ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور

پاکستانی ریاست عالمی سامراجی قوتوں کی ایک ایسی آلہ کار ریاست ہے جسے سامراجی قوتوں نے اس کے جنم سے لیکر آج تک جب اور جہاں چاہا،ہمیشہ اپنے سامراجی مقاصد کیلئے بھرپور انداز سے استعمال کیا ہے ۔اس ریاست پر براجمان حکمران طبقے نے بھی سامراجی طاقتوں کے سامنے خود کو استعمال ہونے کیلئے ہمیشہ پیش پیش رکھاہے۔27اپریل1978 کو نور محمد ترکئی کی قیادت میں برپا ہونے والے افغان ثور انقلاب کو سبوتاژ کرنے کی غرض سے امریکہ، سعودی عرب اور پاکستان نے ملکر افغانستان میں ڈالر اور ریال جہاد کا آغاز کردیااور مجاہدین کے نام سے بنیاد پرستوں کو نہ صرف تخلیق کیا گیا بلکہ انہیں امریکی حکمرانوں کی طرف سے یہ بتایا گیا کہ یہ خدا کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان ایک مقدس جنگ ہے۔ سرمائے کے پوجاریوں نے سرمایہ دارانہ نظام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ایک مقدس اتحاد قائم کر لیا جس … Read more

آزادی کے زخم

تحریر: کامریڈ الطاف بشارت 14اگست 1947کو رات 12:02 منٹ پر پاکستان کا جاگیر دار – سرمایہ دار(جو چوری اور ڈاکہ زنی سے جاگیردار اور سرمایہ دار بنا یا اپنے سامراجی آقاؤں کی دلالی کے انعام کی صورت میں) ، وحشی ملاں، جاہل پنڈت ، قومی و نسلی عصبیت کے جن ، ہندوستان کے بنیاد پرست ہندوبنیے ، وڈیرے، پروہیت ، ساہوکاراور تاجر تو آزاد ہو گئے تھے۔ مگر دونوں اطراف کا عام آدمی، مزدور، کسان ، دیہاڑی دار،ریڑھی بان ، طالب علم، بحیثیت مجموعہ محنت کش طبقہ ، غربت ، نفرت ، جہالت، تعصب ، بربریت، حوانیت و سفاکیت کی بھینٹ چڑھ گیا۔درحقیقت زمین کے گرد باڑ لگانے سے سماج کے طاقتورطبقات تو آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر وہ شعوری بدمعاشی کے ذریعے جھوٹ ، فریب دھونس ، ظلم و جبر کا سہارہ لے کر اپنے غلاموں کو آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی غلامی کے تصور کو ذہن سے … Read more

حکمرانوں کے ناٹک اور غریبوں کی سسکیاں

اداریہ  :  انقلابی جدوجہد پاکستان اقتصادی ، سیاسی ، سماجی ، آئینی ،قانونی، اخلاقی، احساسی ، نفسیاتی ، ادبی و داخلی و خارجی پالیسی سازی اور حتٰی کہ شدید ریاستی تُنزلی، ٹوٹ پھوٹ ،خلفشار اور انتشار کا شکار ہے جہاں ملک کے اندر حکمران طبقات کو ہر نوعیت کے بحران سے نبرد آزما ہونے میں مکمل ناکامی کا سامنا ہے وہیں خارجی محاذ پر بھی ناکامی ان کا مُنہ چڑھاتی دکھائی دیتی ہے ۔ ملکی سرحدوں سے لگنے والے تین ممالک ایران، افغانستان اور ہندوستان سے سرحدوں پر شدید ٹکراؤ پایا جاتا ہے اور باقی کی کسر امریکی سامراج کے بدلتے تیور پوری کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سامراجی ڈراؤن حملوں میں ہزاروں معصوموں کی اموات پر اس ملک کے حکمرانوں نے ہمیشہ ایک مجرمانہ چپ سادھ لی ہے لیکن ملا اختر منصور کے قتل پر یہ اچانک چیخ اٹھے ہیں اور امریکی ڈراؤن حملے کو ملکی سلامتی پر حملے … Read more

فرقہ واریت

تحریر :    انقلابی جدوجہد ضیاء الحق کے مارشل لاء نے سماج میں کئی بربادیاں پھیلائیں۔ قیدیں ٗ کوڑے ٗ پھانسیاں اور جلاوطنیاں تو اس کا معمول تھا۔ سیاست پر پابندیاں لگا کر ایک پورا عمل ہی بند کر دیا گیا۔ جس کے بعد دراصل ریاست کو خوفناک طریقے سے استعمال کیا گیا۔ مارشل لاء کی طوالت کیلئے ریاست کو بہت ہی برے انداز میں استعمال کیاگیا۔ جس سے آج تک نہ صرف پاکستان کے لوگ بلکہ پوری دنیا سے لڑنے کی کوشش کر رہاہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ملاؤں کو تمام تر شوروغوغا کے باوجود ایک بہت ہی برداشت والا سماج تھا۔ خصوصی طور پر 1968-69ء کی محنت کشوں کی انقلابی تحریک نے سماج پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے تھے۔ سماج میں جہاں فیوڈل سسٹم موجود تھا۔ ذات پات کے گہرے اثرات موجود تھےٗ وہیں پر مذہبی رواداری ٗ آرٹ ٗ کلچر ٗ شاعری ٗ ادب ٗ موسیقی … Read more

امیروں کا پیش کردہ بجٹ امیروں کے لیے

تحریر :    امجد خان کہہ رہے ہیں کہ بات حقی ہے زرد چہرے ہیں رنگ فقی ہے ہے بجٹ خود تنز لی کا بیاں یہ تنزل کی ہی ترقی ہے مملکت خداد داد پاکستان اس وقت واضع طور پر سماجی ، سیاسی ، معاشی ، مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی ، امن و امان کی خراب صورتحال، قومی سوال اور ریاستی اداروں کا آپسی ٹکراؤ جیسے تضادات سے دو چار ہے۔ جبکہ دوسری طرف خارجی طور پر جو ملک وزیرخارجہ کے بغیر خارجہ پالیسی چلا رہا ہو اوراس کے وزیر اعظم بار بار نیم امریکی دورے کرکے سمجھتے ہوں کہ وہ ایک کل وقتی وزیر خارجہ کی کمی پوری کرسکتے ہیں، اس کے نتائج وہی ہوتے ہیں جن کا آج سامنا کیا جا رہا ہے ۔ ریاست کے اندر نہ صرف ان تضادات کو حل کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے بلکہ اب تو اس کے اندر ان بحرانوں … Read more

عالمی منظر نامہ اور بائیں بازو کے رجحانات

تحریر:  انقلابی جدوجہد کامریڈز یہ تحریر بنیادی طور پر سرمایہ داری پر ایک مختلف نقطہ نظر اور مارکسزم کی ترویج کے لیے یوٹوپیائی نہیں بلکہ حقیقی بنیادوں پر کام کرنے کےلیے ایک آغاز کے طور پر ہے لازمی طور پر بہت سے لوگوں کا موقف اس میں درج موقف سے مختلف ہو گا اور یہ اس کی مضبوط تعمیر کے لیے ایک مثبت پہلو ہو گا۔  اس تحریر پر آنے والا ہر ایک مثبت ردعمل اور تنقید قابل قبول ہو گی اور اس کی بنیاد پر اس کام میں بہتر ترامیم ہوتی رہیں گی ۔ آپ تمام دوستوں کا تنقیدی موقف انتہائی ناگزیر ہے۔ تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ اس میں بنائی جانے والے اہم نقاط پر سنجیدگی سے تحیقیق کریں اور اس میں مثبت تبدیلیاں لائیں ۔ کیونکہ آپ کے ردعمل کے بغیر یہ بیکار ہو گا۔  ہماری کوئی بھی تحریر خرف آخر نہیں ہے اور نہ ہی … Read more

استحصال

تحریر: پٹ بائرن ترجمہ : کامریڈ اے اے خان استحصال کا تصور وسعت اختیا ر کر رہا ہے۔ جب سوشلسٹ نیٹ ورک کو تخلیق کیا گیاتھا تو اس نے عالمی مزدور تحریک میں ایک نئے سوشلسٹ منشور کو زیر بحث لانے کو اپنا بنیادی حدف بنایا تھا ۔تب سے ہم کچھ خیالات کی دستاویزات تیار کر چکے ہیں ۔ جو بلا شبہ اس منشور کی ریڑھ کی ہڈی بنیں گے۔پٹ بائرن کایہ مضمون منشور پر بحث میں شاندار اضافہ ہے۔ سوشلسٹ تحریک کی سرمایہ داری پر تاریخی تنقید (اس کا تنقیدی نقطہ نظر) بلا شبہ بہت طاقتور ہے لیکن میں یہ تجویز کروں گا کہ کچھ بہت اہم پہلووں سے یہ تنقید محدود اور تنگ سی ہے ،جس کی وجہ سے یہ اتنی موثر نہیں جتنی کہ ہونی چاہیے ۔اس محدودیت نے ہمارے سرمایہ داری کے متبادل ہونے کی صداقت کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ تحریک کی تعمیر کے … Read more

دہشت گردی

تحریر:  انقلابی جدوجہد پاکستان دہشت گردی میں نا صرف خود کیفل ہے بلکہ یہ یہاںاسقدر وافر ہو گئی ہے کہ اس کو برآمد بھی کرتا ہے ۔ اس وقت ملک میں ریاستی دہشت گردی ، انفرادی دہشت گردی ، مذہبی دہشت گردی ، فرقہ وارانہ دہشت گردی ، لسانی دہشت گردی ،علاقائی دہشت گردی اور قومتی بنیادوں پر دہشت گردی سمیت تمام اقسام بدرجہ اتم موجود ہیں۔جو نہ صرف بڑھتی چلی جا رہی ہیں بلکہ ان کی صورتحال اسقدر پیچیدہ بھی ہو گئی ہے کہ اس کو کسی سیدھی لکیر میں سمجھ کر اس کا تجزیہ کرنا اس سے بھی پیچیدہ عمل ہو گیا ہے ۔ گزشتہ چندبرسوں میں اس قدر خون ریزی ہوئی ہے کہ جب بھی انسان اس کو دیکھتا ہے تو ورطہ حیرت میں گم ہو جاتا ہے کہ کیا یہ وہی ملک ہے جو جنرل ضیاءسے قبل تھا اور دوسرا یہ کہ اس کو پیدا کرنے والے … Read more

انسانی سماج کی تنظیم و ترقی

تحریر: انقلابی جدوجہد  انسانی سماج کی تشکیل محض کسی حادثے کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ بنی نوع انسان نے ایک مسلسل عمل ، مشترکہ جدوجہد ، اجتماعی تجربات اور ٹھوس مادی و معاشی بنیادیں فراہم کرتے ہوئے ایک لمبے تاریخی سفر کے ذریعےیہاں لا کھڑا کیا ہے ۔ انسانی سماج نے جہاں ترقی کی بہت ساری منازل طے کی ہیں وہاں پر انسانی ارتقاء کے بہت سارے مدارج بھی طے کئے ہیں۔ انسان کا اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر اپنے ہاتھوں کو آزاد کر لینا ، انسانی ترقی کی اس معراج تک پہنچنے کے لیے انسانی ہاتھ کی ساخت اور محنت جس نے بعد میں انسانی ذہن کو جلا بخشی اور اس کی جسمانی کمزوری کا بہت بڑا عمل دخل ہے ۔ اگر ہم پتھر کے ابتدائی دور کے آلات دیکھیں اور پھر مختلف انسانی تہذیبوں کی ترقی کے ارتقاء کا جائزہ لیتے ہوئے یہاں تک پہنچیں جہاں انسان … Read more