ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور

پاکستانی ریاست عالمی سامراجی قوتوں کی ایک ایسی آلہ کار ریاست ہے جسے سامراجی قوتوں نے اس کے جنم سے لیکر آج تک جب اور جہاں چاہا،ہمیشہ اپنے سامراجی مقاصد کیلئے بھرپور انداز سے استعمال کیا ہے ۔اس ریاست پر براجمان حکمران طبقے نے بھی سامراجی طاقتوں کے سامنے خود کو استعمال ہونے کیلئے ہمیشہ پیش پیش رکھاہے۔27اپریل1978 کو نور محمد ترکئی کی قیادت میں برپا ہونے والے افغان ثور انقلاب کو سبوتاژ کرنے کی غرض سے امریکہ، سعودی عرب اور پاکستان نے ملکر افغانستان میں ڈالر اور ریال جہاد کا آغاز کردیااور مجاہدین کے نام سے بنیاد پرستوں کو نہ صرف تخلیق کیا گیا بلکہ انہیں امریکی حکمرانوں کی طرف سے یہ بتایا گیا کہ یہ خدا کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان ایک مقدس جنگ ہے۔ سرمائے کے پوجاریوں نے سرمایہ دارانہ نظام کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ایک مقدس اتحاد قائم کر لیا جس … Read more

حکمرانوں کے ناٹک اور غریبوں کی سسکیاں

اداریہ  :  انقلابی جدوجہد پاکستان اقتصادی ، سیاسی ، سماجی ، آئینی ،قانونی، اخلاقی، احساسی ، نفسیاتی ، ادبی و داخلی و خارجی پالیسی سازی اور حتٰی کہ شدید ریاستی تُنزلی، ٹوٹ پھوٹ ،خلفشار اور انتشار کا شکار ہے جہاں ملک کے اندر حکمران طبقات کو ہر نوعیت کے بحران سے نبرد آزما ہونے میں مکمل ناکامی کا سامنا ہے وہیں خارجی محاذ پر بھی ناکامی ان کا مُنہ چڑھاتی دکھائی دیتی ہے ۔ ملکی سرحدوں سے لگنے والے تین ممالک ایران، افغانستان اور ہندوستان سے سرحدوں پر شدید ٹکراؤ پایا جاتا ہے اور باقی کی کسر امریکی سامراج کے بدلتے تیور پوری کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سامراجی ڈراؤن حملوں میں ہزاروں معصوموں کی اموات پر اس ملک کے حکمرانوں نے ہمیشہ ایک مجرمانہ چپ سادھ لی ہے لیکن ملا اختر منصور کے قتل پر یہ اچانک چیخ اٹھے ہیں اور امریکی ڈراؤن حملے کو ملکی سلامتی پر حملے … Read more

ناکام ریاست کا جنم

تحریر :    انقلابی جدوجہد قومی ریاست نے سماج کو ترقی دینے میں تاریخی طور پر بہت بڑا کردارادا کیا ہے حالانکہ قومی ریاست حکمران طبقے یا افسر شاہی کے ہاتھ میں استحصال کیلئے جبر کا سب سے بڑا اوزار بھی رہی ہے۔ لیکن اب قومی ریاست نہ صرف اپنا تاریخی کردار ادا کر چکی ہے بلکہ اپنا وجود کو بچانے کیلئے عالمی مالیاتی سرمائے کے آگے سرنگوں دکھائی دیتی ہے۔ اس لئے بہت سی قومی ریاستیں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کیلئے عجیب و غریب شکلیں اختیار کرتی جا رہی ہیں اور ان سے عجیب و غریب حرکتیں بھی سرزد ہو رہی ہیں جس طرح سرمایہ داری نظام اپنی کلاسیکی حدود قیود سے باہر نکل چکا ہے اسی طرح قومی ریاست بھی دراصل اپنی کلاسیکل حدود قیود میں رہنے سے قاصر ہے۔ لہٰذا قومی ریاستوں کو موجودہ صورتحال میں چلانا نہ صرف محال ہے بلکہ وہ کسی قسم کا … Read more

تفکر کی بیداری

کتاب :       “فلسفہ کیا ہے ؟”۔ سے اقتباس  مصنف :      گالینا کیریلنکو   اور    لیدیا کور شونوا ظاہر ہے کہ روز مرہ زندگی کے عام سوالوں پر غور و فکر کرنے کے لئے دنیا کے بارے میں کچھ نہ کچھ کم سے کم علم ہونا ضروری ہے جس سے غور فکر کے لئے غذا ملتی ہے۔ صدیوں بلکہ ہزاروں سال تک انسانیت کے ”حافظے“ میں سورج گرہن اور دریاﺅں میں سیلاب آنے کے اسباب کے بارے میں الگ الگ مشاہدے جمع ہوتے رہے، زندگی کے جنم لینے اور فی الحقیقت اس کے ناپید ہو جانے کے اسباب کے بارے میں، جسم انسانی کی ساخت کے بارے میں قیاسات پیدا ہوتے رہے۔ لیکن قدیم دنیا کے انسان میں بہت دنوں تک یہ صلاحیت موجود نہ تھی کہ وہ الگ الگ حقیقتوں کی تعمیم کر سکے۔ چیزوں کے متعلق عام تصورات کی تشکیل کرنے کے لئے … Read more

انسانی سماج کی تنظیم و ترقی

تحریر: انقلابی جدوجہد  انسانی سماج کی تشکیل محض کسی حادثے کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ بنی نوع انسان نے ایک مسلسل عمل ، مشترکہ جدوجہد ، اجتماعی تجربات اور ٹھوس مادی و معاشی بنیادیں فراہم کرتے ہوئے ایک لمبے تاریخی سفر کے ذریعےیہاں لا کھڑا کیا ہے ۔ انسانی سماج نے جہاں ترقی کی بہت ساری منازل طے کی ہیں وہاں پر انسانی ارتقاء کے بہت سارے مدارج بھی طے کئے ہیں۔ انسان کا اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر اپنے ہاتھوں کو آزاد کر لینا ، انسانی ترقی کی اس معراج تک پہنچنے کے لیے انسانی ہاتھ کی ساخت اور محنت جس نے بعد میں انسانی ذہن کو جلا بخشی اور اس کی جسمانی کمزوری کا بہت بڑا عمل دخل ہے ۔ اگر ہم پتھر کے ابتدائی دور کے آلات دیکھیں اور پھر مختلف انسانی تہذیبوں کی ترقی کے ارتقاء کا جائزہ لیتے ہوئے یہاں تک پہنچیں جہاں انسان … Read more