مودی سرکار، ہارورڈ نہیں

تحریر :مائیکل رابرٹس ترجمہ: کامریڈ الطاف یہ لگتا ہے کہ گزشتہ ہفتے کلیدی بھارتی ریاستوں میں بی جے پی کی بھاری فتح نے نریندر مودی کی حکمرانی کو تقویت بخشی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی سرمایہ دارنہ جمہوریت میں مودی کی ہندوقوم پرست بے جی پی نے بھارت میں سب سے زیادہ آبادی والی 220ملین ووٹرز کی ریاست میں بھاری اکثریت سے میدان صاف کیا۔ صرف 40فیصد ووٹ سے بھی کم لیتے ہوئے 403میں سے 312نشستیں اپنے نام کیں،2014 کے انتخابات سے کچھ کم جن میں مودی نے 30سال میں پہلی بڑی پارلیمانی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اسی طرح اترپردیش کے انتخابی نتائج نے 1977کے بعد پہلی بار کسی ریاست میں کسی پارٹی،بی جے پی، کو اتنی بھاری اکثریت دی ہے۔ مودی کی بے جے پی اب ہندوستانیوں کی 30فیصد آباد والی ریاست کی حکمرانی کی سربراہ مقرر ہوئی ہے۔ جبکہ کانگریس، جس نے آزادی کے بعد … Read more

برطانوی انخلا کے اثرات

تحریر :      مائیکل رابرٹ ترجمہ :   کامریڈ الطاف     ٹھیک ،میں نے اس کو غلط سمجھا۔ میرا خیال تھا کہ برطانوی عوام یورپی یونین میں رہنے کے لیے ووٹ کریں گے۔اس کے برعکس انہوں نے تنگ نظری سے یورپی یونین سے باہر نکلنے کے لیے ووٹ کر دیا۔گزشتہ عام انتخابات مئی 2015 کے ٹرن آؤٹ( 67 فیصد) کے مقابلے میں یہ ٹرن آوٹ( 72 فیصد )بہت زیادہ ہے ۔ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کس طرح مشکوک اندازمیں صرف 12 نشستوں کی ایک چھوٹی سی اکثریت کے ساتھ دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں اقتدار میں آئی۔وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے یورپی یونین کی رکنیت پر ریفرنڈم کروانے کے پر زور نعرے کی بنیاد پر یہ سب کچھ حاصل کیا تھا۔ اس سب نے یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی( یو کے آئی پی ) کے بڑھتے ہوئی ووٹ کو شدید متاثر کیا تھا، جس نے انتخابات … Read more

حکمرانوں کے ناٹک اور غریبوں کی سسکیاں

اداریہ  :  انقلابی جدوجہد پاکستان اقتصادی ، سیاسی ، سماجی ، آئینی ،قانونی، اخلاقی، احساسی ، نفسیاتی ، ادبی و داخلی و خارجی پالیسی سازی اور حتٰی کہ شدید ریاستی تُنزلی، ٹوٹ پھوٹ ،خلفشار اور انتشار کا شکار ہے جہاں ملک کے اندر حکمران طبقات کو ہر نوعیت کے بحران سے نبرد آزما ہونے میں مکمل ناکامی کا سامنا ہے وہیں خارجی محاذ پر بھی ناکامی ان کا مُنہ چڑھاتی دکھائی دیتی ہے ۔ ملکی سرحدوں سے لگنے والے تین ممالک ایران، افغانستان اور ہندوستان سے سرحدوں پر شدید ٹکراؤ پایا جاتا ہے اور باقی کی کسر امریکی سامراج کے بدلتے تیور پوری کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سامراجی ڈراؤن حملوں میں ہزاروں معصوموں کی اموات پر اس ملک کے حکمرانوں نے ہمیشہ ایک مجرمانہ چپ سادھ لی ہے لیکن ملا اختر منصور کے قتل پر یہ اچانک چیخ اٹھے ہیں اور امریکی ڈراؤن حملے کو ملکی سلامتی پر حملے … Read more

امیروں کا پیش کردہ بجٹ امیروں کے لیے

تحریر :    امجد خان کہہ رہے ہیں کہ بات حقی ہے زرد چہرے ہیں رنگ فقی ہے ہے بجٹ خود تنز لی کا بیاں یہ تنزل کی ہی ترقی ہے مملکت خداد داد پاکستان اس وقت واضع طور پر سماجی ، سیاسی ، معاشی ، مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی ، امن و امان کی خراب صورتحال، قومی سوال اور ریاستی اداروں کا آپسی ٹکراؤ جیسے تضادات سے دو چار ہے۔ جبکہ دوسری طرف خارجی طور پر جو ملک وزیرخارجہ کے بغیر خارجہ پالیسی چلا رہا ہو اوراس کے وزیر اعظم بار بار نیم امریکی دورے کرکے سمجھتے ہوں کہ وہ ایک کل وقتی وزیر خارجہ کی کمی پوری کرسکتے ہیں، اس کے نتائج وہی ہوتے ہیں جن کا آج سامنا کیا جا رہا ہے ۔ ریاست کے اندر نہ صرف ان تضادات کو حل کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے بلکہ اب تو اس کے اندر ان بحرانوں … Read more

انقلاب ایک ضرورت ایک پکار

تحریر:  کامریڈ اے اے خان مارکسی فلاسفر کارل مارکس نے انقلابات کو تاریخ کا انجن قرار دیا تھا۔اگر ہم مارکس کے اس قول کو سامنے رکھتے آج کے عہد پر غور کریں تو ایک پھر ایک سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا انجن کے بغیر ٹرین سفر جاری رکھ سکتی ہے تو عقل سلیم اس کا جواب نفی میں دیتی نظر آتی ہے ۔پھر کیاانجن کے بغیر ٹرین کو متحرک کیا جاسکتا ہے یا اُس کوحرکت دینے کے لیے بھی انجن کی ضرورت ہوتی ہے؟ جب ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر سماجی تاریخ کا انجن انقلابات ہوتے ہیں اور پھر سماجی ٹرین کو آگے بڑھانے کے لیے انجن کی ضرورت نہیں ہے یقیناًہے ۔ آج کے عہد میں انقلاب ایک ضرورت بن چکاہے۔اس نظام زر کی غلاظتوں سے نجات کی ایک پکار بن چکا ہے۔اس ساری بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے ہمیں ضرورت کو … Read more

عالمی منظر نامہ اور بائیں بازو کے رجحانات

تحریر:  انقلابی جدوجہد کامریڈز یہ تحریر بنیادی طور پر سرمایہ داری پر ایک مختلف نقطہ نظر اور مارکسزم کی ترویج کے لیے یوٹوپیائی نہیں بلکہ حقیقی بنیادوں پر کام کرنے کےلیے ایک آغاز کے طور پر ہے لازمی طور پر بہت سے لوگوں کا موقف اس میں درج موقف سے مختلف ہو گا اور یہ اس کی مضبوط تعمیر کے لیے ایک مثبت پہلو ہو گا۔  اس تحریر پر آنے والا ہر ایک مثبت ردعمل اور تنقید قابل قبول ہو گی اور اس کی بنیاد پر اس کام میں بہتر ترامیم ہوتی رہیں گی ۔ آپ تمام دوستوں کا تنقیدی موقف انتہائی ناگزیر ہے۔ تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ اس میں بنائی جانے والے اہم نقاط پر سنجیدگی سے تحیقیق کریں اور اس میں مثبت تبدیلیاں لائیں ۔ کیونکہ آپ کے ردعمل کے بغیر یہ بیکار ہو گا۔  ہماری کوئی بھی تحریر خرف آخر نہیں ہے اور نہ ہی … Read more

تاریخی تناظر میں موجودہ عالمی بحران کی نوعیت اور اقتصادی صورتحال

تحریر  :  کبیر خان (حصہ اول) ہم سرمایہ دارانہ کساد بازاری کے ایک ایسے عہد سے گزر رہے ہیں جو سرمایہ داری کی عمومی اقتصادی تنزلی سے مختلف نوعیت کا حامل ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ نظام کو آج تک تین دفعہ کساد بازاری سے گزرنا پڑاہے۔ سرمایہ داری کو پہلی کساد بازاری کاسامناانیسویںصدی کی اختتامی دہائیوں (1873-97) میں کرنا پڑا دوسری کساد بازاری کا سامنا اسے بیسویں صدی کے وسط (1929-39)میں۔جبکہ تیسری کساد بازاری کے حالیہ عہد سے تاحال ہم گزر رہے ہیں۔جس کا آغاز دسمبر2007ءمیں امریکہ میں مالیاتی بحران سے ہوا ۔جو بعد ازاں پھیلتا ہوا نہ صرف دیگر شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے بلکہ ترقی یافتہ ممالک سے ہوتا ہوا اب نام نہاد ابھرتی ہوئی معیشتوں تک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔ معیشت پر گہری نگاہ رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ مارکسی ماہر اقتصادیات مائیکل رابرٹس عام معاشی زوال اور کساد … Read more