پی 2 پی اور مارکسزم – پرانی نوع کی موت

تحریر:  جوناتھن کلائن ترجمہ : کامریڈ مبشر بشر کسی بھی سماجی تبدیلی کے عمل کا تقاضہ ہے کہ اس کو سمجھنے کے لیے ان نئے مظاہر کا ادراک کیا جائے جن سے اس تبدیلی کے وقوع پزیر ہونے کا ایک اشارہ بھی مل سکے۔ پیداواری عمل کا ایک نیا رجحان P 2 P کا ہے۔ جس میں رضا کارانہ تعاون کی بنیاد پر مصنوعات کی آزادانہ تقسیم عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس ویب سائٹ پر گزشتہ بحث کی بنیاد ایک دوسری بحث میں شرکت کا موجب بنی۔  P 2 P تحریک پر یوٹوپیائی تحریک کا الزام لگایا گیا۔ یہ سچ ہے کہ تحریک میں کچھ دور کے اور سہانے خیالات کا عنصر پایا جاتا ہے (جیسا کہ کسی بھی تحریک میں ہوتا ہے) مگر اس تحریک پر یوٹوپیا کا الزام لگانا مضحکہ خیز ہے۔ جو گزشتہ دس سے پندرہ سالوں سے دن دگنی اور رات چگنی ترقی کر رہی … Read more

حکمرانوں کے ناٹک اور غریبوں کی سسکیاں

اداریہ  :  انقلابی جدوجہد پاکستان اقتصادی ، سیاسی ، سماجی ، آئینی ،قانونی، اخلاقی، احساسی ، نفسیاتی ، ادبی و داخلی و خارجی پالیسی سازی اور حتٰی کہ شدید ریاستی تُنزلی، ٹوٹ پھوٹ ،خلفشار اور انتشار کا شکار ہے جہاں ملک کے اندر حکمران طبقات کو ہر نوعیت کے بحران سے نبرد آزما ہونے میں مکمل ناکامی کا سامنا ہے وہیں خارجی محاذ پر بھی ناکامی ان کا مُنہ چڑھاتی دکھائی دیتی ہے ۔ ملکی سرحدوں سے لگنے والے تین ممالک ایران، افغانستان اور ہندوستان سے سرحدوں پر شدید ٹکراؤ پایا جاتا ہے اور باقی کی کسر امریکی سامراج کے بدلتے تیور پوری کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سامراجی ڈراؤن حملوں میں ہزاروں معصوموں کی اموات پر اس ملک کے حکمرانوں نے ہمیشہ ایک مجرمانہ چپ سادھ لی ہے لیکن ملا اختر منصور کے قتل پر یہ اچانک چیخ اٹھے ہیں اور امریکی ڈراؤن حملے کو ملکی سلامتی پر حملے … Read more

انقلاب ایک ضرورت ایک پکار

تحریر:  کامریڈ اے اے خان مارکسی فلاسفر کارل مارکس نے انقلابات کو تاریخ کا انجن قرار دیا تھا۔اگر ہم مارکس کے اس قول کو سامنے رکھتے آج کے عہد پر غور کریں تو ایک پھر ایک سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا انجن کے بغیر ٹرین سفر جاری رکھ سکتی ہے تو عقل سلیم اس کا جواب نفی میں دیتی نظر آتی ہے ۔پھر کیاانجن کے بغیر ٹرین کو متحرک کیا جاسکتا ہے یا اُس کوحرکت دینے کے لیے بھی انجن کی ضرورت ہوتی ہے؟ جب ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر سماجی تاریخ کا انجن انقلابات ہوتے ہیں اور پھر سماجی ٹرین کو آگے بڑھانے کے لیے انجن کی ضرورت نہیں ہے یقیناًہے ۔ آج کے عہد میں انقلاب ایک ضرورت بن چکاہے۔اس نظام زر کی غلاظتوں سے نجات کی ایک پکار بن چکا ہے۔اس ساری بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے ہمیں ضرورت کو … Read more

خاندان

اقتباس “خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغآز”   مصنف:      فریڈرک اینگلز  مارگن نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایروکواس لوگوں میں گزارا، جو آج بھی ریاست نےو یارک میں رہتے ہیں۔ انہیں کے ایک قبیلے (سینیکا)نے اسے اپنا لیا تھا۔ مارگن نے ایک عجیب و غریب چیز یہ دیکھی کہ ان لوگوں میں قرابت داری کا جو نظام قائم ہے اس میں اور ان کے اصلی خاندانی تعلقات میں تضاد ہے۔ ان میں عام طور پر یہ رواج تھا کہ ایک ایک جوڑا آپس میں شادی کرتا تھا اور فرقین میں سے کوئی بھی آسانی کے ساتھ اس رشتے کو توڑ سکتا تھا۔ مارگن اس کو “جوڑا خاندان” کہتا تھا۔ ایسے شادی شدہ جوڑے کی اولاد کو سبھی جانتے اور مانتے تھے اور کسی کو اس میں شبہ نہیں ہو سکتا تھا کہ باپ ، ماں ، بیٹا ، بیٹی ، بھائی اور بہن کس کو کہا … Read more

تفکر کی بیداری

کتاب :       “فلسفہ کیا ہے ؟”۔ سے اقتباس  مصنف :      گالینا کیریلنکو   اور    لیدیا کور شونوا ظاہر ہے کہ روز مرہ زندگی کے عام سوالوں پر غور و فکر کرنے کے لئے دنیا کے بارے میں کچھ نہ کچھ کم سے کم علم ہونا ضروری ہے جس سے غور فکر کے لئے غذا ملتی ہے۔ صدیوں بلکہ ہزاروں سال تک انسانیت کے ”حافظے“ میں سورج گرہن اور دریاﺅں میں سیلاب آنے کے اسباب کے بارے میں الگ الگ مشاہدے جمع ہوتے رہے، زندگی کے جنم لینے اور فی الحقیقت اس کے ناپید ہو جانے کے اسباب کے بارے میں، جسم انسانی کی ساخت کے بارے میں قیاسات پیدا ہوتے رہے۔ لیکن قدیم دنیا کے انسان میں بہت دنوں تک یہ صلاحیت موجود نہ تھی کہ وہ الگ الگ حقیقتوں کی تعمیم کر سکے۔ چیزوں کے متعلق عام تصورات کی تشکیل کرنے کے لئے … Read more