فرقہ واریت

تحریر :    انقلابی جدوجہد ضیاء الحق کے مارشل لاء نے سماج میں کئی بربادیاں پھیلائیں۔ قیدیں ٗ کوڑے ٗ پھانسیاں اور جلاوطنیاں تو اس کا معمول تھا۔ سیاست پر پابندیاں لگا کر ایک پورا عمل ہی بند کر دیا گیا۔ جس کے بعد دراصل ریاست کو خوفناک طریقے سے استعمال کیا گیا۔ مارشل لاء کی طوالت کیلئے ریاست کو بہت ہی برے انداز میں استعمال کیاگیا۔ جس سے آج تک نہ صرف پاکستان کے لوگ بلکہ پوری دنیا سے لڑنے کی کوشش کر رہاہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ملاؤں کو تمام تر شوروغوغا کے باوجود ایک بہت ہی برداشت والا سماج تھا۔ خصوصی طور پر 1968-69ء کی محنت کشوں کی انقلابی تحریک نے سماج پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے تھے۔ سماج میں جہاں فیوڈل سسٹم موجود تھا۔ ذات پات کے گہرے اثرات موجود تھےٗ وہیں پر مذہبی رواداری ٗ آرٹ ٗ کلچر ٗ شاعری ٗ ادب ٗ موسیقی … Read more

ریاسی خلفشار

تحریر :    انقلابی جدوجہد ریاست ہائے اسلامی جمہوریہ پاکستان اس قدرآپاہج ، کمزور ، لاغر ، کرپٹ اور کھوکھلی ہو چکی ہے کہ یہ نہ صرف کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا فیصلہ نافذ کرنے کی اتھارٹی کھو چکی ہے بلکہ اب تو حالت یہ ہے کہ یہ اپنے ہر عمل میں کسی نئے بحران میں داخل ہو جاتی ہے ۔ اس کے اداروں کا آپسی ٹکراؤ شدت اختیار کر جاتا ہے ،اندرونی تضادات کھل کر منظر عام پر آجاتے ہیں ، ریاستی خلفشار اس قدر عیاں ہو جاتا ہے کہ لوگ آمریت میں کسی بڑے طوفان کی پیش گوئیاں شروع کردیتے ہیں اور جمہوری دور میں مارشلاء ان کو ہر ایونٹ پر دکھائی دینے لگتا ہے اور کچھ لوگ ہر معمولی تنازعے پر بھی گھروں اور دفاتر میں بیٹھ کر انقلاب کے پیش منظر پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں لیکن یہ بات ضرور ہے کہ ہر طرف ہلچل … Read more

انقلاب ایک ضرورت ایک پکار

تحریر:  کامریڈ اے اے خان مارکسی فلاسفر کارل مارکس نے انقلابات کو تاریخ کا انجن قرار دیا تھا۔اگر ہم مارکس کے اس قول کو سامنے رکھتے آج کے عہد پر غور کریں تو ایک پھر ایک سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا انجن کے بغیر ٹرین سفر جاری رکھ سکتی ہے تو عقل سلیم اس کا جواب نفی میں دیتی نظر آتی ہے ۔پھر کیاانجن کے بغیر ٹرین کو متحرک کیا جاسکتا ہے یا اُس کوحرکت دینے کے لیے بھی انجن کی ضرورت ہوتی ہے؟ جب ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر سماجی تاریخ کا انجن انقلابات ہوتے ہیں اور پھر سماجی ٹرین کو آگے بڑھانے کے لیے انجن کی ضرورت نہیں ہے یقیناًہے ۔ آج کے عہد میں انقلاب ایک ضرورت بن چکاہے۔اس نظام زر کی غلاظتوں سے نجات کی ایک پکار بن چکا ہے۔اس ساری بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے ہمیں ضرورت کو … Read more

ایک دن کے منصفانہ کام کے لیے ایک دن کی منصفانہ اجرت

تحریر: فریڈرک اینگلز یہ مقولہ انگریز مزدور تحریک گذشتہ پچاس برس سے اپنائے ہوئے ہے۔ جب رسوائے زمانہ قوانینِ اجتماع 1824ءمیں منسوخ کر دیئے گئے (برطانیہ میں اس سے قبل مزدور یونین کی تشکیل اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی تھی) اور ٹریڈ یونینیں ابھرنے لگیں تو اس وقت یہ مقولہ مفید ثابت ہوا تھا اور عظیم الشان چارٹسٹ تحریک (جو 19ویں صدی میں برطانوی مزدوروں کی عام انقلابی تحریک تھی) کے زمانے میں یہ اور بھی زیادہ مفید ثابت ہوا جب انگریز مزدور یورپ کے مزدور طبقے کے شانہ بشانہ تھے۔ لیکن وقت تبدیل ہوتا ہے۔ چنانچہ بہت سی چیزیں جو پچاس برس پہلے یا حتیٰ کہ تیس برس پہلے بھی پسندیدہ اور ضروری تھیں اب دقیانوسی ہو گئی ہیں اور بالکل بے تکی۔ کیا یہ پرانا اور قدیم اصولی قول بھی اسی زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے؟ ایک دن کے منصفانہ کام کے لئے ایک دن … Read more

استحصال

تحریر: پٹ بائرن ترجمہ : کامریڈ اے اے خان استحصال کا تصور وسعت اختیا ر کر رہا ہے۔ جب سوشلسٹ نیٹ ورک کو تخلیق کیا گیاتھا تو اس نے عالمی مزدور تحریک میں ایک نئے سوشلسٹ منشور کو زیر بحث لانے کو اپنا بنیادی حدف بنایا تھا ۔تب سے ہم کچھ خیالات کی دستاویزات تیار کر چکے ہیں ۔ جو بلا شبہ اس منشور کی ریڑھ کی ہڈی بنیں گے۔پٹ بائرن کایہ مضمون منشور پر بحث میں شاندار اضافہ ہے۔ سوشلسٹ تحریک کی سرمایہ داری پر تاریخی تنقید (اس کا تنقیدی نقطہ نظر) بلا شبہ بہت طاقتور ہے لیکن میں یہ تجویز کروں گا کہ کچھ بہت اہم پہلووں سے یہ تنقید محدود اور تنگ سی ہے ،جس کی وجہ سے یہ اتنی موثر نہیں جتنی کہ ہونی چاہیے ۔اس محدودیت نے ہمارے سرمایہ داری کے متبادل ہونے کی صداقت کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ تحریک کی تعمیر کے … Read more