عالمی منظر نامہ اور بائیں بازو کے رجحانات

تحریر:  انقلابی جدوجہد کامریڈز یہ تحریر بنیادی طور پر سرمایہ داری پر ایک مختلف نقطہ نظر اور مارکسزم کی ترویج کے لیے یوٹوپیائی نہیں بلکہ حقیقی بنیادوں پر کام کرنے کےلیے ایک آغاز کے طور پر ہے لازمی طور پر بہت سے لوگوں کا موقف اس میں درج موقف سے مختلف ہو گا اور یہ اس کی مضبوط تعمیر کے لیے ایک مثبت پہلو ہو گا۔  اس تحریر پر آنے والا ہر ایک مثبت ردعمل اور تنقید قابل قبول ہو گی اور اس کی بنیاد پر اس کام میں بہتر ترامیم ہوتی رہیں گی ۔ آپ تمام دوستوں کا تنقیدی موقف انتہائی ناگزیر ہے۔ تمام ساتھیوں سے گزارش ہے کہ اس میں بنائی جانے والے اہم نقاط پر سنجیدگی سے تحیقیق کریں اور اس میں مثبت تبدیلیاں لائیں ۔ کیونکہ آپ کے ردعمل کے بغیر یہ بیکار ہو گا۔  ہماری کوئی بھی تحریر خرف آخر نہیں ہے اور نہ ہی … Read more

دہشت گردی

تحریر:  انقلابی جدوجہد پاکستان دہشت گردی میں نا صرف خود کیفل ہے بلکہ یہ یہاںاسقدر وافر ہو گئی ہے کہ اس کو برآمد بھی کرتا ہے ۔ اس وقت ملک میں ریاستی دہشت گردی ، انفرادی دہشت گردی ، مذہبی دہشت گردی ، فرقہ وارانہ دہشت گردی ، لسانی دہشت گردی ،علاقائی دہشت گردی اور قومتی بنیادوں پر دہشت گردی سمیت تمام اقسام بدرجہ اتم موجود ہیں۔جو نہ صرف بڑھتی چلی جا رہی ہیں بلکہ ان کی صورتحال اسقدر پیچیدہ بھی ہو گئی ہے کہ اس کو کسی سیدھی لکیر میں سمجھ کر اس کا تجزیہ کرنا اس سے بھی پیچیدہ عمل ہو گیا ہے ۔ گزشتہ چندبرسوں میں اس قدر خون ریزی ہوئی ہے کہ جب بھی انسان اس کو دیکھتا ہے تو ورطہ حیرت میں گم ہو جاتا ہے کہ کیا یہ وہی ملک ہے جو جنرل ضیاءسے قبل تھا اور دوسرا یہ کہ اس کو پیدا کرنے والے … Read more

تاریخی تناظر میں موجودہ عالمی بحران کی نوعیت اور اقتصادی صورتحال

تحریر  :  کبیر خان (حصہ اول) ہم سرمایہ دارانہ کساد بازاری کے ایک ایسے عہد سے گزر رہے ہیں جو سرمایہ داری کی عمومی اقتصادی تنزلی سے مختلف نوعیت کا حامل ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ نظام کو آج تک تین دفعہ کساد بازاری سے گزرنا پڑاہے۔ سرمایہ داری کو پہلی کساد بازاری کاسامناانیسویںصدی کی اختتامی دہائیوں (1873-97) میں کرنا پڑا دوسری کساد بازاری کا سامنا اسے بیسویں صدی کے وسط (1929-39)میں۔جبکہ تیسری کساد بازاری کے حالیہ عہد سے تاحال ہم گزر رہے ہیں۔جس کا آغاز دسمبر2007ءمیں امریکہ میں مالیاتی بحران سے ہوا ۔جو بعد ازاں پھیلتا ہوا نہ صرف دیگر شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے بلکہ ترقی یافتہ ممالک سے ہوتا ہوا اب نام نہاد ابھرتی ہوئی معیشتوں تک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔ معیشت پر گہری نگاہ رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ مارکسی ماہر اقتصادیات مائیکل رابرٹس عام معاشی زوال اور کساد … Read more