہت ہی برے انداز میں استعمال کیاگیا۔ جس سے آج تک نہ صرف پاکستان کے لوگ بلکہ پوری دنیا سے لڑنے کی کوشش کر رہاہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ملاؤں کو تمام تر شوروغوغا کے باوجود ایک بہت ہی برداشت والا سماج تھا۔ خصوصی طور پر 1968-69ء کی محنت کشوں کی انقلابی تحریک نے سماج پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے تھے۔ سماج میں جہاں فیوڈل سسٹم موجود تھا۔ ذات پات کے گہرے اثرات موجود تھےٗ وہیں پر مذہبی رواداری ٗ آرٹ ٗ کلچر ٗ شاعری ٗ ادب ٗ موسیقی … Read more

خاندان

اقتباس “خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغآز”   مصنف:      فریڈرک اینگلز  مارگن نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایروکواس لوگوں میں گزارا، جو آج بھی ریاست نےو یارک میں رہتے ہیں۔ انہیں کے ایک قبیلے (سینیکا)نے اسے اپنا لیا تھا۔ مارگن نے ایک عجیب و غریب چیز یہ دیکھی کہ ان لوگوں میں قرابت داری کا جو نظام قائم ہے اس میں اور ان کے اصلی خاندانی تعلقات میں تضاد ہے۔ ان میں عام طور پر یہ رواج تھا کہ ایک ایک جوڑا آپس میں شادی کرتا تھا اور فرقین میں سے کوئی بھی آسانی کے ساتھ اس رشتے کو توڑ سکتا تھا۔ مارگن اس کو “جوڑا خاندان” کہتا تھا۔ ایسے شادی شدہ جوڑے کی اولاد کو سبھی جانتے اور مانتے تھے اور کسی کو اس میں شبہ نہیں ہو سکتا تھا کہ باپ ، ماں ، بیٹا ، بیٹی ، بھائی اور بہن کس کو کہا … Read more

دہشت گردی

تحریر:  انقلابی جدوجہد پاکستان دہشت گردی میں نا صرف خود کیفل ہے بلکہ یہ یہاںاسقدر وافر ہو گئی ہے کہ اس کو برآمد بھی کرتا ہے ۔ اس وقت ملک میں ریاستی دہشت گردی ، انفرادی دہشت گردی ، مذہبی دہشت گردی ، فرقہ وارانہ دہشت گردی ، لسانی دہشت گردی ،علاقائی دہشت گردی اور قومتی بنیادوں پر دہشت گردی سمیت تمام اقسام بدرجہ اتم موجود ہیں۔جو نہ صرف بڑھتی چلی جا رہی ہیں بلکہ ان کی صورتحال اسقدر پیچیدہ بھی ہو گئی ہے کہ اس کو کسی سیدھی لکیر میں سمجھ کر اس کا تجزیہ کرنا اس سے بھی پیچیدہ عمل ہو گیا ہے ۔ گزشتہ چندبرسوں میں اس قدر خون ریزی ہوئی ہے کہ جب بھی انسان اس کو دیکھتا ہے تو ورطہ حیرت میں گم ہو جاتا ہے کہ کیا یہ وہی ملک ہے جو جنرل ضیاءسے قبل تھا اور دوسرا یہ کہ اس کو پیدا کرنے والے … Read more