حکمرانوں کے ناٹک اور غریبوں کی سسکیاں

اداریہ  :  انقلابی جدوجہد پاکستان اقتصادی ، سیاسی ، سماجی ، آئینی ،قانونی، اخلاقی، احساسی ، نفسیاتی ، ادبی و داخلی و خارجی پالیسی سازی اور حتٰی کہ شدید ریاستی تُنزلی، ٹوٹ پھوٹ ،خلفشار اور انتشار کا شکار ہے جہاں ملک کے اندر حکمران طبقات کو ہر نوعیت کے بحران سے نبرد آزما ہونے میں مکمل ناکامی کا سامنا ہے وہیں خارجی محاذ پر بھی ناکامی ان کا مُنہ چڑھاتی دکھائی دیتی ہے ۔ ملکی سرحدوں سے لگنے والے تین ممالک ایران، افغانستان اور ہندوستان سے سرحدوں پر شدید ٹکراؤ پایا جاتا ہے اور باقی کی کسر امریکی سامراج کے بدلتے تیور پوری کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سامراجی ڈراؤن حملوں میں ہزاروں معصوموں کی اموات پر اس ملک کے حکمرانوں نے ہمیشہ ایک مجرمانہ چپ سادھ لی ہے لیکن ملا اختر منصور کے قتل پر یہ اچانک چیخ اٹھے ہیں اور امریکی ڈراؤن حملے کو ملکی سلامتی پر حملے … Read more

تاریخی تناظر میں موجودہ عالمی بحران کی نوعیت اور اقتصادی صورتحال

تحریر  :  کبیر خان (حصہ اول) ہم سرمایہ دارانہ کساد بازاری کے ایک ایسے عہد سے گزر رہے ہیں جو سرمایہ داری کی عمومی اقتصادی تنزلی سے مختلف نوعیت کا حامل ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ نظام کو آج تک تین دفعہ کساد بازاری سے گزرنا پڑاہے۔ سرمایہ داری کو پہلی کساد بازاری کاسامناانیسویںصدی کی اختتامی دہائیوں (1873-97) میں کرنا پڑا دوسری کساد بازاری کا سامنا اسے بیسویں صدی کے وسط (1929-39)میں۔جبکہ تیسری کساد بازاری کے حالیہ عہد سے تاحال ہم گزر رہے ہیں۔جس کا آغاز دسمبر2007ءمیں امریکہ میں مالیاتی بحران سے ہوا ۔جو بعد ازاں پھیلتا ہوا نہ صرف دیگر شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے بلکہ ترقی یافتہ ممالک سے ہوتا ہوا اب نام نہاد ابھرتی ہوئی معیشتوں تک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔ معیشت پر گہری نگاہ رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ مارکسی ماہر اقتصادیات مائیکل رابرٹس عام معاشی زوال اور کساد … Read more